08:54 am
پاکستانی تھیٹر کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟

پاکستانی تھیٹر کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟

08:54 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)جس طرح دورِ حاضر میں والدین ، بچوں ، ماں ، باپ ، دوست ، خواتین ، امن ، بھائی چارے اور ایسے بہت سے عنوانات پر مبنی دن منائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح دُنیا بھرمیں تھیٹر کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے جسے منانے کا مقصد تھیٹر پر ہونے والے ڈرامے، رقص اور موسیقی کے ذریعے دنیا بھر میں نظریات، خیالات اور موضوعات کا تبادلہ کرنا ہے۔تھیٹر ڈرامے کو ناٹک رچانا، سوانگ بھرنا یا تمثیل نگاری

 بھی کہا جاتا ہے، رومی، یونانی، چینی، جاپانی اور افریقی تہذیبوں میں تھیٹر کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے برصغیر میں تھیٹر کی ابتدا سنسکرت تھیٹر سے ہوئی تھی اُس دور کے بادشاہوں کی زیر سرپرستی مذہبی داستانوں پر مبنی کھیل پیش کیے جاتے تھے جن کا مقصد تفریح اور تعلیم و تربیت دونوں تھا تھیٹر کی دُنیا میں اُسی زمانے کا ایک معروف نام کالی داس ہے جس کے لکھے گئے ڈرامے’’ شکون تلا‘‘نے ہر دور اور تہذیب کے ڈراموں پر اپنے گہرے اثرات مرتب کئے ۔ 1855 میں’’ اودھ‘‘ کے آخری نواب واجد علی شاہ نے آغا حسن امانت کا تحریر کردہ ڈرامہ’’ اندر سبھا ‘‘اسٹیج کیا،بعد ازاں یہ تھیٹر ’’ پارسی تھیٹر ‘‘کی صورت اختیار کرتا گیا اور تقریباً ایک صدی تک اس نے برصغیر پر راج کیا۔ پارسی تھیٹر میں داستانوں اور سماجی کہانیوں کا امتزاج پیش کیا گیا پھر برصغیر پر قائم برطانوی راج میں تھیٹر داستانوں اور تصوراتی کہانیوں سے نکل کر عام حقائق، ظلم و جبر کے خلاف عوامی حقوق کی پاسداری اور غریبوں کے مصائب کو پیش کرنے لگا،اِسی دور کا ایک مشہور و معروف نام آغا حشر کاشمیری کا ہے جنہیں اُردو زبان کا شیکسپیئربھی کہا جاتا ہے،آغا صاحب نے بہت سے ڈرامے لکھے جن میں سے بیشتر فارسی، انگریزی ادب اور ہندو دیو مالا ئی میں تھے،بیسویں صدی کا وسط تھیٹر کی دُنیا کا بہت سنہرا دور تھا جب امتیاز علی تاج، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، رفیع پیر اور اپندرناتھ اشک کے ڈرامے پیش کئے جانے لگے۔ 1932 میں امتیاز علی تاج کا تحریر کردہ ڈرامہ’’ انار کلی‘‘ اردو ڈرامے کی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوا اور تھیٹر کو ایک نئی جدت مل گئی۔1947میں پاکستان بننے کے بعد سے اب تک وطن عزیز میں تھیٹر کئی رنگ بدل چکا ہے، تھیٹر میں کام کرنے والے بیسیوں فنکار اب اس دُنیا میں موجود نہیں لیکن اُن کا کیا ہو اکام انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا ، کیونکہ وہ فنکار تھیٹر کو اپنے بچوں کی روزی کا ذریعہ سمجھتے تھے ، اسٹیج پر پرفارمنس دینے کے لئے جانے سے پہلے دعائیہ کلمات اور اپنے سینئر کا احترام کرنا فرض اور ثواب کا کام تصور کیا جاتا تھا ۔ برجستہ جملے ، جاندار سکرپٹ، فحش اور نازیبا یا ذو معنی گفتگو سے پاک اور ڈرامے کے موضوعات فیملیز کو گھروں سے تھیٹر آنے پر مجبور کر دیتے تھے ،تھیٹر کے ڈراموں میں سکرپٹ کے مطابق کلچرل ڈانس اور اشعار کی ادائیگی مخصوص انداز اور تمیز کے ساتھ پیش کی جاتی تھی ۔ یعنی یہ کہنا قطعاً غلط نہیں ہوگا کہ فلم سے زیادہ تفریح تھیٹر کے ڈراموں کی مرہون منت ہوتی تھی ، اُس دور کا تھیٹر اپنے منفرد موضوعات، اداکاری ، ہدایت کاری، لائٹنگ، اور پیشکش کے حوالے سے باشعور شائقین کے لیے کشش رکھتا تھا ، وقت بدلا اور تھیٹر پر مزاح کا راج قائم ہو گیا ، پھر یہی مزاح فحش حرکات ، نازیبا گفتگو اور ذو معنی سکرپٹ میں بدلا تو فیملیز کا ڈرامے کی طرف دھیان کم ہو گیا ، فیملیز سینما گھروں میں جانے کو ترجیح دینے لگ گئیں مگر آہستہ آہستہ پاکستان کی فلم انڈسٹری بھی تباہی کا شکار ہو گئی، مختلف اداکاروں نے تھیٹر کی اس روش کو بدلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے کیونکہ شائقین تھیٹر فحش گانوں اور رقص کے ’’ رسیا ‘‘ ہو چکے تھے ، اس وقت پاکستان کے تھیٹر ڈرامے کو دیکھنے کے لئے فیملیز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں جبکہ مرد حضرات ہال میں ہلہ گلہ کرنے کے لئے تھیٹر کی رونقیں بحال رکھے ہوئے ہیں ، پنجاب کے مختلف شہروں لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، گوجرانوالہ ، چنیوٹ ، اوکاڑہ ، ساہیوال ، عارف والا ، چشتیاں اورگجرات کے ساتھ ساتھ راولپنڈی میں بھی تھیٹر ڈرامے کاکاروبار عروج پر ہے ، اِن سب وجوہات کے باوجود برصغیر پاک و ہند کے معروف کامیڈین اداکار نسیم وکی نے ایسے ڈرامے لکھے ، انہیں ڈائریکٹ کیا اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے ایسا ترتیب دیا کہ اُن ڈراموں کو دیکھنے فیملیزنے ایک بار پھر سے تھیٹر کا رُخ کر لیا ہے ، نسیم وکی اپنی صلاحیتوں کا لوہا انڈیا میں بھی منوا چکا ہے جب اُس نے کپل شرما شو میں پرفارمنس دی تو انڈین فلمی ستارے شاہ رُ خ خان ، امتیابھ بچن ، گووندا، اجے دیو گن ، ہنی سنگھ ، دپیکا پاڈاکون ، کرینہ کپور ، روہیت شیٹھی اور دوسرے کئی فنکار اُنہیں داد دیئے بغیر نہ رہ سکے ،اسی طرح ہندوستان کا کامیڈی شو’’ لاف انڈیا لاف ‘‘ جس میں تمام انڈین ’’سورماوں ‘‘ کو ہرایا اور مزاح کا یہ دنگل جیت کر پہلا انعام حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کیا۔حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ نسیم وکی جیسے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرے اُنہیں تھیٹر کے میدان میں سہولیات اور میڈلزسے نوازے تاکہ وہ پاکستانی فیملیز کو مزید بہتر ڈرامہ دے سکیں ۔ نسیم وکی 1992سے تھیٹر سے وابستہ ہیں ، اس عرصے میں انہوں نے پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں بھی ہر طرح کے کردار ادا کئے ، وہ بیک وقت مزاحیہ ، سنجیدہ ، کریکٹر ایکٹر اور منجھے ہوئے کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے واحد فنکار ہیں ، وہ ڈرامہ نگار ،مصنف، ہدایتکار اور رقص کی سوجھ بوجھ رکھنے والی ’’ ملٹی ٹیلنڈڈ ‘‘ شخصیت کے حامل بھی ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ پاکستانی فیملیز کو تھیٹرکی طرف لانے کے لئے نسیم وکی اور اُن جیسے ورسٹائل اداکاروں کی خدمات حاصل کرے ، تاکہ تھیٹر پر عوام کاا عتماد بحال ہو اور گھروں کے سربراہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلا جھجھک ڈرامہ ہال میں آسکیں ۔ ہمیں تھیٹر میں جدت لانے کی ضرورت ہے ،ہماری حکومت تھیٹرکو بہترین تفریح گاہ بنا کراُسے انڈسٹری کا درجہ دے تو قومی خزانے کو خاطر خواہ سیراب کیا جا سکتا ہے ، دوسرے ممالک میں تھیٹر اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ لندن میں پیش کیے جانے والے ایک ڈرامے میں انتظامیہ نے روبوٹ اداکار کو پیش کر کے تھیٹر کے شعبے میں نئی جہت اور نئی جدت پیدا کر دی ہے روبوٹ کا ڈرامہ دیکھ کر لوگوں کا کہنا ہے کہ گو روبوٹ انسانوں جیسے تاثرات تو نہیں دے سکتا، تاہم اداکاری کے شعبے میں سائنسی مشین کی شمولیت فن، محبت اور جدید ٹیکنالوجی کا بہترین امتزاج ہے، لندن کے بعد جاپان میں بھی اس جہت کو بھرپور پذیرائی ملی اور جاپانی تھیڑ میں روبوٹ کا بکثرت استعمال دیکھنے میں آیا ہے، مانا کہ پاکستان ابھی روبوٹ کی پیشکش کا متحمل نہیں لیکن جو لوگ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے ایک روبوٹ کا کرداربخوبی نبھا سکتے ہیں حکومت پاکستان کو اُن فنکاروں اور اداکاروں کو سامنے لانا چاہیئے تاکہ یہ طبقہ کسمپرسی کی زندگی سے باہر نکلے ، حکومت پاکستان کو فلم اور تھیٹر کی تباہی کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیئے تاکہ ایسے ناسور اس شعبے سے فارغ ہو جائیں جن کی وجہ سے یہ شعبہ زوال پذیر ہوا تھا ساتھ ساتھ تھیٹر ، فلم اور ٹیلی ویژن کے اداکاروں کے لئے ایک ایسا ادارہ بھی بنایا جائے جہاں کام نہ ملنے والے اداکاروں کو دفتروں کے چکر لگائے بغیر روز مرہ زندگی کے معاملات حل کرنے کے لئے مدد ملے ، لیکن اگر ایسا ہو جائے کہ اداکاروں کو مدد کی بجائے کام ملنا شروع ہو جائے تو اُن بیچاروں کی عزت نفس بھی محفوظ رہ سکتی ہے اور وہ مدد جیسی لعنت سے بچ سکتے ہیں جس کے لئے حکومت پاکستان کو تھیٹر اور فلم کی رونقیں بحال کرنا ہوں گی ۔

تازہ ترین خبریں