07:23 am
ٹریجیڈی کوئین مینا کماری نے شاعری میں بھی نام کمایا

ٹریجیڈی کوئین مینا کماری نے شاعری میں بھی نام کمایا

07:23 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)انہوں نے ماہ جبیں ناز کے نام سے شاعری کی۔ ناز اُن کا تخلص تھا۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھیں اور بڑی متاثر کن نظمیں بھی تخلیق کیں۔بھارتی فلموں کی تاریخ میں جہاں کئی ایسے اداکاروں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی زبردست اداکاری سے اپنا نام کا سکہ جمایا اور آج بھی اُن کا نام زندہ ہے۔ ان کے مداحین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ اداکاری کے شہنشاہ دلیپ کمار کو ٹریجیڈی کنگ کہا جاتا ہے۔اسی طرح ایک اداکارہ ایسی بھی تھیں جنہیں ٹریجیڈی کوئین کا خطاب دیا گیا۔ یہ اداکارہ تھیں مینا کماری۔ مینا کماری کا اصل نام ماہ جبیں بانو تھا۔ انہوں نے چھ سال کی عمر سے ہی اداکاری شروع کر دی تھی۔قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی آواز بھی غضب کی تھی۔ وہ المیہ اداکاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن اداکارہ کے ساتھ ساتھ وہ گلوکارہ اور ایک عمدہ شاعرہ بھی تھیں۔انہوں نے ماہ جبیں ناز کے نام سے شاعری کی۔ ناز اُن کا تخلص تھا۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھیں اور بڑی متاثر کن نظمیں بھی تخلیق کیں۔ مینا کماری
کی ذاتی زندگی بھی کسی داستانِ الم سے کم نہ تھی۔انہوں نے نامور شاعر اور ہدایت کار کمال امروہوی سے شادی کی لیکن یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ کئی لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ مینا کماری نے کئی مسائل خود پیدا کئے اور زندگی میں جن مصائب اور دکھوں کا انہیں سامنا کرنا پڑا، کافی حد تک ان کی ذمہ دار وہ خود بھی تھیں۔بہرحال اُن کی شاعری میں وہ سوز ملتا ہے، عمر بھر وہ جس کی آگ میں جلتی رہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مینا کماری جب تک زندہ رہیں زندگی کے معنی تلاش کرتی رہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عمر بھر محبت کی متلاشی رہیں۔ ان کی محرومیوں نے اُن کی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑا اور ان کی شاعری میں اس کا بھرپور عکس ملتا ہے۔مینا کماری کی شاعری درد اور یاسیت کی چادر میں لپٹی ہوئی ہے۔ ان کے اشعار سے اُداسیوں کی مہک آتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض تجربات کو بڑے لطیف پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔کہیں کہیں نکتہ آفرینی بھی ملتی ہے۔ تراکیب کا استعمال بھی بڑی خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ ان کے شعری مجموعے ’’تنہا چاند‘‘ کے عنوان سے ہی یہ پیغام مل جاتا ہے کہ وہ تنہائیوں کے دشت میں رہ کر انجمن کا مفہوم سمجھنے کی سعی کر رہی ہیں۔لیکن شاید وہ اِس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ اگر تنہائی کا اپنا ایک دکھ ہے تو اس کا اپنا حُسن بھی ہے۔ مینا کماری کے ہاں ندرتِ خیال بھی بڑے خوشگوار انداز میں ملتا ہے۔ ’’دُکھ کی گھٹا‘‘، ’’درد کے سائے‘‘ ’’اُداسی کا دھواں‘‘ اور ایسی ہی کئی اور تراکیب ہیں جن سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ یاسیت کا اندھیرا جب بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر رجائیت کی روشنی بھی ختم ہوتی جاتی ہے۔اگر کسی وجہ سے اپنے آپ کو دلاسا اور حوصلہ دیا جائے تو ایک موہوم سی رجائیت کا جنم ہوتا ہے لیکن ہمیں ایسی رجائیت درکار نہیں۔ رجائیت وہ جو حیات افروز ہو اور جو ہر سمت زندگی اور روشنی کے امکانات پیدا کرے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مینا کماری عمر بھر سچی محبت تلاش کرتی رہیں تو یہ اپنی جگہ ایک المیہ ہے۔ اس بات میں کسی حد تک صداقت بھی ہے کیونکہ اس کا اظہار اُن کی فلم ’’صاحب بی بی اور غلام‘‘ میں بھی بڑے بھرپور طریقے سے ملتا ہے۔یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شاعری میں مینا کماری کے اُستاد گلزار ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو۔ مینا کماری کی چھوٹی بحر کی غزلوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اُن کے تحت الشعور میں گلزار کا شعری آہنگ رچا بسا ہے اور پھر اُن کے کئی اشعار سہلِ ممتنع کے زمرے میں آتے ہیں۔گلزار کے ہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ویسے تو مینا کماری کی غزلیات پر ہی بات کی جاتی ہے لیکن ان کی نظمیں بھی فکری توانائی سے معمور ہیں۔ذیل میں اپنے قارئین کی خدمت میں مینا کماری کی غزلوں کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

تازہ ترین خبریں