12:13 pm
لاہور۔30 جنوری پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہاکی کے سابق اولمپئن کھلاڑیوں کے گروپ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے قومی کھیل ہاکی کی تباہی کی ذمہ داری ان

لاہور۔30 جنوری پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہاکی کے سابق اولمپئن کھلاڑیوں کے گروپ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے قومی کھیل ہاکی کی تباہی کی ذمہ داری ان

12:13 pm

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے قائم مقام سیکریٹری اخلاق عثمانی اور کوچ ریحان بٹ نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن پر کرپشن کے الزامات کی وجہ سے نقصان ہوا، سابق اولمپئین نے حکومت کو شک میں ڈال رکھا ہے کہ یہاں کرپشن ہوتی ہے،خالد بشیر جیسے اولمپین آج تنقید کر رہے ہیں جب کہ پی ایچ ایف میں کرپشن کا راگ الاپا جاتا ہے جو حقیقت میں نہیں، ہاکی کے بارے میں سوچا جائے۔

پی ایچ ایف کے قائمقام سیکریٹری اخلاق عثمانی اور کوچ ریحان بٹ نے سابق اولمپیئنزخالد بشیر,خواجہ جنید کی جانب سے لگائے گئے پی ایچ ایف پر الزامات مسترد کردیئے، قومی ہاکی ٹیم کے کوچ ریحان بٹ نے کہا کہ سابق اولمپیئن خالد بشیر جنہوں نے موجودہ پی ایچ ایف کے دور میں بحیثیت ایسوسی ایٹ سیکریٹری 2012 اولمپک اورلندن سمیت بیشتر ٹورز کئے ہیں.الاؤنسس لئے ہیں.جب موصوف ٹورز کے مزے لے رہے تب انہیں کچھ برا نہیں لگ رہا تھا.اب وہ کس منہ سے اسی پی ایچ ایف کے خلاف بیانات دیکر قوم کو گمراہ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ.پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاس تمام آڈٹ کے ساتھ ریکارڈ موجود ہے پھر کیا سوچ کر بدستور حکومت اور عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ.اگر آج پاکستان ہاکی ٹیم بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی نہیں کر پارہی تو اس میں قصور وار کوئی اور نہیں خالد بشیر اور انکے ساتھی ہیں.اس موقع پر پی ایچ ایف کے قائمقام سیکریٹری اخلاق عثمانی نے کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے سابق اولمپیئن خالد بشیر اور خواجہ جنید اور انکا گروپ پاکستان ہاکی کے خلاف زیادہ متحرک ہے تو میں سب کے سامنے ایک بار پھر خواجہ جنید صاحب کو یاد کروائوں کہ خواجہ جنید وہی ہیں جو سابقہ فیڈریشن کے ساتھ دو سال اور موجودہ فیڈریشن کے ساتھ ڈیڑھ سال کا عرصہ بحیثیت کوچ بن کر گزار چکے ہیں.ان کی کوچنگ کے دور میں ٹیم کی کیا پرفارمنس تھی یہ بھی سب کے سامنے ہے اورجب انہیں فارغ کیا تب انکے جاتے ہی وہی قومی ہاکی ٹیم 13 سے 12 نمبر رینکنگ پر آگئی. .انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس 2015 اور 2016 کا انٹرنل اور حکومتی آڈٹ کے ساتھ ریکارڈ مکمل تفصیلات کے ساتھ موجودہ ہے جبکہ 2017 اور 2018 کا بھی انٹرنل آڈٹ کراچکے ہیں اور حکومتی سطح پر آڈٹ کیلئے ہم حکومت کو درخواست کرچکے ہیں.کسی بھی اولمپیئن یا میڈیا کے ممبر کو تفصیلات درکار ہوں.وہ ہم سے رجوع کرسکتا ہی. اخلاق عثمانی نے کہا کہ فروری میں کانگریس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،آڈٹ رپورٹس مکمل ہیں، جس کو شوق ہے، حسابات چیک کرلے،ایک ایک پائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اخلاق عثمانی نے واضح کیا کہ سوا ارب کے الزامات افسوس ناک ہیں، حکومت نے صرف چون کروڑ گرانٹ دی دوہزار سولہ اور سترہ کا اسپشل آڈٹ ہوچکا، دوہزار سترہ اور دوہزار اٹھارہ کا آڈٹ بھی مکمل ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں منظورجونئیر، خالد بشیر سمیت پی ایچ ایف کے مخالف گروپ نے فیڈریشن حکام پر مالی بد عنوانیوں کے الزامات لگاتے ہوئے استعفی دینے کا مطالبہ کیا تھا

 

تازہ ترین خبریں