01:12 pm
اولمپکس2016 :چار شہر امیدوار

اولمپکس2016 :چار شہر امیدوار

01:12 pm

سنہ دو ہزار سولہ کے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کے لیے چار شہروں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔عالمی اولمپک کمیٹی امریکہ کے شہر شکاگو، برازیل کے شہر ریو دی جنیرو، جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو اور سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔ کمیٹی کے فیصلے کا اعلان ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں جمعہ دو اکتوبر کو کیا جا رہا ہے۔ان چار امیدوار شہروں کو یہ اعزاز دیے جانے کے کیا امکانات ہیں اور ان کے انتخاب کے کیا فوائد ہو سکتے ہیں

 

شکاگو:
Image caption
میشیل اوباما شکاگو کی درخوست کی ترجمانی کر رہی ہیں
امریکی ریاست اِلینوئے کے دارالحکومت شکاگو کو چار دیگر امریکی شہروں ہیوسٹن، لاس اینجلیز، فِیلیڈیلفیا اور سان فرانسسکو پر فوقیت دی گئی۔

شہر میں اولمپکس کے لیے پانچ نئے مستقل سٹیڈیم اورگیارہ عبوری سٹیڈیم بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کھیلوں کا خرچہ پرائیویٹ بزنس اور حکومت مل کر اٹھائیں گے۔

شکاگو کی درخواست کی ترجمانی باسکٹ بال کے معروف کھلاڑی مائیکل جارڈن اور امریکی صدر کی اہلیہ میشیل اوباما کر رہی ہیں اور امریکی صدر براک اوباما بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ وہ شکاگو کے رہنے والے ہیں اور براک اباما صدر بننے سے پہلے ریاست اِلینوئے کےسینیٹر تھے۔ میڈیا شخصیت اوپرا وِنفری بھی اس درخواست کی کامیاب کے لیے کام کر رہی ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ میزبانی جیتنے کی دوڑ میں شکاگو کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔ شکاگو کو اولمپکس 2016 کی میزبانی ملنے کے امکانات اس لیے روشن ہیں کہ اس سے پہلے کے چار اولمپک مقابلے امریکہ سے باہر لندن، بیجنگ، ایتھنز اور سڈنی میں منعقد ہوئے ہیں۔

تاہم عالمی اولمپک کمیٹی کے کئی ممبران امریکہ کے رویے سے خفا ہیں اور انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ امریکہ آئی او سی کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ لیتا ہے۔


میڈرڈ:
میڈرڈ ان چند یورپی دارالحکومتوں میں شامل ہے جنہوں نے اولمپکس کی میزبانی نہیں کی ہے۔ تاہم 1992 کے اولمپکس سپین کے شہر بارسلونا میں ہوئے تھے۔

Image caption
میڈرڈ
اولمپکس کی میزبانی کے لیے سپین کے امکانات اس لیے اچھے ہیں کہ کھیلوں کے لیےمطلوب پچاسی فیصد مقامات موجود ہیں۔

اولمپکس کا پورا خرچہ سپین کی حکومت اٹھائے گی۔

میڈرڈ نے سنہ دو ہزار بارہ کے اولمپکس کی میزبانی کے لیے بھی کوشش کی تھی اور اولمپک کمیٹی نے اس کی درخواست کو خاصے اچھ نمبر دیے تھے حالانکہ حتمی انتخاب لندن اور پیرس میں سے کیا گیا۔ میڈرڈ کی درخواست کی ترجمانی فلیمینگو رقاصہ سارا براباس کر رہی ہیں جبکہ کئی معروف فٹبالر بھی اس کے حمایت کر رہے ہیں۔

میڈرڈ کو اس بار اولمپکس کی میزبانی نہ ملنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ 2012 کے اولمپکس یورپ میں (لندن) میں ہو رہے ہیں اور وِنٹر اولمپکس بھی روس کے شہر سوچی میں ہوں گے۔ اس بات کا کم امکان ہے کہ کمیٹی تین مسلسل کھیلوں کی میزبانی یورپ کو دے دے گی۔


ریو دی جنیرو:
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ریو کی میزبانی کی درخواست آخری مرحلے تک پہنچ سکی ہے۔ اس سے پہلے یہ 1936، 1940، 2004 اور 2012 کی میزبانی کو کوشش میں ناکام ہوا ہے۔

Image caption
ریئو دی ننیرو
ریو کے پلان کے مطابق تمام مقابلے شہر کے اندر ہی ہونگے۔ برازیل کی درخواست کی ترجمانی مشہور زمانہ فٹبالر پیلے کر رہے ہیں۔

ریو کے امکانات اس لیے روشن ہیں کہ اس نے دو سال پہلے پین امریکن مقابلے کی بہت کامیابی سے میزبانی کی تھی۔ اس کے علاوہ اس کو اس بات سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے کہ عالمی اولمپک کمیٹی اس بات کے حق میں ہے کہ ہر برِ اعظم کو باری باری ان مقابلوں کا موقع دیا جائے۔

برازیل فٹبال ورلڈ کپ 2014 کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔


ٹوکیو:
Image caption
ٹوکیو
ٹوکیو کو بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کا خاصا تجربہ ہے۔ وہ فٹبال ورلڈ کپ 2002، سمر اولمپکس 1964 اور 1972 اور وِنٹر اولمپکس 1998 کر چکا ہے۔

تاہم 2008 کے اولمپکس بھی اسی خطے یعنی چین میں ہوئے تھے اور اس سے ٹوکیو کی درخواست بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اس درخواست کی ترجمانی کوئی معروف شخصیت نہیں کر رہا کیونکہ جاپان کا کہنا ہے کہ اولمپکس کا انتظام ایک شخص تو نہیں کرتا یہ ایک ٹیم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 2012 کھیلوں کے لیے لندن کی درخواست اور مہم سے بہت متاثر ہوئےجس میں یہ کہا گیا تھا کہ اولپمکس مقابلوں سے نوجوانوں کو کھیلوں میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے جو کہ قوم اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں