05:38 pm
نیوزی لینڈمیں نمازیوں کا بے رحمانہ قتل

نیوزی لینڈمیں نمازیوں کا بے رحمانہ قتل

05:38 pm

کرائسٹ چرچ (مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ مین پیش آئے اندوہناک واقعے پر جہاں معتدل اور انسانیت دوست سوچ رکھنے والے متعلقہ شعبہ ہائے سے متعلقہ لوگوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیاہے وہیں پر عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز بھی اس اندوہناک واقعے پر دل گرفتہ ہیں اور اور اپنے اپنے لفظوں میں انھوںنے اس واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بوم بوم آفریدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرائس چرچ میں ہونے والا حملہ بہت دہشت ناک ہے،ان کا کہنا تھا کہ میں نے نیوزی لینڈ کو دنیا میں سب سے محفوظ اور پر امن ملک پایا ہے، یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔شاہد آفریدی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے بنگلہ دیشی کھلاڑی تمیم اقبال سے بات کی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم بالکل محفوظ ہے۔اسٹار آل راؤنڈر نے متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے سے نفرت بند کی جائے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔نہوں نے کرائس چرچ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔سابق کپتان اور سری لنکا کے لیجنڈ بلے باز کمار سنگا کارا نے بھی کرائس چرچ واقعے کی مذمت کی ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے کا علم ہوتے ہی بہت دکھ ہوا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سنگا کارا کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے میں اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے اس واقعے کو المناک قرار دیا واقعے میں اپنی جان گنوانے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی اظہار ہمدردی کیا۔بھارت کے سابق کرکٹر محمد کیف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے میں مارے جانے والے 49 افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔پاکستانی نژاد آسٹریلین کھلاڑی عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ انہیں کرائس چرچ حملے کا بہت دکھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی تمام ہمدردیاں اور دعائیں واقعے میں مارے جانے والے افراد کے گھر والوں کے ساتھ ہیں۔اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس دہشت گرد حملے کو انتہائی المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہیں مارے جانے والے افراد کے ساتھ ہمدردی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بھی اسی طرح کی کرب سے گزشتہ 20 سالوں کے دوران گزرا ہے۔

تازہ ترین خبریں