05:00 pm
حسن، جنید ، شاہین،عماداور فہیم سب ناکام  ورلڈ کپ میں ایسے کیسے چلے گا

حسن، جنید ، شاہین،عماداور فہیم سب ناکام ورلڈ کپ میں ایسے کیسے چلے گا

05:00 pm

برسٹل (مانیٹرنگ ڈیسک)انگلینڈ کے خلاف تیسرے ون ڈے میںجس طرح سے پاکستان کو بڑا ہدف مقرر کرنے کے باوجود بدترین شکست ہوئی اس سے قومی ٹیم کی بائولنگ لائن اپ کی ورلڈ کپ سے پہلے کی کارکردگی کا بھی اندازہ ہو تا ہے۔ گزشتہ میچ میںبھی پاکستان کی کمزور بائولنگ کی وجہ سے انگلش ٹیم 374رنز کا ہدف مقرر کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔انگلینڈ کو سیریز میں 2-0کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔پاکستان کی ایک بڑا سکور بنانے کے باوجود میچ میں ناکامی یقینی طور پر پاکستانی شائقین کرکٹ اور بورڈ منتظمین دونوں کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔
ابھی تک محمدعامر کی خراب کارکردگی کے باعث ورلڈ کپ میں ان کی شمولیت یا عدم شمولیت ایک سوالیہ نشان ہے ۔ دوسری جانب شاداب خان کےحوالے سے بھی کرکٹ بورڈ کا حتمی فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی ہے ۔ جبکہ بطور آل رائونڈر ٹیم میں جگہ بنانے والے فہیم اشرف کی کاکردگی بالکل صفر ہے۔اسی طرح حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی بھی تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوپارہے۔ عماد وسیم اپنی بیٹنگ میں بہتری لانے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں تاہم ٹیم کے کمزور شعبے بائولنگ کو سہارا دینےمیں عماد وسیم بھی کامیاب ہوتے ہوئے دکھائی نہیں د ے رہے۔اور لگ بھگ یہی حال جنید خان کا بھی ہے۔ ایسے میں پاکستانی کرکٹ کے خیرخواہوں کی تشویش بالکل بجا اور درست ہے۔ ورلڈکپ کی ٹاپ چار ٹیموں انگلینڈ ،بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن اپ بے حد مضبوط ہے۔ جبکہ ان تمام ٹیموں کا بائولنگ کا شعبہ بھی پاکستان سے بدرجہا بہترہے۔ایسے میں پاکستانی ٹیم میگا ایونٹ میں سارے کا سارا انحصار اپنی بیٹنگ لائن اپ پر کیسے کر سکتی ہے۔ اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ پاکستان کو بائولنگ کے شعبے میں اصلاحات کی درکار ہیں تاہم اگر یہ بات ورلڈ کپ کے نقطہ نگاہ سے سوچی جائے تو شاید اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

تازہ ترین خبریں