09:44 am
بچّوں کی پرورش کے رہنما اُصول

بچّوں کی پرورش کے رہنما اُصول

09:44 am

ڈاکٹر خالد پر ویز سلہری بچے کو جنم دینے کے بعد بھی اُس کی نشوونما اور پرورش بہت بڑی ذمہ داری ے ۔اس ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے لیے سب سے اہم اور بنیادی کردار ماں ہی کا ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اسی اہم فریضے کی ادائیگی کے باعث ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے ۔اگر ماں بچے کی تمام جسمانی ضرورتوں سے بخوبی آگاہ ہوگی تو وہ اس کی پرورش زیادہ بہتر انداز سے کر پائے گی۔اس آرٹیکل میں ماؤں کو اس ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے لیے ایسے رہنما اصول دیے گئے ہیں جو اس پرورش کے عمل میں ان کے بہترین معاون ہو سکتے ہیں ۔ان بنیادی اصولوں کو مرحلہ
وار بیان کیا گیا ہے ۔چونکہ پیدائش کے بعد پہلے دو سال بچے کی ذہنی وجسمانی نشوونما کے اعتبار سے نہایت اہم ہوتے ہیں ۔ان دو سالوں کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے ۔(1) پیدائش سے چھ ماہ تک کا مرحلہ پیدائش کے فوراً بعد نوز ائیدہ کی جسمانی صفائی ستھرائی کے بعد مذہبی عقیدے کے مطابق دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جاتی ہے ۔جدید دور میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں طبی ماہرین نے تحقیق کے بعد بچے کے پہلے چھ ماہ کے لیے ماں کے دودھ کو بہترین اور مکمل غذا قرار دیا ہے۔جس کے باعث ان ممالک میں ماں کے دودھ کا رجحان فروغ پا رہا ہے ۔پیدائش کے بعد جتنی جلد ممکن ہو سکے بچے کو ماں کے دودھ کی طرف مائل کرنے کی کوشش کا آغاز کرنا چاہیے۔ہمارے ہاں رواج ہے کہ نوزائیدہ کوگڑتی یا گھٹی کے نام پر شہد چٹایا جاتا ہے ۔یہ عمل اس لیے غیر محفوظ اور خطر ناک ہو سکتا ہے کہ شہد کے خالص اور صاف ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔بہتر یہ ہے کہ گڑتی کے لیے بھی ماں کا دودھ نچوڑ کر صاف ستھری انگلی سے چٹا کر رسم پوری کرلی جائے۔بچے کے اندر چُو سنے کی صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے ۔اس لیے ماں کی چھاتی کے ساتھ لگتے ہی اکثر اوقات نوزائیدہ ازخود ہی دودھ چُوسنا شروع کردیتا ہے ۔شروع شروع میں دودھ پلانے کا یہ عمل نو آموز ماؤں کے لیے مشکل اور بعض اوقات تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے ۔مستقل مزاجی اور خوش دلی سے یہ مرحلہ با آسانی حل ہوسکتا ہے ۔#بچہ جتنی رغبت اور خواہش سے ماں کا دودھ چُوسے گا اُتنی ہی جلدی چھاتیوں میں دودھ کا بہاؤ تیز اور وافر ہو گا۔عرف عام میں اس کو دودھ کا اُتر نا بھی کہاجاتاہے۔اگر ابتدائی دنوں میں بچہ چھاتی کو درست انداز میں نہ چُوس پائے تو دودھ کو ہاتھوں کی مدد سے چھاتیوں سے نچوڑ کر چمچ کے ساتھ بھی پلایا جا سکتا ہے ۔اس مقصد کے لیے مارکیٹ میں طرح طرح کے breast pumpsدستیاب ہیں ۔ان کے استعمال کے طریقے ان کی پیکنگ وغیرہ پر تحریر ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں ایک احتیاط لازم ہے کہ پمپ سے دودھ نچوڑنے کے عمل میں زچہ کی چھاتی زخمی نہ ہونے پائے۔اس تکلیف سے بچنے کے لیے یہ احتیاطی تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ پمپ کے استعمال کے بعد نیم گرم پانی اور صابن کے محلوں سے دھو کر خشک کر لیا جائے۔ترقی پذیر ممالک میں بھی تعلیم یافتہ مائیں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ماں کے دودھ کے بے شمار فوائد ہیں ۔اس سے بچہ نہ صرف موذی امراض سے محفوظ رہتا ہے بلکہ یہ بچے کی پرورش کو مناسب اور اعتدال پر رکھتا ہے ۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچے کو خوب موٹا اور وزن بھی زیادہ ہونا چاہیے۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔WHOکی طرف سے بچوں کی عمر کے لحاظ سے اوزان مقرر کیے گئے ہیں ۔حد سے بڑھا ہوا وزن اورموٹاپا بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ماں کا دودھ بچے کے وزن اور جسم کو اعتدال پر رکھتا ہے ۔پیدائش کے وقت کے وزن میں پہلے دس سے بیس دن میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے ۔اس کے بعد نارمل بچہ وزن بڑھانا شروع کرتا ہے ۔پہلے تین ماہ میں روزانہ25سے30گرام وزن روزانہ بڑھنا چاہیے ۔اس سطح تک وزن بڑھانے کے لیے بچے کو 140گرام سے 200گرام تک دودھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ماں کا دودھ اس توازن کو برقرار رکھنے میں بہترین معاون ہوتا ہے ۔اگلے تین سے بارہ ماہ تک وزن بڑھنے کا یہ عمل قدرے سست روی سے ہوتا ہے ۔یہ پریشانی کا باعث نہیں بلکہ معمول کی بات ہے ۔#چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین مکمل غذا ہے جس کے ساتھ کسی اضافی غذا کی ضرورت نہیں ۔(2) چھ ماہ سے نوماہ تک کا مرحلہچھ ماہ کے بعد اب وقت ہے کہ بچے کو ہلکی پھلکی ٹھوس غذاؤں سے متعارف کروایا جائے ۔یہ مرحلہ مستقل مزاجی اور محنت کا تقاضہ کرتا ہے ۔دودھ سے بنی ہوئی مختلف طرح کی کھیروں سے اس عمل کا آغاز کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً کسٹرڈ ،آلو کی کھیر،ساگودانہ ،اور کیلا کھیراوغیرہ۔ بہتر ہے کہ پورے دن میں کھلائی جانے والی کھیر ایک وقت میں بنا کر فرج میں رکھ لی جائے ۔بچے کو کھیر کھلانے سے پہلے نیم گرم کر لیا جائے ۔کیونکہ نیم گرم غذا بچے کے نظام انہضام کی مدد کرتی ہے ۔اس کا معدہ نئی غذاؤں کو قبول کرنے پر آماد ہ ہوجاتا ہے ۔ روزانہ ایک طرح کی کھیر نہ بنائی جائے کہ کہیں بچہ اس سے اُچاٹ نہ ہوجائے۔ ٹھوس غذا شروع کرنے کے بعد کئی طرح کے تجربات سامنے آسکتے ہیں ،جیسے بچوں کا غذا کا صحیح طرح سے نہ نگلنا۔بار بار منہ سے نکالنا یا کھانے کے بعد غذا کا الٹ دینا۔بچے کی خوراک کے معمول کو باقاعدہ بنانے سے آہستہ آہستہ اس مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ جوں جوں بچے کے غذا کو نگلنے کا عمل بہتر ہوتا جائے اس کی ٹھوس غذا میں مختلف قسم کی نرم غذاؤں کا ضافہ کیا جا سکتا ہے ۔جیسے سوجی کھیر کیلا اور دیگر نرم پھل وغیرہ ۔(3)نوماہ سے دو سال تک کا مرحلہنوماہ تک بچے کا غذا کو نگلنے کا عمل کافی بہتر ہو چکا ہوتا ہے ۔اب چاول اور دلیے وغیرہ سے متعارف کروایا جا سکتا ہے ۔ چاول کو آلو ،دال انڈہ یا قیمہ اور دیگر سبزیوں کے ساتھ ملا کر پکایا جا سکتا ہے ۔اس طرح مختلف ذائقے والی کھچڑی بچہ رغبت سے کھائے گا۔ دلیے میں جو کا دلیہ ،سوجی کی کھیروغیرہ کھلائی جا سکتی ہے۔نوماہ سے دوسال کے بچے کے کھانے کے معمول کو باقاعدہ کرلینا چاہیے۔بچے کو دن میں تین بار ٹھوس غذاکا ا ستعمال کروانا چاہیے۔#یاد رکھیں کہ تمام ٹھوس غذاؤں کے ساتھ ساتھ ایک سے دوسرے کھانے کے وقفوں کے درمیان ماں کے دودھ کی فراہمی بھی جاری رہنی چاہیے۔اگر بچہ کھانے کے وقت پر غذا کی مناسب مقدار لے لے تو دودھ پینے کے لیے زیادہ بے تاب نہیں ہو گا۔اس طرح ایک سے دوسرے کھانے کے لیے زیادہ بہتر بھوک کا سامنا کرے گااور بہتر مقدار میں کھانا کھائے گا۔دوسال تک کے بچے کی نگہداشت خاص توجہ کا تقاضہ کرتی ہے ۔دوسال کے بعد بچے کو اپنے اردگرد کے معمول کے کھانوں پر لے آئیں ۔اس عمل کی تربیت دینے کے لیے گھر میں پکنے والے عام کھانوں سے سالن ،روٹی اور چاول وغیرہ تھوڑا تھوڑا دینا شروع کریں ۔آہستہ آہستہ وہ ان کھانوں کے ذائقوں سے مانوس ہو جائے گا۔موجودہ ماحول میں بڑھنے والے بچوں کو مصنوعی مشروبات اور فاسٹ فوڈ سے دور رکھنا مشکل ہے ۔مگر یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ اشیاء بچوں کی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما میں بھی خلل کا باعث بن سکتی ہیں ۔اس لیے ان کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔اُمید ہے کہ ان رہنما اصولوں کو اپنا کر نوآموز مائیں اپنے بچوں کی بہتر نگہداشت اور پرورش کر پائیں گی