10:19 am
کیمیکل مہندی،جلائے ہاتھ

کیمیکل مہندی،جلائے ہاتھ

10:19 am

آج کل شادیوں کا سیزن چل رہا ہے ۔سردی بھی عروج پر ہے اور شادیوں کے فنکشن بھی ۔شادی کی خوبصورت رسم جسے رسم حنا کہتے ہیں ۔خواتین میں بہت پسند کی جاتی ہے خاص طور پر لڑکیاں تو رسم حنا پر خوشی سے بھولی نہیں کیونکہ انہیں چمکیلے بھڑ کیلے لباس کے ساتھ شوخ رنگ کی مہندی بھی لگانی ہوتی ہے ۔لیکن اگر اس خوشی کے موقع پر خوشی کو دو بالا کرنے والی مہندی ایسے تیزاب اور کیمیکل کی آمیزش نکل آئے جو ہاتھوں

 کی جلد جلا دے اور بچیاں خوشی کے ترانے گانے کی بجائے چیخ وپکار کرنا شروع کردیں اور شادی کی رسم کی تیاری کرنے والے بچیوں کو ہسپتال لے کرجا رہے ہوں تو ایسی شادی کا کیا مزہ رہ جائے گا۔ایسے میں کیمیکل اور تیزاب ملا کر مہندی تیارکر نیوالی والوں کے ہاتھ کیا آئے گا۔کچھ ایسا ہی حال ہوا اوکاڑہ میں رسم حنا کا جب خوبصورت بچیاں خوشی خوشی اپنے ہاتھوں کو رنگ حنا سے سجارہی تھیں کہ اسی حنانے اس کے ہاتھ جلانا شروع کردےئے اور ان کے ہاتھوں پر چھالے بن گئے ان کی آہ وپکار نے گھر والوں کو بھی پریشان کیا جس کے بعد انہیں ہسپتال داخل کروایا گیا جہاں ان کا علاج شروع کیا گیا۔مہندی کے تیز کیمیکل اور تیزاب کی وجہ سے یہ بچیاں شادی کی دیگر رسموں میں شرکت نہ کر سکیں اور ہسپتال میں داخل رہیں۔یہ صورتحال پیش آئی اوکاڑہ کے محلہ دبئی ٹاؤن میں جب سر فراز احمد کے گھر شادی کے موقع پر رسم حنا کی تیاری ہورہی تھی اور بچیاں ایک دوسرے کو مہندی لگا رہی تھیں کہ اچانک مہندی لگا کر ایک سائیڈ پر ہونے والی 7لڑکیوں کی چیخ وپکار سے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہنستی کھیلتی بچیاں چیخ کیوں رہی ہیں ۔آخر جب مہندی والے ہاتھوں کو دھویا گیا تو اتنے بڑے چھالے دیکھ کر والدین کے ہوش اڑگئے انہیں جلد از جلد ہسپتال منتقل جہاں انہیں کر یمیں لگائی گئیں اور دوائیاں دی گئی ۔اس طرح بچیاں ہسپتال داخل رہیں اور بچیوں کے والدین بھی شادی اٹینڈ نہ کر سکے اور بچیوں کے ساتھ ہسپتال رہے اور اس وقت کو پچھتاتے رہے جب انہوں نے بچیوں کو مہندی لگانے کی اجازت دی ۔ایک دور وہ تھا جب لڑکیاں گھروں میں مہندی گھول کر ہاتھوں پر لگاتی تھیں لیکن اب کون مہندی کے فیشن کی وجہ سے لڑکیاں بازار سے مہندی منگوالیتی ہیں لیکن بازاروں میں بکنے والی یہ کون مہندی بعض اوقات ہاتھوں کو خوبصورت بنانے کی بجائے بد صورت بنا دیتی ہیں ۔اسی طرح پچھلے دنوں شاہدرہ کی رہائشی حرا کی شادی تھی اس نے بازارسے مہندی منگوائی تو10منٹ بعد ہی ہاتھوں پر جلن ہوئی ۔جس کے بعد اس نے فوراً ہاتھ دھوئے لیکن جلن پھر بھی جاری رہی اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔جہاں اسے ایمر جنسی وارڈ میں داخل کیا گیا کیونکہ مہندی کے باعث الرجی بہت زیادہ ہوگئی تھی ۔حرا کی یہ حالت ایک ہفتہ رہی ابھی اس کے ہاتھوں پر چھالے بنے ہوئے ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ انگلیاں موڑ نہیں سکتی نہ ہی سوسکتی ہے کیونکہ ہاتھ پر نہ رکنے والی خارش اور جلن ہوتی رہتی ہے ۔اسی طرح کا ایک واقعہ باغبانپورہ میں ہوا جب رسم مہندی کی تقریب میں کیمیکل ملی مہندی سے بچیوں کے ہاتھ جل گئے ۔باغبانپورہ کے رہائشی اسلم احمد کے گھر رسم مہندی کی تقریب ہورہی تھی ۔مہمان آئی بچیوں کو مہندی لگتے ہی بچیوں کے ہاتھ جلنا شروع ہو گئے بچیوں کی چیخ وپکار پر انہیں ڈسٹرکٹ ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔اس سلسلے کے مسائل اگر پیش آجائیں تو اچھے بھلے فنکشن میں پریشانی پیدا ہوتی ہے ۔اس سلسلے میں ماہر جلد ڈاکٹر آغا نصر اللہ سے بات ہوئی انہوں نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل خواتین شادی بیاہ پر جانے کے لئے جو مہندی لگاتی ہیں اس میں تیزاب اور کیمیکل ملے ہوتے ہیں ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس مہندی میں گندھک کا تیزاب شامل کیا جاتا ہے اور تیزابی مادے شامل کئے جاتے ہیں تا کہ رنگ اچھا آئے ۔خواتین ایسے موقعوں پر کریزی ہوئی ہوتی ہیں کہ ہمیں مہندی سے خوبصورت رنگ چاہئے اور خوبصورت رنگ کے چکر میں وہ جلد کی رنگت ہی خراب کر لیتی ہیں ۔اسی طرح خواتین رنگ کو گورا کرنے کے لئے ایسی تیزابی کریمیں لگاتی ہیں جو ان کی چہرے کی جلد جلا دیتی ہیں ۔ایسی کریمیں جلد کو باریک کر دیتی ہیں اور چہرے کے بال لمبے کر دیتی ہیں انہیں استعمال کرنے کے بعد خواتین پر یشان حال ہمارے پاس آتی ہیں وہ اس موقع پہ کہتے ہیں کہ میری حکومت سے استد عا ہے کہ اس طرح کی کیمیکل ملی مہندی اور رنگ گورا کرنے والی کریمیں فوراً بند کر دی جائیں کیونکہ ان کریموں سے خواتین کا رنگ عارضی طور پر سفید ہوتا ہے اس کے بعد پھر جلد کی رنگت ویسی ہی ہوجاتی ہے اس لئے ایسی کریمیں خواتین استعمال نہ کریں کیونکہ یہ کریمیں اور مہندی سکن کی اوپر والی تہہ کو جلا دیتی ہیں ،کچھ دیر بعد ان پر جلن ہوتی ہے بعد میں زخم بن جاتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ میں خواتین کو خبردار کرتا ہوں ”ایسی کر یمیں اور مہندی استعمال نہ کریں اس کے علاوہ استعمال کرنے سے قبل تھوڑی سے سکن پر اسے چیک کرلیں اگر آپ کی سکن حساس یعنی سینسیٹیو ہے تو فوراً پتہ چل جائے گااور باقی جلد جلنے سے بچ جائے گی۔معروف میک اپ آرٹسٹ مسرت مصباح نے کہا کہ میں ہمیشہ معیاری کاسمیٹکس استعمال کرتی ہوں یہی وجہ ہے کہ میرے پارلر میں کبھی اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آیا یہ جو جگہ جگہ کھلے بیوٹی پارلر ہیں یہ بیوٹی پارلرز غیر تربیت یافتہ خواتین نے گلیوں محلوں میں کھول رکھے ہیں ۔ان غیر تربیت یافتہ بیوٹیشنز کے ہاتھوں آئے روز خواتین سکن الرجی کی بیماریوں میں مبتلا ہورہی ہیں یہ پار لر ز خواتین کو خطر ناک بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کہ اس طرح کی ناقص اور غیر معیاری اشیاء جن میں کریمیں اور مہندی شامل ہے بین کرے اور ایسے پارلرز کو بھی بین کرے اور صرف سند یافتہ بیوٹیشن بیوٹی پارلرکھولنے کی اجازت دی جائے