10:02 am
کیا آپ کیل مہاسوں سے پریشان ہیں

کیا آپ کیل مہاسوں سے پریشان ہیں

10:02 am

ایک اندازے کے مطابق 85فیصد لڑکیاں کیل مہاسوں کا ہر صورت شکار ہوتی ہیں جبکہ15فیصد لڑکیاں اس سے محفوظ رہتی ہیں یا کبھی کبھار انہیں ایک آدھ دانے سے واسطہ پڑجاتاہے جو اتنا پریشان کن ثابت نہیں ہوتا۔گندے اور پیپ دار دانے عموماً16سے18سال کے درمیان زیادہ شدت سے نکلتے ہیں جو شخصیت کو متاثر کرنے کے علاوہ تکلیف کا سبب بھی ہوتے ہیں۔کیل مہاسوں یا دانوں کی علامتیں بعض بچوں میں9سے10سال کے درمیان ہی ظاہر ہونے لگتی ہیں اور یہ سلسلہ سن بلوغت تک جاری رہتاہے۔
 
بیشتر نو عمر(Teenagers)لڑکیاں اسے ایک معمولی سی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں کیونکہ انہیں بتایا جاتاہے کہ اس عمر میں ہر کوئی اس کا شکار ہوتاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود بخود کم ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ چہرہ بالکل صاف ہوجاتاہے۔ تاہم چہرہ صاف ہونے کا دورانیہ مختلف لڑکیوں میں مختلف ہوتاہے بعض جلدی ٹھیک ہوجاتی ہیں جبکہ بعض کو سالہا سال اس صورت حال کا سامنا رہتاہے۔ کیل مہاسوں کے علاج کے سلسلے میں اب تک ہونے والی تحقیق کے بعض پہلو ابھی تک تحقیق طلب ہیں۔سائنسدان یا ماہر امراض جلد(Dermatologist) بھی اس معاملے میں اپنی کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکے۔دنیا کے معروف ترین ڈرماٹالوجسٹ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی دوا تیار نہیں ہوئی جو انہیں جادوئی طریقے سے رات ہی رات میں ختم کردے اور جلد ہر قسم کے داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے صاف ہو جائے لیکن ایسی دوائیں ضرور تیار کرلی گئی ہیں جن کے استعمال سے ان کی شدت میں آہستہ آہستہ کمی آنے لگتی ہیں اور جلد معمول سے پہلے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ بعض لڑکیوں کو انتہائی ضدی قسم کے کیل مہاسوں سے واسطہ پڑجاتاہے ۔ماہرین جلد کے مطابق اگر ان کا علاج نہ کرایا جائے تو اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ چہرہ مستقل خراب ہوجائے۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے نفسیاتی اثرات بھی بڑے شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔خصوصاً ان لڑکیوں میں جو جلد کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں،اس قسم کی صورتحال انتہائی پریشانی اور تشویش کا باعث بن جاتی ہے۔ لڑکیوں کا اپنی شخصیت پر سے اعتماد اٹھنے لگتاہے اور احساس کمتری بڑھ جاتاہے۔بعض تو معاشرے سے بالکل کٹ کر رہ جاتی ہیں۔شادی بیاہ اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت بھی ان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض لڑکیاں خود کشی کرنے کا بھی سوچنے لگتی ہیں۔ ماہرا مراض جلد کیا کہتے ہیں؟ جلد کے بیشتر معروف ماہرین کا یہ موقف ہے کہ بلاشبہ کیل مہاسوں کا حتمی علاج ابھی دریافت نہیں ہوا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ یہاں روشنی اور امید کی کرنیں بھی موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر ان کے بتائے ہوئے چند طبی مشوروں پر عمل کیا جائے تو کیل مہاسوں سے مکمل طور پر نہ سہی لیکن کسی حد تک نجات ضرور حاصل کی جاسکتی ہے۔ غیر معیاری مصنوعات سے گریز ادویات کی طرف مائل ہونے سے قبل اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آپ جلد کے ساتھ کیسا سلوک کررہی ہیں؟یعنی آپ ایسی کا سمیٹکس مصنوعات تو استعمال نہیں کر رہیں،جو کیل مہاسوں یا جلد کی خرابی میں بھی حصہ ڈال رہی ہیں۔ کیونکہ ایسی بیشتر مصنوعات موجود ہیں جو غیر معیارہونے کے باعث جلد کو بہتر بنانے کے بجائے اس میں بگاڑ پیدا کررہی ہیں۔لہٰذا اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ جو بھی کاسمیٹکس مصنوعات استعمال کررہی ہوں وہ کسی معیاری کمپنی کی ہو۔سستی اشیاء کے چکر میں اپنے آپ کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔خصوصاً کمپنی کی ہوں۔اگر کسی چیز کے استعمال سے آپ کو جلد کی مزید خرابی کا احساس ہوتو آئندہ اسے کبھی استعمال نہ کریں۔ دانوں کو مت دبائیں آپ کو اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ کہیں ہر وقت آپ کا ہاتھ چہرے پر موجود دانوں سے چھیڑ چھاڑ یا انہیں دبانے اور بچکانے میں تو لگا نہیں رہتا۔اگر ایسا ہے تو آپ اپنی جلد کی خود دشمن بنی ہوئی ہے اور کیل مہاسوں کو خود دعوت دیتی ہیں کہ وہ آپ کی جلد کو خراب کرتے رہیں ۔کوشش کریں کہ حتی الامکان آپ کا ہاتھ متاثرہ جگہ پر نہ جائے یا بہت ضروری ہوتو جلد کو چھونے سے پہلے ہاتھوں کو کسی اچھے صابن سے دھولیں ۔ دانوں کو دباتے رہنے سے چہرے پر مستقل قسم کے نشانات بھی پڑسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان سے نکلنے والے جراثیم صاف جلد پر بھی اپنی جگہ بنا لیتے ہیں یوں انہیں جلد کو خراب کرنے کا موقع مل جاتاہے۔پیل (Peel)اور فشل بھی عارضی طور پر مددگار ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اب تک ایسے کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملے جس سے ان کے دیر پا اثرات کا پتہ لگایا جا سکتاہو۔ عام طریقہ علاج کیل مہاسوں کے لیے عام طور پر ڈاکٹر کریمیں وغیرہ تجویز کرتے ہیں تاہم کھانے اور لگانے والی ادویات ایک ساتھ بھی دی جاتی ہیں۔ یہ کریمیں دانوں مہاسوں وغیرہ میں جذب ہوکر انہیں خشک کر دیتی ہیں۔کچھ اینٹی بائیو ٹکس ادویات بھی استعمال کرائی جاتی ہیں۔عموماً ان میں ارتھرومائی سین یا کیلنڈامائی سین وغیرہ شامل ہیں۔یہ ادویات بیکٹیریا کی پیداوار کم کرنے کے علاوہ جلن اور تکلیف کے احساس کو بھی کم کر دیتی ہیں۔کیونکہ جلد کی خرابی کا سارا فساد ان بیکٹیریا ہی کا پیدا کردہ ہے اگر ان کا خاتمہ ہو جائے تو جلد بھی درست اور اصلی حالت میں آجاتی ہے لیکن اگر ان ادویات کے نمایاں اثرات ظاہر نہ ہوں تو ذرا سخت قسم کی اینٹی بائیو ٹکس تجویز کی جاتی ہیں۔ ان میں مائنو سائیکلین،ٹیرا سائیکلین،ارتھرومائی سین یا پھر ڈاکسی سائیکلین جیسی ادویات عام ہیں۔ اکثر ان ادویات کے اثرات ظاہرہوتے ہیں کیونکہ یہ بیکٹیریا کے خلاف کام کرتی ہیں اور انہیں ختم کر دیتی ہیں۔شاید آپ کو حیرت ہو کہ بد قسمتی سے بعض لڑکیوں کے بیکٹیریا انتہائی سخت جاں ثابت ہوتے ہیں اور سخت قسم کی اینٹی بائیوٹکس بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتیں۔ ان حالات میں ڈاکٹر آخری حربے کے طور پر وٹامنز اے سے متعلق ادویات کا استعمال کراتے ہیں مگر یہاں بھی ایک خوف ڈاکٹروں اور مریضوں کا پیچھا نہیں چھوڑتا کہ کہیں وٹامنز اے کی زیادہ مقدار کسی اور بڑی تکلیف کا سبب نہ بن جائے کیونکہ ان ادویات کے ضمنی اثرات(Side effects) کافی خطر ناک بھی ہو سکتے ہیں جن میں جگر کی خرابی خاص طور پر شامل ہے۔اس لیے اس علاج کو بھی بہت احتیاط اور سوچ سمجھ کر اپنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ان خواتین میں جو ماں بننے والی ہوں ان ادویات کا ردعمل نہایت خشک جلد اور حمل میں پیچیدگی کی صورت میں بھی آسکتاہے ۔اس لیے اگر حاملہ خواتین اس قسم کا علاج کرارہی ہوں تو انہیں کم از کم ایک ماہ میں دوبار اپنا طبی معائنہ کراتے رہنا چاہیے۔ کیل مہاسے کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سوال اکثر اٹھایا جاتاہے کہ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کیل مہاسوں سے واسطہ کیوں پڑجاتاہے؟سائنسی نقطہ نگاہ سے اس کا جوجواب دیا جاتاہے اس کے مطابق یہ وہ دور ہوتاہے جس میں جنسی ہارمونز کی کارکردگی اپنے عروج پرہوتی ہے اور انہی ہارمونز اور غدود کا کمال ہے کہ اس سے اعضا کی نموہوتی ہے ۔ ہارمونز انسانی غدود کو تحریک دیتے ہیں۔اس سارے عمل کے دوران جلد میں تیل پیدا ہوتاہے۔یہ تیل مساموں کے ذریعے باہر بھی نکلتاہے لیکن بعض اوقات اس کا بہاؤ سست ہوجاتاہے اور تیل مساموں میں ہی جم جاتاہے۔چنانچہ تیل کا جمنا ہی بیکٹیریا کو اپنا کام دکھانے کی دعوت دیتاہے۔یوں بیکٹیریا مساموں میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ یہاں مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا خاص قسم کا مادہ خارج کرتے ہیں جو کیل مہاسوں کا اصل سبب بنتاہے۔جلد یا چہرے پر بلیک ہیڈز اور وائٹ ہیڈز کے پیداہونے کی وجہ بھی یہی جلدی تیل ہے جو مساموں کو بند کر دیتاہے۔ مانع حمل ادویات کا استعمال اگر چہ یہ بظاہرعجیب سی بات ہے لیکن بعض ماہرین نے کیل مہاسوں کے خاتمے میں مانع حمل ادویات کو بھی مفید قرار دیا ہے اور بعض ادویات پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ ہارمونز کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مانع حمل ادویات موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔خصوصاً اس وقت جب وہ ایام(حیض)میں ہوں اور چہرہ کیل مہاسوں سے بھر جائے۔ 1996ء میں آرتھوٹرائی سائیکلین پہلی مانع حمل دوا تھی جسے خواتین میں کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ دوسری بعض ادویات تحقیق مراحل میں ہیں۔یہ ادویات جلد میں تیل کی پیدوار کم کردیتی ہیں جس کے باعث کیل مہاسوں میں بھی کمی آتی ہے۔ اس کے نتائج البتہ تین ماہ بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ایسی بھی خواتین ہیں جو دیسی طریقہ علاج کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ان میں خاص طور پر ایسی جڑی بوٹیاں استعمال کی جاتی ہیں جن میں جلد کو خشک کرنے والے مرکبات موجود ہوں۔یورپ میں چائے کے درخت کا تیل اس ضمن میں سب سے زیادہ استعمال میں لایا جاتاہے۔ معدنی اجزاء کا کردار یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ عموماً کیل مہاسوں سے ان لوگوں کا زیادہ واسطہ پڑتاہے جن میں جست(Zinc) کی سطح مطلوبہ مقدار سے کم جبکہ تانبا(copper) کی سطح زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ممکن ہے کہ معالج وٹامنز اے پر مشتمل تین ماہ کا کورس کرائے جس میں 25ہزار سے50ہزار یونٹ روزانہ کی مقدار تجویز کی جاتی ہے لیکن تمام ڈرماٹالوجسٹ اس طریقہ علاج کے بارے میں تحفظات کا شکار ہیں۔ان کے خیال میں وٹامنز اے کی زیادہ مقدار جگر کی خرابی اور بعض دوسری پیچیدگیوں کاباعث بن سکتی ہے۔ اس وقت امریکہ سمیت یورپ میں کیل مہاسوں کے خاتمے سے متعلق بنائے جانے والی ادویات میں زیادہ تر جست (Zinc)استعمال کی جاتی ہے لیکن سائنسی طور پر اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ کیا واقعی کیل مہاسوں کے خاتمے میں جست (Zinc)معاون ثابت ہوتی ہے ۔ البتہ بعض ڈاکٹروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چند لڑکیوں کو جست ملی ادویات استعمال کرانے سے ان میں بہتر نتائج دیکھے گئے ہیں۔اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ مستقل قریب میں یہ جلد کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ غذا کا کیل مہاسوں سے تعلق غذا اور کیل مہاسوں سے متعلق ایک عام خیال یہ ہے کہ کیل مہاسوں کا خوراک سے بھی بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ چاکلیٹ ،چکنائی اور تیز مرچ مصالحوں کو بھی عموماً جلد کی اس خرابی کا ذمہ دار ٹھہراپاجاتاہے لیکن سائنسی اور تحقیقی نتائج کے مطابق ابھی تک اس خیال کو قطعی طور پر درست ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس معاملے میں خوراک سب پر یکساں انداز میں اثر انداز نہیں ہوتی۔ بہت کم افراد ہیں جو خوراک کے باعث خراب جلد یا کیل مہاسوں کا شکار ہوتے ہیں ۔اس لیے قطعی طور پر خوراک کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔بہت اچھی اور متوازن غذا کھانے والوں کو بھی کیل مہاسوں کا شکار دیکھا گیا ہے جبکہ معمولی اورعام غذا استعمال کرنے والی متعدد لڑکیاں اس عذاب سے محفوظ رہتی ہیں۔اس لیے اس معاملے میں بھی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔تاہم اچھی غذا کو بہتر اور صحت مند جلد سے قطعی طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔