05:01 pm
اسلامی ملک میں گھمسان کی جنگ چھڑ گئی، کئی درجن ہلاکتیں

اسلامی ملک میں گھمسان کی جنگ چھڑ گئی، کئی درجن ہلاکتیں

05:01 pm

طرابلس(آئی این پی)لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی اور عسکری گروپ ہفتر کی جانب سے حکومت کے خلاف شروع کی گئی جارحانہ کارروائیوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 121 افراد ہلاک اور 560سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی
اور عسکری گروپ ہفتر کی جانب سے حکومت کے خلاف شروع کی گئی جارحانہ کارروائیوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 121 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ہفتر کی فورسز اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں دونوں فریقین نے پیش قدمی کا دعوی کیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں دونوں میں سے کسی کی بھی فورسز زیادہ آگے نہیں بڑھ سکیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق 4 اپریل سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں اب تک 121 افراد ہلاک اور 560 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں اور وہ طبی امداد کے لیے مزید عملہ اور ادویات بھیج رہے ہیں۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ اس کے عملے اور گاڑیوں پر حملے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ ہفتے کو طبی عملے کے 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی گئی تھی۔تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر عالمی قوتوں نے تشویش کا اظہار کیا جہاں 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ افواج کی جانب سے سابق آمر معمر قذافی کو ہٹائے جانے کے بعد سے ملک مستقل مشکلات کا شکار ہے، اس کے بعد سے مختلف قوتوں کی جانب سے ملک کے اقتدار پر قبضے کی جنگ بھی جاری ہے۔ہفتر کی جانب سے یہ جارحیت ایک ایسے موقع پر کی گئی، جب ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے رواں ماہ ایک کانفرنس شروع ہونے والی تھی تاہم اب اقوام متحدہ نے اس کانفرنس کو منسوخ کردیا۔