04:48 pm
سیلاب کی تباہی کے بعدایران پرایک اورمخلوق کاحملہ ،بڑے پیمانے پرتباہی

سیلاب کی تباہی کے بعدایران پرایک اورمخلوق کاحملہ ،بڑے پیمانے پرتباہی

04:48 pm

تہران (ویب ڈیسک )ایران اپنے اوپرنازل ہونے والی ہرمصیبت کا ذمہ دار سعودی عرب ٹھہرانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ ایران کےبعض ساحلی اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران سمندری ٹڈیوں نے حملہ کردیا اور ایرانی عہدیدار اس کا الزم بھی سعودی عرب کے سرتھوپتے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کےمطابق ایران کے ایک سینیر عہدیدار نے الزام عایدکیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران پر ٹڈیاں چھوڑی ہیں جنہوں‌نے خلیج عرب کےساحل سےمتصل علاقوں میں فصلیں تباہ کردیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کےمطابق ایران کے انسداد آفات وتحفظ نباتات کے ڈائریکٹر جنرل سعید معین معین نے 'فارس' نیوز ایجنسی کو دیئےگئے ایک انٹرویومیں کہاکہ سعودی مملکت شرارتی طریقوں پرعمل پیرا ہے
اور اس نے ٹڈیوں کا رخ ایران کی طرف موڑ دیا تاکہ ایرانی فصلوں کوتباہ کیا جاسکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب کےخلاف زہراگلنا معمول کی بات ہے مگر ٹڈیوں کو ایران پرحملے پراکسانے کی منطق ناقابل فہم ہے۔ ایرانی عہدیدارکے اس عجیب بیان پر سوشل میڈیا پر اس کا خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔زرعی امور کے ماہر فرھاد طالشی نے سعید معین کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ لندن سے شائع ہونے والے اخبار'کیھان' نے لکھا ہےکہ ٹڈیوں کا حملہ ایک عام آفت ہے جس کا سعودی عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ صحرائی ٹڈیاں رطوبت والے علاقوں سے اٹھتی ہیں۔ یہ زیادہ تر بحیرہ روم کے اطراف کےممالک، مصر اور سوڈان کے صحرائی علاقوں سے نکلتی ہیں۔ ان کا سعودی عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔انہوں‌نے سعودی عرب پر الزام دھرنے والے عہدیدار کو جاھل اور کند ذہن قرار دیا۔خیال رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران ایران کے 6 ساحلی اضلاع پر بحری ٹڈیوں‌نے یلغار کردی۔یہ یلغار ایک ایسے وقت میں کی گئی جب دوسری جانب ایران میں بارشوں کے باعث سیلاب نے تہران کی معیشت کو تقریبا ایکارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

تازہ ترین خبریں