06:32 am
پاکستان کے ایک شہر میں موجود وہ خزانہ جس کا 90فیصد پاکستان اوربقیہ 10فیصد بھارت میں ہے

پاکستان کے ایک شہر میں موجود وہ خزانہ جس کا 90فیصد پاکستان اوربقیہ 10فیصد بھارت میں ہے

06:32 am

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ایک شہر میں موجود وہ خزانہ جس کا 90فیصد پاکستان اوربقیہ 10فیصد بھارت میں ہے ۔۔! ہندوستان نے جب وہ خزانہ کھود کے نکالا تو کیا ہوا ؟ ۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی((SECMO) کے ڈائریکٹر مائننگ اینڈ آپریشن سید مرتضی اظہر رضوی نے کہاہے کہ تھر بلاکii میں کوئلے کے ذخائر 50 سال تک 5 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کر سکتے ہیں جو ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے کافی ہے ۔۔پاکستان میں اس وقت پٹرولیم مصنوعات سے بجلی بنائی جا رہی ہے ، جو بہت مہنگی پڑتی ہے ،
پاکستان میں اربوں ٹن کوئلہ مدفون ہے مگر اسے نہ نکال کر ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھنسا دیا گیا ہے ۔تھر پارکار میں 3ارب ڈالرز کا کول مائننگ اور پاور پروجیکٹ منصوبے کا پہلا مرحلہ تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہے۔معینہ مدت سے پانچ ماہ قبل منصوبہ مکمل کرکے رواںسال کے آواخر میں330میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کردی جائیگی۔ تھر میں ٹیکنائیڈ کول ہے ، جو دنیا میں موجود کوئلے ہی کی طرح اور بجلی بنانے کے قابل ہے ۔۔بھارتی راجستھان میں کوئلہ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور پاور پلانٹ چلانے کے لیے بھارت کوئلہ درآمد کر رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے’’ این این آئی‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے بتایا کہ سندھ کے ضلع تھر پارکار میں 3ارب ڈالرز کا کول مائننگ اور پاور پروجیکٹ منصوبے کا پہلا مرحلہ تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہے ۔ کول مائننگ کا 89 فیصد اور پاور پروڈکشن کا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ رواں سال دسمبر میں بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کر دی جائے گی جبکہ کمرشل سطح پر کام آئندہ سال جون میں شروع ہو گا ۔ ہم مقررہ وقت سے 5 ماہ قبل ہی منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیں گے ۔ کوئلے کی تلاش کے لیے اب تک 148 میٹر کی کھدائی کی جا چکی ہے ۔ جون 2018 میں پہلی مرتبہ کوئلہ نکلا تھا لیکن وہ بجلی بنانے کے قابل نہیں تھا ۔ اس لیے ہم مزید کھدائی کر رہے ہیں ۔ 160 میٹر پر اچھا کوئلہ نکلے گا ، جس کو پاور پروڈکشن کے لیے استعمال کیا جا سکے گا ۔ مجموعی طور پر ہم `190 میٹر تک کھدائی کریں گے ۔انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 1.6 اسکوائر کلو میٹر پر مائن کی کھدائی کر رہے ہیں جس کے لیے 24گھنٹے کام ہو رہا ہے ۔ 17 ایگزاکویٹر کھدائی ، 125 ڈمپر مٹی نکال رہے ہیں ۔ ہم اب تک پانی کی 2 تہہ نکال چکے ہیں اور تیسری تہہ کی جانب گامزن ہیں ۔ تیسری تہہ نکالنے کے بعد کوئلہ نکالنا شروع کر دیں گے ۔ مائن سے پانی نکالنے کے لیے 29 جدید ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں جو کھدائی سے قبل ہی زمین سے پانی نکال لیتے ہیں ۔ڈائریکٹر مائننگ اینڈ آپریشن نے بتایا کہ تھر کول مائننگ پروجیکٹ ایس ای سی ایم کی زید نگرانی چل رہا ہے ۔ منصوبے میں 2کمپنیاں مل کر کام کر رہی ہیں ۔ ایک مائنی کمپنی ہے اور ایک بجلی کی ۔ پروجیکٹ میں سندھ حکومت کا حصہ 54 فیصد ہے منصوبے میں شامل 6 کمپنیاں 46 فیصد کی حصے دار ہیں ۔انہوںنے کہا کہ 3 ارب ڈالرز کے حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے منصوبے میں سندھ گورنمنٹ اور وفاقی حکومت نے انفرا سٹرکچر پر ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ ایس سی سی ایم سی 2 ارب ڈالرز کی انویسٹمنٹ کر رہی ہے ۔ 845 ملین ڈالرز کی سرماری کوئلے پر جبکہ 1.1 ارب ڈالرز پاور پلانٹ پر انویسٹمنٹ ہے ۔ وفاقی حکومت نے نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی کے لیے 275 کلو میٹر کی لائی ٹیشن تاریں بچھا کر دی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 185 ٹن کوئلہ موجود ہے ، جس میں 175 ٹن کوئلہ تھر میں ہے ۔ راجستھان اور تھر میں جو کوئلہ موجود ہے ،اس میں 10 فیصد بھارت کے پاس باقی 90 فیصد پاکستان میں ہے۔بھارت نے 1948 ء میں ہی راجستھان سے کوئلہ نکالنا شروع کر دیا تھا اور بجلی بنانے کے لیے وہاں 8 پاور پلانٹس لگائے گئے تھے ۔ راجستھان میں کوئلہ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور پاور پلانٹ چلانے کے لیے بھارت کوئلہ درآمد کر رہا ہے ۔

تازہ ترین خبریں