10:13 am
’’قیامت کی نشانیاں ہیں یہ سب ‘‘

’’قیامت کی نشانیاں ہیں یہ سب ‘‘

10:13 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) عورت مارچ کے متنازعہ پوسٹ کی خالق نے توجہ ملنے پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمجھ نہیں پائی کہ لوگ اس پوسٹر سے اتنا خوفزدہ کیوں ہوگئے،مرد اگر ٹانگیں کھول کر یا پھیلا کر بیٹھیں تو اِس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے ۔بی بی سی کے مطابق جب رومیسا لاکھانی اور راشدہ شبیر حسین نے عورتوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ایک جلوس کے لیے پلے کارڈز بنائے تھے
تو ان کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ پورے ملک میں ہر ایک کا موضوعِ بحث بن جائیں گے۔رومیسا نے بتایا کہ عورتوں کے بیٹھنے کے انداز پر معاشرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی بات ہوتی رہتی ہے،ہمیں باوقار نظر آنا چاہیے، ہمیں اپنے جسم کے خد و خال بہت عیاں نہیں کرنے چاہیے لیکن مرد اگر ٹانگیں کھول کر یا پھیلا کر بیٹھیں تو اِس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق رومیسا کمیونیکیشن ڈیزائین جبکہ راشِدہ سوشل ڈیویلپمنٹ اینڈ پالیسی کی طالبہ ہیں۔ راشِدہ نے کہاکہ ہم دونوں بہترین دوست ہیں، ہم اکٹھا ہنستے ہیں، ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی باتیں بتاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق رومیسا کیلئے جلد شادی کے خاندانی دباؤ سے نمٹنا روز کا معمول ہے۔ انھوں نے اب تک شادی نہیں کی ہے اور وہ اسے اپنی فتح سمجھتی ہیں۔راشِدہ نے کہا کہ انھیں عموماگلیوں میں سڑکوں پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رومیسا نے کہاکہ یہ ایک قسم کی ہماری طاقت کا مظاہرہ تھا اور میرا خیال ہے کہ اس مارچ میں شامل ہر عورت اپنے آپ کو با اختیار محسوس کر رہی تھی۔

تازہ ترین خبریں