11:23 am
جب ہندو اپنے مردے کو آگ میں جلاتے ہیں تو اسکے جسم میں سے کس طرح کی خوفناک آوازیں نکلتی ہیں ؟ لرزہ خیز انکشاف

جب ہندو اپنے مردے کو آگ میں جلاتے ہیں تو اسکے جسم میں سے کس طرح کی خوفناک آوازیں نکلتی ہیں ؟ لرزہ خیز انکشاف

11:23 am

لاہور (ویب ڈیسک) میانوالی شہر کی نامور شخصیت اور ریٹائرڈ پروفیسر منور علی ملک اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔داؤدخیل شہر کے جنوب میں ، میاں کھچی کے قبرستان کے قریب ایک چھوٹا سامیدان تھا جہاں قیام پاکستان سے قبل ہندو اپنے مرنے والوں کی لاشیں جلایا کرتے تھے-ہندو مذھب کا رواج یہ ہے کہ مردے کو د فنا نے کی بجائے اس کی لاش کو جلا کر راکھ دریائے گنگا میں بہا دی جاتی ہے- بھارت میں آج بھی یہی رواج ہے۔ ہم نے وہ منظراپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا کیونکہ جب ھم نے ہوش سنبھالا تو ہندو پاکستان چھوڑ کر جا رہے تھے–
شہر کے باقی لوگوں نے یہ منظر بارہا دیکھا تھا- مردے جلانے کی جگہ کو چہانڑیاں کہتے تھے- ھندی اور اردو میں اسے شمشان گھاٹ کہتے ہیں ۔ بزرگ بتاتے تھے کہ لکڑیوں کا ایک ڈھیر بنا کر اس کے اوپر میت کو لٹا دیتے تھے- لکڑیوں کے اس چوکور ڈھیر کو ارتھی کہتے تھے – میت کے اوپر اتنی ہی اور لکڑیاں ڈال کر ان پر گھی یا تیل چھڑکنے کے بعد لکڑیوں کو آگ لگا دیتے تھے- پھر مرنے والے کے خاندان کے لوگ اور ان کے دوست ، رشتہ دار ایک دائرے میں ارتھی کے گرد کھڑے ھوکر اپنےکچھ مذھبی منتر دعائیں وغیرہ پڑھتے تھے ۔ آگ میں جلتی ہوئی لاش کا سر ایک دھماکے سے پھٹتا اور کچھ دیر بعد لاش راکھ کا ڈھیر بن جاتی یہ راکھ ٹھنڈی ہونے پر ایک بوری یا گٹھڑی میں محفوظ کر لی جاتی تھی جب کبھی کوئی دلی یا اسکے قرب و جوار میں جاتا تو یہ راکھ کی گٹھڑی اسکے سپرد کی جاتی تاکہ وہ اسے دریائے گنگا میں بہا دے ۔ ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ راکھ دریائے گنگا میں بہانے سے مردے کی بخشش ہو جاتی ہے ۔ ھم نے تو صرف چہانڑیاں والا میدان ھی دیکھا – باقی باتیں بزرگوں سے سنی ھوئی لکھ دی ہیں – ایک بات یہ تھی کہ رات کے وقت لوگ چہانڑیاں کے قریب جانے سے ڈرتے تھے- کہتے تھے یہاں رات کو بھوتوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ آج کل وہاں ایک ٹیوب ویل ھے اور چاروں طرف فصلیں لہلہا رہی ہیں۔

تازہ ترین خبریں