03:45 pm
’’اے عرش والے ! بیٹا اس لیے دیا تھا کہ میرے منہ پر جوتے مارے ؟ ‘‘

’’اے عرش والے ! بیٹا اس لیے دیا تھا کہ میرے منہ پر جوتے مارے ؟ ‘‘

03:45 pm

میں چیچہ وطنی (پنجاب) سے تقریر کر کے جارها تھا کچھ ساتھی ساتھ تھے، ایک آدمی کو دیکھاچار پائی پربیٹھاتھا، مکھیاں اس کے پاس بھنبھنارهی تهیں، عجیب حالت تھی؛ چہره زرد هے، غبار و گرد هے، عجیب درد نہ اس کا کوئی همدرد هے، مجهے سمجھ نہ آئی یہ کون ہے، میں اس کے قریب گیا تو کہنے لگا “او مولانا! ادهر تشریف لائیں، پیلے دانت ہڈیوں کا ڈھانچہ کمزور سانچہ،
اس کے پاؤں پر ایک کپڑا پڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا مجھے عبرت سے دیکھو، ابهی آپ کی تقریر کی آواز یہاں آرهی تھی اور میں سن رها تھا، کہنے لگا یہاں میرا مکان تھا، دوکان تھی، کاروبارتھا،میں کون تھامیں ایک شیر جیسا انسان تھا، لیکن اب بھیک مانگتا هوں اور اب کوئی بھیک بھی نہیں دیتا، بلکہ مجھ پر لوگ لعنت کرتے هیں، کہنے لگا غور سے سننا، عبرت کی بات بتارها هوں، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کافی دیر تک روتا رها، کہنے لگا میں وه بدنصیب هوں جس نے اپنی ماں کے چہرے پر جوتے مارے هیں، (استغفراللہ) کہنے لگا ایک رات اپنے بدکردار غنڈے دوستوں کے ساتھ سینما دیکھنے گیا واپسی پر گھر پہنچ کر ماں سے کهانا مانگا، تو ماں نے شرم دلائی، ساری رات آوارہ گردی کرتا هے کبھی پولیس پکڑتی هے، نہ تمہارا باپ ایسا تھا نہ دادا اور نہ یہ تیری ماں ایسی هے، تو کن غنڈوں میں پھنس گیا هے،اس نے اپنی ممتا کا غصہ اتارا مجھ پر. بس مجھے غصہ آیا اور جوتا لے کر ماں کو مارنے لگا، اس میں دو جوتے اس کے منہ پر لگے، ماں کے منہ سے اتنی آواز سنی ، اے عرش والے! اس لیئے بچہ دیاتھا کہ آج میں جوتے کها رهی هوں، اے رب مجھے اپنے پاس بلالے، اب مذید جوتے نہیں کها سکتی، اے رب جس نے ماں کے منہ پر جوتے مارےاس کتے کو تو دنیا اور آخرت میں برباد کردے، کہنے لگا اس وقت ماں کی ان باتوں کو سن کر سو گیا، رات پاؤں میں ایک درد اٹھا، پاؤں لرزنے لگا، صبح تک پاؤں سوجھ کر بہت موٹا هوگیا، ڈاکٹروں کو دکھایا لاهور گیا ملتان نشتر ہسپتال گیا،آخر پاؤں کاٹنا پڑا اور پهر مسلسل پاؤں کٹتے گئے کٹتے گئے! اس نے اپنے پاؤں کے حصے سے کپڑا اٹھایا بہت پیپ بہہ رهی تھی، کہنے لگا یہ زخم نہیں ماں کی بدعا هے اللہ کا قہر هوا مجھ پر، ماں تو رو رو کر ایک ہفتے میں چل بسی، جائیدادگئی، مال گیا، بیوی گئی، بیٹے گئے، 4 سال سے یہاں پڑا هوں، پیپ مسلسل بہہ رهی هے، ایسا لگتا هے کہ ہر وقت کتے کاٹ رهے هیں، نیند نہیں آتی، گزرنے والے کہتے هیں یہ وه لعنتی هے جس نے اپنی ماں کو جوتوں سے مارا هے، کتے کی طرح میرے سامنے روٹی پھینکتے هیں، بیٹوں کو بلاتا هوں نہیں آتے ابا نہیں کہتے، کہنے لگا مولانا مجھےروٹھا رب راضی کرادو، ماں کے ایک لفظ نے اللہ کے قہر سےمجھےبرباد کردیا “” اتنا کہہ کر وه گر پڑا اور روتا رها، پھر اس نے آنکھ نہ کھولی، مولانا فرماتے هیں، خدا کی قسم یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا هے، اے اللہ تو همیں والدین کا فرمانبردار بنادے آمین (خوب آگے بھیجیں شاید کوئ نافرمان موت سے پہلے توبہ کرلیں) اور اپنے اللہ کو راضی کرلیں (خطیب العصر حضرت مولانا عبدالشکور صاحب دین پوری ؒ کی کتاب سے)

تازہ ترین خبریں