03:56 pm
ایک کھیت میں کچھ کبوتر دانا چگ رہے تھے کہ اچانک وہاں ایک کوا آن بیٹھا اور ان کبوتروں کو دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا

ایک کھیت میں کچھ کبوتر دانا چگ رہے تھے کہ اچانک وہاں ایک کوا آن بیٹھا اور ان کبوتروں کو دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا

03:56 pm

ایک کھیت میں کچھ سفید رنگ کے خوبصورت کبوتر دانا چگ رہے تھے کہ اچانک وہاں ایک کوا آن بیٹھا ۔ اور کبوتروں کو دیکھ کر ہنسنے لگا۔ کبوتروں نے حیران ہوکر وجہ پوچھی تو کہنے لگا” تمھاری بے بسی پر ہنس رہا ہوں۔ ہر صبح تمھیں تمھارا مالک اپنے گھر کے گڑھے سے نکال کر اس کھیت میں چھوڑ دیتا ہے۔ تمھارے پر بھی کاٹ دیے ہیں۔تم کہیں اڑ کرجا سکتے ہو اور نہ ہی اس دانے دنکے کے علاوہ کوئی چیز کھانا تمھارا مقدر ہے۔ اور تو اور تم کبھی کسی بلی کا شکار بن جاتے ہو کبھی کوئی نیولا تمھیں آکر کھاجاتا ہے۔
مجھے دیکھو کس قدر آزاد ہوں۔ میر ا کوئی مالک نہیں۔ کوئی میرے پر کاٹنے والا اور مجھے قید کرنے والا نہیں۔ نہ کوئی مجھے کھا سکتا ہے اور نہ ہی مجھے اپنی پسند کی چیزیں کھانے سے روک سکتا ہے۔ میں اپنی پسند کی چیز خودڈھونڈ کر اسے آسانی سے کھا سکتا ہوں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دن ہو یا رات ۔میں کہیں بھی بند ہو کر رہنے کا پابند نہیں۔ کبوتر کوے کی باتیں سن کر مرجھائی ہوئی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک کبوتر نے جھٹ سے کوے سے پوچھا ” چل ہمیں بتا۔ ہم ایسا کیا کریں کہ تیرے جیسی آزادی اور خوشیاں ہمیں بھی میسر آجائیں ” کوے نے کچھ سوچتے ہوئے انتہائی مکاری سے کبوتروں کو دیکھا اور بولا ” چار کام کرنا ہوں گے ۔ ایک تو مجھے اپنا سردار بنانا ہوگا۔ دوسرا میرے جیسا حلیہ بنانا ہو گا ۔اور اپنی سفید رنگت کو سیاہ کرنا ہوگا۔ اور تیسرا یہ کہ میرے ساتھ چل کر جیسے جیسے میں کہوں کرنا ہو گا ،کرنا ہوگا اور ایک وعدہ کرنا ہوگا کہ آج کے بعد تم دانا دنکا نہیں کھائو گے ۔ کبوتروں نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا اور پھر اس کے ساتھ چلنے کےلئے حامی بھر لی۔ کوا جھٹ سے ایک گھر سے سیاہی کی ایک دوات اپنی چونچ میں اٹھا لایا۔ اور کچھ ہی دیر میں سب کے سب کبوتر سیاہ رنگ میں تبدیل ہو چکے تھے۔ ایک کبوتر نے کوے سے کہا ” ہم سب تجھے اپنا سردار تسلیم کرتے ہیں۔اب بتا ہمیں اور کیا کیا کرنا ہو گا”کوا مکاری سے ہنسا اور بولا ” سب جان جائو گے ۔اتنی بھی جلدی کیا ہے ۔ فی الحال میرے ساتھ چلو” ۔ سیاہ رنگت میں ڈھلے ہوئے کبوتر کوے کے پیچھے پیچھے چل دیے ۔کچھ ہی فاصلے پر ایک گندے پانی کا جوہڑ آیا۔ کوے نے کہا ” لو بھائیو! نہانے اور پینے کے لئے پانی میسر آگیا ہے ۔ چلو مزے اڑائو” کبوتر وں نے جوہڑ کی بدبو سے ناک چڑھاتے ہوئے کہا ” ہم نے ایسا گند ا پانی آج تک کبھی نہانے کےلئے استعمال کیا اور نہ کبھی نہائے ۔” اس پر کوے نے جواب دیا ” دیکھو! یہ تمھاری آزادی کا پہلا قدم ہے۔ کیاتم نے سنا نہیں کہ آزادی کا سوکھا ہوا روٹی کا ٹکڑا غلامی کے حلوے سے بہتر ہے۔ ویسے بھی تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم میری ہر بات مانوگے ” کبوتروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک ایک کر کے جوہڑ میں اتر گئے اور گندے پانی میں پر پھڑ پھڑانے لگے اور اس نئی ” آزادی ” کا جشن منانے لگے۔ کچھ دیر بعد کوا کبوتروں کو جوہڑ سے نکال کرآگے لے گیا ۔ ایک فاصلے پر پہنچ کر سب کو ایک مرا ہوا گدھا نظر آیا جس سے بدبو کے بھبھوکے اٹھ رہے تھے ۔ کوا پرجوش انداز میں بولا” بھائیو! کھانے کا وقت ہو گیا ۔ ویسے بھی زوروں کی بھوک لگی ہےاور کھانا بھی سامنے پڑا ہے ۔ لو پھر شروع ہوجائو” کبوتروں نے جواب دیا ” گوشت خور تو ہم کبوتر ویسے بھی نہیں ہیں۔ اگر ہوتے بھی تو ایسی مردار اور بدبو دار چیز نہ کھاتے ” اس پر کوا غصے سے بولا ” تم لوگ بھول چکے ہو کہ تم کبوتر نہیں بلکہ کوے بن چکے ہو۔ اور تمھیں اپنے سردار کا حکم ٹالنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر ساتھ چلنا ہے تو یہ گوشت کھانا پڑے گا ورنہ یہیں سے واپس چلے جائواور گزارتے رہواور اپنی غلامی کی صاف ستھری زندگی”کوے کے جھاڑنے پر کبوتر شرمندہ ہوئے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے مردہ گدھے کاگوشت کھانا شروع کر دیا ۔جب سب کا پیٹ بھر گیا تو اگلی منزل کےلئے روانگی ہوئی ۔کوے کو ایک صحن میں ایک مرغی اپنے چوزو ں کے ساتھ گھومتی ہوئی دکھائی دی ۔ کوے نے کبوتروں سے کہا” دیکھو ! آزادی اور کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ہم پرندے صرف انسانوںاور قدرت کے محتاج ہو کر نہ رہیں بلکہ اپنا شکار خود کرنے کی بھی عادت ڈالیں ۔ وہ رہا شکار ۔ جائو اور جھپٹ کر وہ سارے چوزے اٹھا لائو” اس پر کبوتر ایک بار پھر لرز گئے ۔ انھوںنے جواب دیا” ہمیں محبت او ر امن کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ میں کبھی کسی کبوتر نے کسی اور زندہ چیز کو نقصان نہیں پہنچایا ۔ ان ننھی جانوں کو بھلا ہم ان کی ماں سے کیسے جدا کرکے جان سے مار سکتے ہیں ؟” اس پر کوا پھر سٹپٹا گیا اور بولا” کن احمقوں سے پالا پڑ گیا ہے ۔ ارے بھئی! تم لوگ وعدہ کرچکے ہو کہ تم آئندہ کبھی دانا دنکا نہیں کھائوگے۔ اور یہ قطعی ضروری نہیں کہ ہمیں ہمیشہ کوئی چیز اتنی آسانی سے میسر آجائے جتنی آسانی سے ہمیں وہ مردہ گدھا مل گیا تھا۔ تو کیا بھوکے مرو گے ؟۔ اپنی جان بچانے کےلئے کسی کی جان لینی پڑ جائے تو کوئی ہرج نہیں ہے۔ ارے بے وقوف کبوتروں والی باتیں بھول جائو اور اب عقل مند کوے بنو کوے۔” اس پر کبوتر نے پھر اثبات میں سر ہلایا اور جھپٹتے ہوئے گئے اور مرغی کے سارے چوزے اچک کر لے آئے ۔پھر انھیں ایک ویران جگہ لے جاکر چونچوں اور پنجوں سے چیر پھاڑ ڈالا۔ اور شکار کا ایک بڑا حصہ سردار کو پیش کردیا اور خود بچا کھچا مال کھانے لگے ۔ کوا اندر ہی اند ر اپنی عیاری کو داددیتا اور مسکراتا رہا کہ کیسے اپنی دماغ کے بل بوتے پر اتنے سارے کبوتروں کو اپنے ماتحت کر لیا ہے۔ ا ب وہ اس سوچ میں گم ہی تھا کہ ایک چھوٹےحجم کا پتھرزور دار طریقے سے اس کے سر پر آلگا اور وہ تکلیف کی شدت سے پھڑپھڑانے لگا ۔ کبوتروں ہڑ بڑا گئے اور کوے کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ اچانک ایک کبوتر کی نظر سامنے کھڑے ہوئے کچھ لڑکوں پر پڑی ۔ جو ہاتھ میں غلیلیںاٹھائے کھڑے ان کا نشانہ باندھ رہے تھے۔ ایک کبوتر نے زخمی کوے سے پوچھا ” کیا ہوا تمھیں؟ اور یہ ان لوگوں کےہاتھ میں کیا ہے” ۔ کوے نے درد کی شدت سے کراہتے ہوئے کہا ” ارے یہ غلیل ہے اور اس سے کوووں کو مارا جاتا ہے ” اس پر کبوتر شدید گھبرا گئے اور جواب اور لڑکوں کو مخاطب کرکے کہنے لگے ” بھیا ! ہمیں مت مارنا ۔ ہم کوے نہیں بلکہ کبوتر ہیں۔ ہم تو اپنے مالک کے پاس بڑے آرام اور حفاظت سے رہ رہے تھے۔ہمیں یہ منحوس کوا ورغلا کر یہاں لے آیا ۔ہمیں چھوڑ دو” اس پر لڑکوں نے کوے سے پوچھا ” کیوں بے ؟ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کوے نے اپنی یقینی موت دیکھ کر سوچا کہ میں تو مرہی رہا ہوں۔ یہ کیوں زندہ بچ جائیں ۔ انھیں بھی اپنے ساتھ ہی مروا دوں ۔ جھٹ سے بولا” ارے نہیں بھائیو! یہ سامنے دیکھو اتنے سارے مرے ہوئے چوزے۔ کبوترچوزے مارتے ہیں کیا ؟ ۔ ان سے پوچھو ذرا کہ کیا انھوںنے مرے ہوئے گدھے کا گوشت نہیں کھایا؟ کیایہ انھیں دیکھ کر نہیں لگ رہا کہ یہ کسی گندے غلیظ تالاب میں لتھڑے ہوئے ہیں؟ اب مرتے مرتے بھی جھوٹ بولوں گا کیا میں ؟یہ سنتے ہی لڑکوں نے غلیلوں کا رخ سیدھا کیا اور پتھروں کی گولہ باری سے کوے نما کبوتروں کے چیتھڑے اڑا دیے ۔دوستو! اگر دیکھا جائے تو کچھ ایسا ہی حشر جماعت اسلامی کا ہوا ہے ۔ جو سفید اور بے داغ کبوتروں کی مانند صاف ستھری اور بے داغ سیاست کی وجہ سے عوام میں مقبول تھی۔ لیکن فضل الرحمان جیسے کوے کو اپنا سردار بنا کر جماعت اسلامی کی قیادت نے سیاہی مل کر اپنا حلیہ بدلا اور متحدہ مجلس عمل بنالی۔ پھرگندے پانی کے جوہڑ میں نہانے کے مصداق میں ختم نبوت ؐ پر حملہ کرنے والی جماعت مسلم لیگ (ن) کی بھی حمایت کی ۔ اور گدھے کا گوشت کھانے جیسا فعل اپناتے ہوئے ملک توڑنے اور کرپشن کی بنا کر شہرت رکھنے والی پیپلزپارٹی سے بھی ہاتھ ملایا۔ چوزوں کے شکار کی مشابہت رکھتے ہوئے اپنے اصولوں سے انحراف کیا ۔اور نتیجہ غلیلیں تھامے ہوئے ان لڑکوں کے روپ میں عوام کی صورت میں نکلا جنھوںنےمفاداور موقع پرست اور ابن الوقت سردار کی طرح جماعت اسلامی کو بھی مسترد کر دیا ۔

تازہ ترین خبریں