03:36 pm
خاتون کا تعلق میانوالی کے کسی چھوٹے سے گاؤں سے تھا

خاتون کا تعلق میانوالی کے کسی چھوٹے سے گاؤں سے تھا

03:36 pm

خاتون کا تعلق میانوالی کے کسی چھوٹے سے گاؤں سے تھا‘ وہ گرتے پڑتے تعلیم حاصل کرتی رہی تھی اور ایف ایس سی کے بعد اسے لاہور کے ایک میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیاتھا۔ اس کی کلاس میں دو طالب علم تھے‘ یہ طالب علم بچپن سے ایک دوسرے کے دوست چلے آ رہے تھے‘ آپ ان میں سے ایک کا نام مظہر سمجھ لیں اور دوسرے کا نام امجد۔ یہ دونوں بہت ذہین اور محنتی تھے اور عموماً کلاس میں پہلی
اور دوسری پوزیشن حاصل کرتے تھے ‘ یہ دونوں ذہانت اور محنت میں تویکساں تھے لیکن شکل و صورت کے معاملے میں دونوں میں بڑا فرق تھا۔ مظہر ایک خوبصورت اور وجیہہ نوجوان تھا جبکہ امجد عام نین نقش اور رنگ و رونق کامالک تھا۔ یہ دونوں جب میڈیکل کالج پہنچے اوروہاں انہیں خواتین کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تو ان کے درمیان ایک خاموش سی کشمکش شروع ہو گئی‘ مظہر اپنی مردانہ وجاہت اور خوبصورتی کے باعث خواتین میں بہت پاپولرتھا جبکہ امجد کو خواتین گھاس نہیں ڈالتی تھیں چنانچہ امجد کے دل میں مظہر کے خلاف حسد کا ایک چھوٹا سا بیج پیدا ہو گیا‘ یہ بیج آہستہ آہستہ تناور درخت بنتا چلا گیا یہاں تک کہ حسد کی آگ میں جلنے بجھنے لگا۔ مظہر امجد کی اس تبدیلی کو نہ بھانپ سکا‘ وہ اسے اسی طرح اپنا دوست سمجھتا رہا‘ مظہر کے دوسرے دوستوں نے اسے امجد میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں مطلع کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے ان باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھااور وہ بدستور امجد کو اپنا ’’بیسٹ فرینڈ‘‘ سمجھتا تھا۔ یہاں میں خاتون کی داستان کو ایک لمحے کیلئے روکتا ہوں اورآپ کو حسد کے جذبے کی کیمسٹری سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔حسد انسانی ذات کا ایک ایسا جذبہ ہے جس کا سب سے پہلا اٹیک محنت پر ہوتا ہے‘ آپ دنیا بھر کے حاسدین کو دیکھ لیجئے یہ لوگ آپ کو ہمیشہ نکمے دکھائی دیں گے‘یہ حقیقت ہے دنیا کا کوئی حاسد محنت نہیں کر سکتا کیوں؟کیونکہ محنت اور حسد دونوں کبھی ایک ذات میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔میں خاتون کی سٹوری کی طرف واپس آتا ہوں‘ امجد کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ وہ حسد میں مبتلا ہوا تو اس نے محنت ترک کر دی۔ وہ سارا دن مظہرکو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتا رہتا‘ اس دوران امتحانات ہوئے تو امجد بری طرح فیل ہو گیا۔ مظہر کو اس کی ناکامی پر بڑا افسوس ہوا لیکن امجد نے اس ناکامی کو بھی مظہر کے کھاتے میں ڈال دیا۔ وہ مظہر کی ہمدردی کومنافقت اور چالاکی گردانتا تھا‘ یہ سلسلہ مزید ایک سال چلا‘ اس دوران امجد دوسری مرتبہ فیل ہوگیا اور میڈیکل کالج سے فارغ کر دیاگیا‘ وہ بوریا بستر باندھ کر واپس گاؤں چلا گیا جبکہ مظہر نے تیسری مرتبہ بھی ٹاپ کیا اور وہ بڑی تیزی سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ امجد کا حسد گاؤں پہنچ کر انتقام کی شکل اختیار کرگیا۔ وہ مظہر کو اپنا دشمن سمجھنے لگا جبکہ مظہراس کو بدستور اپنا دوست سمجھتاتھا اور پھر دونوں کی زندگی میں وہ رات آ گئی۔ مظہرلاہور سے واپس اپنے گاؤں جا رہا تھا‘ اس کی واپسی کا صرف امجد کو علم تھا‘ مظہر کا گاؤں بڑی سڑک سے ذرا ہٹ کر تھااور لوگ عموماً بڑی سڑک پر اترتے تھے اور وہاں سے پیدل چلتے ہوئے گاؤں پہنچ جاتے تھے۔ اس رات مظہر سڑک پر اترا‘ امجد اسے لینے کیلئے سڑک پر موجود تھا‘ وہ دونوں گاؤں کی طرف چل پڑے‘ راستے میں ایک ویران جگہ آتی تھی اس جگہ پہنچ کر امجد نے ڈاب سے پستول نکالا‘ مظہر کو للکارا اور چھ گولیاں اس کے سینے میں داغ دیں‘ یہ اس کے حسد کی تیسری سٹیج تھی اور اس سٹیج پر پہنچ کر انسان انسان سے مجرم بن جاتا ہے اور امجد مجرم بن چکا تھا۔ اس واقعے کے آخر میں کیا ہوا‘ مظہراپنی جان سے گیا اور امجد آج کل کال کوٹھڑی میں پھانسی کاانتظار کر رہا ہے جبکہ ان کا گاؤں دو باصلاحیت ڈاکٹروں سے محروم ہو گیا۔ مجھے یہ واقعہ اس خاتون نے خط کے ذریعے بھجوایا اور اس کے آخر میں سوال کیا‘ ان دونوں باصلاحیت نوجوانوں کا قاتل کون ہے؟۔ میرا خیال ہے حسد ان دونوں کا قاتل تھا!۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے سب سے بڑا تحفہ محنت ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی واحد مخلوق ہے جو کسی بھی حال میں محنت‘ کوشش اور جدوجہد ترک نہیں کرتی‘ آپ کبھی ’’بم بلاسٹ‘‘ یا حادثوں میں زخمی ہونے والے لوگوں کو دیکھئے‘ ان لوگوں کا بعض اوقاف سارا جسم زخموں سے چھلنی ہوجاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ محنت ترک نہیں کرتے‘ لوگوں کے ہاتھ کٹ جاتے ہیں تو وہ کہنیوں کو ہاتھ بنا لیتے ہیں اور اگر خدانخواستہ ان کے بازو کٹ جائیں تو وہ پاؤں کی انگلیوں میں برش پکڑکر خطاطی شروع کر دیتے ہیں‘ یہ کیا ہے ؟یہ انسان کا محنت کا جذبہ ہے جو اسے کسی حال میں پسپا نہیں ہونے دیتا لیکن حسدوہ آگ ہے جو محنت کے جذبے کو بھی جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ آپ نے اکثر جانوروں کو دیکھا ہو گا‘ یہ جب کسی مادہ کا پیچھا کرتے ہیں اوراس دوران اگر مادہ اپنی مرضی سے کسی ایک نر کا انتخاب کرلے تو باقی نرفوراًپیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن انسان اس معاملے میں کبھی پسپا نہیں ہوتا‘وہ ہمیشہ انتقام پر اتر آتا ہے‘ وہ ناپسندیدگی اور ناکامی پر اکثر اوقات خواتین کے چہرے پرتیزاب پھینک دیتا ہے یا انہیں اور ان کے منگیتر وں کو گولی مار دیتا ہے۔ یہ سب حسد کے جذبے کی کارستانی ہے چنانچہ میں سمجھتاہوں حسد انسان کی زندگی کا انتہائی طاقتور اور خوفناک جذبہ ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کے ایمان تک کو کھا جاتا ہے اور یہاں میں آپ کوایک اوردلچسپ بات بتاتا چلوں‘ انسان کی آج تک کی تاریخ میں دنیا میں جس شخص نے بھی ترقی کی اس نے اپنے اس جذبے کو مسخر کر لیا تھا۔ آپ ایڈیسن سے لے کر آئین سٹائن تک اور ابراہیم لنکن سے لے کر مہاتما گاندھی تک اور بل گیٹس سے لے کر ڈاکٹر یونس تک دنیا کے تمام کامیاب لوگوں کی فہرست نکال کر دیکھ لیں۔ یقین کیجئے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اندر کے حسد کو سمجھا تھا اور انہوں نے نہ صرف اس پر قابو پالیا تھا بلکہ انہوں نے اپنے اس جذبے کو مثبت شکل دے دی تھی اوریہ وہ کامیابی تھی جو انہیں کہیں سے کہیں لے گئی۔ امجد کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا‘ قدرت نے اسے ذرا سا بدصورت یا عام شکل وصورت کا انسان بنایا تھا اور اس کے بعد اسے مظہر جیسے خوبصورت اور ذہین شخص کے ساتھ بٹھا دیاتھا تا کہ وہ حسد محسوس کرے اور یہ حسد اس کے اندر ایک ایسی طاقت پیدا کردے جو اسے ترقی یافتہ لوگوں کی فہرست میں شامل کر دے۔ امجد کے اندر یہ جذبہ پیدا بھی ہوا لیکن وہ اسے مثبت انداز سے استعمال نہ کر سکا۔ وہ اپنی اس طاقت کو سمجھ نہ سکا چنانچہ وہ اس جذبے کی رو میں بہہ گیا اور اس نے مظہر کا بھی نقصان کر دیا اور خود بھی کال کوٹھڑی میں جاپہنچا۔ اگر امجد اس جذبے کو سمجھ جاتا‘ وہ اس جذبے کو اپنی طاقت بنا لیتا تو وہ آج نہ صرف اس ملک کا ایک کامیاب ڈاکٹر ہوتا بلکہ لوگ اس کی بدصورتی پر رشک کرتے۔ میں اب آتا ہوں اس تکنیک کی طرف جس کی مدد سے ہم اپنے حسد کو مثبت شکل دے سکتے ہیں‘ یہ ایک بہت سادہ اور آسان طریقہ ہے ہمیں چاہئے ہم جب بھی کسی سے حسد میں مبتلا ہو ں تو ہم فوری طور پر اپنی محنت بڑھا دیں۔ اگر ہم حسد سے قبل آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے تو ہمیں فوری طور پر12گھنٹے کام شروع کر دینا چاہئے ۔ اس طرح صرف ایک ماہ گزرے گا اور یہ حسد رشک میں بدل جائے گا اور اس کے بعد دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیاب ہونے سے نہیں روک سکے گی۔ صرف محنت وہ جذبہ ہے جو ہمارے حسد کو رشک میں بدل سکتا ہے اور آپ انسان کی بدقسمتی ملاحظہ کیجئے وہ حسد میں گرفتار ہوتے ہی سب سے پہلے محنت ترک کرتا ہے اوریوں امجد جیسے انجام کا شکار ہو جاتا ہے۔ حسد انسانی زندگی کا سب سے بڑا تحفہ بھی ثابت ہوسکتا ہے اگر انسان حسد کی قدروقیمت اور طاقت کو سمجھ جائے اوروہ اس کا مثبت استعمال سیکھ جائے تو اسے دنیا میں کامیابی کیلئے کسی دوسرے جذبے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ حسدا نسان کا سب سے اچھا دوست بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ (زیروپوائنٹ)جاوید چودھری

تازہ ترین خبریں