09:33 am
ایدھی صاحب کی تیسری برسی کے موقع پر ان کی زندگی کے کچھ دلچسپ حقائق

ایدھی صاحب کی تیسری برسی کے موقع پر ان کی زندگی کے کچھ دلچسپ حقائق

09:33 am

اسلام آباد (احمد ارسلان )زندگی یو ں تو پیہم حادثوں کی زد میں ہی رہتی ہے مگر دل و دماغ کے بعد ہاتھوں پر سے زندگی کی لکیروں کی شکستگی ایک ایسا سانحہ ہے جو انسانوں کو توڑ کر رکھ دیتا ہے اور پھر انسان بھی وہ جس کی کمی ہمیں ایسی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دے کہ عرصے تک اس کی غیر موجودگی کا یقین ہی نہ کر سکیں ۔3سال قبل بھی ایک ایسا ہی سانحہ ہوا جس میں عبد الستار ایدھی جیسی با کمال شخصیت ہم سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئی ۔ سراپا عاجزی و انکساری، محبت و اخلاق عبد الستار ایدھی 1928ء میں بھارتی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیداہوئے
اور تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔عبدالستارایدھی نے65 برس دکھی انسانیت کی خدمت کی اور اس کا آغاز 1951ء میں ایک ڈسپنسری قائم کرکے کیا۔ 1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت ادویات فراہم کیں، اس موقع پر مخیر حضرات نے دل کھول کر ایدھی کی مدد کی۔ امدادی رقم سے ایدھی نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری قائم کی تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا اور یہی ایدھی فانڈیشن کا آغاز تھا۔ کراچی میں فلو کی وبا کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی صاحب کو کثیر رقم کی امداد دی جس سے انہوں نے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے( آج ایدھی فانڈیشن کے پاس سینکڑوں ایمبولینسیں ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں ہیں) ۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فانڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول کھولے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ یہ فاونڈیشن دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی دکھی انسانیت کی خدمت سرانجام دی رہی ہے ۔ 16 اگست 2006ء کو بلقیس ایدھی اور کبری ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فانڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔انسانیت کی خدمات پر پاکستان میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹلریشن سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند دی گئی۔ 1996ء میں ان کی خودنوشت سوانح حیات شائع ہوئی۔ عبدالستار ایدھی کو دکھنی انسانیت کی خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ دنیا میں سب سے بڑی رضا کارانہ ایمبولینس آرگنائزیشن کے قیام پر گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کیا۔ ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے بھی حامل ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں پاکستانی حکومت نے انہیں نشان امتیاز دیا۔ پاک فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر کے اعزاز سے نوازا جبکہ 1992ء میں حکومت سندھ انہیں سوشل ورکرآف سب کونٹی ننیٹ کا اعزاز دیا۔ بین الاقوامی سطح پر 1986ء میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے رومن میگسے ایوارڈدیا۔ 1993ء میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلودیاگیا۔عبد الستار ایدھی نے اپنی زندگی میں تقریباََ 2 ہزار سے زائد تعفن زدہ لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائیں اور ان کی تدفین مکمل طریقے سے کرتے رہے۔وہ ساری زندگی مردوں کے کپڑے کا لباس پہنتے رہےیہاں تک کہ وہ جوتے بھی مُردوں کے استعمال کرتے تھے۔ عام طور پر مرنے والے شخص کی چیزیں لواحقین استعمال نہیں کرتے تھے لیکن عبد الستار ایدھی وہ واحد شخص تھے جنہوں نے اس روایت کو توڑ دیا کہ مرنے والے کی اشیاء استعمال کرنا نحوست کا سبب ہے۔ عبدالستارایدھی نے1962 میں سیاست میں قدم رکھااور بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں BDممبرکی حیثیت سے بلامقابلہ کامیابی حاصل کی۔1964 میں انھوں نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ بعد میں انہیں سیاسی مہم جوئی ایک غلطی محسوس ہوئی جس کے بعدانھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اوردوبارہ سماجی خدمت کے کاموں میں مصروف ہوگئے،1970میں عبدالستارایدھی نے ایک بار پھر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیامگر قومی و صوبائی اسمبلی دونوں کی نشستوں پرانھیں شکست اٹھانی پڑی،یہ الیکشن انھوں نے آزادحیثیت میں لڑا تھااور ان کا انتخابی نشان بوتل تھا۔ 1982 میں جنرل ضیاالحق نے بے حد اصرار کرکے انھیں مجلس شوری کی رکنیت دی مگر سادہ زندگی گزارنے والے عبدالستارایدھی اس پوزیشن سے خوش نہ ہو سکے جب وہ مجلس شوریٰ کے پہلے اجلاس میں شرکت کیلئے اپنے خرچ پرراولپنڈی پہنچے توتیسرے درجے کے ہوٹل میں قیام کیا،فٹ پاتھ پربیٹھ کر کھانا کھایا اور بذریعہ بس اسلام آباد پہنچ گئے جب وہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پرپہنچے تو افسران دوڑے چلے آئے اور کہا کہ آپ کہاں تھے ہم نے آپ کے قیام اورطعام کا بندوبست کر رکھا تھا لیکن انھوں نے عاجزی سے کہا کہ میں ساری زندگی عیش و عشرت سے دور رہاہوں اسی مزاج کی وجہ سے وہ بہت کم اجلاسوں میں شرکت کرسکے اور بتدریج حکومت سے دوری اختیارکرلی۔ 8جولائی 2016کو یدھی طویل علالت کے بعد ہم سے بچھڑ گئے مگر حقیقتاًوہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔

تازہ ترین خبریں