11:28 am
سعودی خواتین سے شادی کرنے والے غیر ملکیوں کو خوشخبری سنا دی گئی

سعودی خواتین سے شادی کرنے والے غیر ملکیوں کو خوشخبری سنا دی گئی

11:28 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں مقیم ایسے غیر مُلکیوں کو جلد ہی ایک بڑی خوش خبری ملنے کی اُمید پیدا ہو چکی ہے جنہوں نے سعودی خواتین سے شادی کر رکھی ہے مگر اُن کی اولادوں کو سعودی حکومت کی جانب سے سعودی شہری تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے غور و خوض جاری ہے ۔ سعودی ویب سائٹ ’سبق‘ کے مطابق سعودی مجلس شوریٰ نے غیر ملکی شوہرسوں سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کی اولاد کو سعودی شہریت دینے کے قانون میں نظر ثانی کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ مجلس شوری کی کمیٹی کے سربراہ جنرل علی المیمی نے بتاتیا ہے
کہ مجلس شوری کی جانب سے غیر مُلکیوں سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کی اولاد کو شہریت دینے کے قانون میں نظر ثانی کی سفارش منظور کر لی گئی ہے۔ مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں یہ نظر ثانی کا مسودہ پیش کیا جائے گا جس پر ارکان شوریٰ غور و خوض کے بعد اپنا فیصلہ سُنائیں گے۔ اگر ارکانِ شُوریٰ کی اکثریت نے اسے منظور کر لیا تو پھر اس کے بعد غیر مُلکی ولدیت رکھنے والے بچوں کو بھی سعودی شہریت سے نواز دیا جائے گا۔ جنرل علی المیمی نے کہا کہ سعودی خواتین کی غیر مُلکی خاوند سے پیدا ہونے والی اولاد ایک اہم سماجی مسئلہ ہے، جس کا کوئی پائیدار حل نکالنا بہت ضروری ہے۔ آئندہ اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گاکہ ایسی سعودی خواتین کی تعداد کتنی ہیں جنہوں نے غیر مُلکیوں سے شادیاں کر رکھی ہیں اور ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد کی صحیح تعداد کتنی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی شہریت کے مروجہ قوانین کی رُو سے ایسی سعودی خواتین جو غیر مُلکیوں سے شادی کرتی ہیں، اُن کی اولاد سعودی شہریت سے محروم رہتے ہیں۔ اُن کی کاغذات میں شہریت اُن کے والد کے آبائی وطن پر ہی ظاہر کی جاتی ہے۔