05:48 pm
یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے جہیز کو جوئے کی طرح ناجائز اور حرام قرار دیا

یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے جہیز کو جوئے کی طرح ناجائز اور حرام قرار دیا

05:48 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر (نام نامعلوم ) کی ویڈیو گردش کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جو سالانہ کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہیرے موتی کی طرح نایاب اور اثر انگیز ہیں ۔ کہتےہیں کہ قرآن کریم کی آیت ہے جس کا ترجمہ ہے۔ شراب اور جوا شیطانی عمل ہیں۔ شراب تو ایک واضح حرا م چیز ہے لیکن ہم جوئے سے مراد صر ف وہ رقم لے لیتےہیں جو شرط لگا کر جیتی گئی ہو۔
میں یہ واضح کردوں کہ درحقیقت ہر وہ رقم جو بغیر کسی محنت کے حاصل کر لی جائے۔ بلا شک و شبہ حرام ہے اور ناجائز ہے۔ جہیز بھی اسی کی قسم ہے۔ ایک لڑکی جوماں باپ اور بہن بھائیوں جیسے محبت والے رشتے پیچھے چھوڑ کر آپ کے خاندان میں آتی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ گھر کے فرد کی طرح رہے اور سب کا خیال رکھے ۔ لیکن آپ نے تو ٹکوں میں اس کا سودا کیا ہے۔ وہ کیسے اپنے خون کے رشتوں جیسی محبت آپ کو دے سکتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو اپنی مردانگی کا گمان ہے۔ جب اس لڑکی کے والدین کے روپے پیسے سے خریدا ہوا سامان آپ کے گھر میں آتا ہے تب آپ کی مردانگی کہاں جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو آپ اپنے زور بازو اور اللہ کے دیے ہوئے رزق سے بھی خرید سکتے تھےلیکن نہ آپ کو اللہ کے رازق ہونے کا یقین ہے اور نہ ہی اپنے زور بازو پر بھروسہ ہے۔ یہ کیسی مردانگی ہے۔ یہ مردانگی ہے ہی نہیں۔ 40سال سے پڑھا رہا ہوں یہاں پر بیٹھی ہوئی سب بچیاں میری بیٹیوں جیسی ہیں۔ اور یہاں پر بیٹھے ہوئے سب لڑکے میرے بیٹوں کی طرح ہیں۔میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں یہاں پر موجود طلبہ میں سے نوے فیصد جہیز جیسی لعنت سے بچنے کی کوشش کریں گے۔وائس چانسلر صاحب کی بات سن کر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔