05:18 pm
 جس سال  رسول اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو اس رمضان المبارک میں آپ ﷺ نے کتنےدن اعتکاف کیا؟ ماہ صیام کے آخری عشرے کی طاق راتوں کا ایمان افروزواقعہ

جس سال رسول اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو اس رمضان المبارک میں آپ ﷺ نے کتنےدن اعتکاف کیا؟ ماہ صیام کے آخری عشرے کی طاق راتوں کا ایمان افروزواقعہ

05:18 pm

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔ (صحیح بخاری،۲۰۴۴)رمضان المبارک کا مہینہ نہایت ہی برکتوں اورسعادتوں والا مہینہ ہے۔ حدیث پاک ہے : الرمضان شہر اﷲ (رمضان اللہ کا مہینہ ہے)۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے بہت زیادہ محبت فرماتے اور اس کے پانے کی اکثر دعا کیا کرتے تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مبارک مہینے کا خوش آمدید کہہ کر استقبال کرتے۔ جب رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے دریافت کیا کہ تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے؟
(یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ فرمائے) (الترغیب والترہیب، 2 : 105)۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم )! کیا کوئی وحی اترنے والی ہے یا کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو جس کی پہلی رات میں تمام اہل قبلہ کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب، 2 : 105)۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کا استقبال ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ فرماتے تھے۔ جب رمضان المبارک شروع ہوتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ عبادت و ریاضت میں عام دنوں کی نسبت کافی اضافہ ہو جاتا۔ ذیل میں ہم رمضان المبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چیدہ چیدہ معمولات بیان کرتے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ رمضان پر عمل ہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور انہی معمولات کی روشنی میں ہی ہم اس مہینے کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ یاب ہوسکتے ہیں۔رمضان المبارک کا چاند دیکھنے پر خصوصی دعا :جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کا چاند دیکھتے تو فرماتے : یہ چاند خیر و برکت کا ہے، یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، 10 : 400، رقم : 9798)۔سحری و افطاری کا معمول :حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالالتزام روزے کا آغاز سحری کھانے سے فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو تلقین فرمائی کہ سحری ضرور کھایا کرو خواہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے (صحیح البخاری، 1 : 257، کتاب الصوم، باب برکۃ السحور من غیر ایجاب، رقم حدیث : 1823)۔ ایک دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب اور مسلمانوں کے روزے کے درمیان فرق کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل السحور، رقم حدیث : 1096)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سحری سراپا برکت ہے اسے ترک نہ کیا کرو۔ (مسند احمد بن حنبل، 3 : 12)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : سحری کرنے والے پر اﷲ کی رحمتیں ہوتی ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل، 3: 12)۔رمضان المبارک میں پابندی کے ساتھ سحری و افطاری بے شمار فوائد اور فیوض و برکات کی حامل ہے۔ روحانی فیوض و برکات کے علاوہ سحری دن میں روزے کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دن کو قیلولہ کرکے رات کی نماز کے لئے مدد حاصل کرو اور سحری کھا کر دن کے روزے کی قوت حاصل کرو۔ (سنن ابن ماجہ : 123، کتاب الصیام، باب ما جاء فی السحر، رقم حدیث : 1693)۔

تازہ ترین خبریں