09:18 am
’’ایران امریکہ کشیدگی اور ہم‘‘

’’ایران امریکہ کشیدگی اور ہم‘‘

09:18 am

تحریر: سید علی حسن رضوی


ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد سے حالات اب تک کشیدہ ہیں۔ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے عراق میں واقع دو امریکی اہداف کو بیلیسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی دعوے کے مطابق ستر سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے۔ یقیناً یہ تعداد مبالغہ پر مبنی ہے۔امریکہ اور ایران میں کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ دونوں ممالک کو اپنی اپنی حدود کا مکمل ادراک ہے اس لیے کشیدگی ممکنہ طور پر ایک خاص حد سے آگے نہیں جائے گی۔ ایران کی لیڈرشپ نے یقیناً اپنے عوام کے جذبات کی بہترین ترجمانی کی اور محض جوشیلی تقریر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ امریکہ جیسی بدمعاش ریاست کو ایک بھرپور انداز میں جواب دیا ہے جو یقیناً قابل تعریف ہے۔




 
ایران اور امریکہ کی کشیدگی میں امت مسلمہ بالعموم اور پاکستانی عوام بالخصوص تقسیم ہیں۔ پاکستان میں ترکی، ایران اور سعودی عرب سے محبت رکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ شیعہ مسلک کی کثیر تعداد ایران کی حامی ہے، جبکہ اہلحدیث اور دیوبندی مکاتب فکر کی بہت بڑی تعداد سعودی عرب کے طرفدار ہیں۔ جماعت اسلامی اور دوسرے عام پاکستانیوں کی کثیر تعداد جو مسلکی اختلافات سے کافی حد تک بالاتر ہے وہ ترک صدر طیب اردوان کو امت مسلمہ کا حقیقی لیڈر سمجھتی ہے۔ ایران پر امریکی حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایران مخالف اور حمایتی افراد میں تکرار اور لفظی جنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
ہر ملک کے اپنے مفادات کے لیے پالیسیاں بناتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں عقائد یا جذبات کی کوئی جگہ نہیں۔ اس سے بڑا معجزہ کیا ہو گا کہ عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننے والے امریکہ و یورپ اور انکو (نعوذ باللہ) ولدالزنا ماننے والے اسرائیل میں گہری دوستی ہے۔ حالانکہ چند صدیاں پہلے یہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ یہ اختلافات اگر شیعہ سنی اختلافات سے زیادہ نہیں تو کم بھی ہر گز نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب اور اسرائیل کی حالیہ دوستی بھی ڈھکی چھپی نہیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں اخلاقیات نامی کوئی نیلم پری نہیں ہے۔ ایران کے بھی اپنے مفادات ہیں۔ کوئی مانے یا نا مانے لیکن ان میں سر فہرست شیعہ مفادات کی اندرون اور بیرون ملک حفاظت ہے۔ عموماً امت مسلمہ کے اجتماعی مفادات کی بات وہاں کی جاتی ہے جہاں کسی قسم کا خطرہ نا ہو۔ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے ایران نےامریکہ سے بھرپور تعاون کیا۔ 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کی امریکی جارحیت کی مکمل حمایت کی۔ مصر کی مرسی حکومت بھی ایران کو ایک آنکھ نا بھائی ،کیونکہ وہ شام کے مسئلے پر صدر بشارالاسد،کے مخالفین کی حمایت کرتے رہے۔ اسی وجہ سے جب مرسی حکومت کو فوجی بغاوت کے ذریعے ختم کیا گیا تو ایران نے کسی قسم کے ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اپنی خاموش حمایت فوجی ڈکٹیٹر جنرل سیسی کے حق میں استعمال کی۔ یمن میں علی عبداللہ الصالح کی حکومت کو حوثی قبائل کے ذریعے الٹ کر رکھ دیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن نیٹ ورک کا ایران سے چلایا جانا بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ایسی حالت میں جب ایران پر بھی بہت سے الزامات ہیں پاکستانیوں کی کثیر تعداد کا ایران کی پالیسیوں سے نالاں ہونا فطری بات ہے۔ لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر یہود و نصارٰی اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہوسکتے ہیں تو شیعہ سنی کی تقسیم ذیادہ وسیع نہیں۔ بہت سے تحفظات کے باوجود امریکہ اور ایران کے مقابلے میں ایران ہی کی حمایت کی جانی چاہیے۔ حکومت نے ایک ہومیوپیتھک قسم کا ایک بیان دیا جو حقیقت میں امریکہ کو خوش رکھنے کی ایک کوشش تھی۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے کل اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر ایران کی حمایت میں بات کی اور حکومت پر شدید تنقید کی۔ ن لیگ تو ابھی جس صدمے سے دوچار اسکو تو دو چار ماہ تک اپنے ارکان کو چھٹی دے دینی چاہیے تا کہ نا عوام کے سامنے آئیں اور نا ہی بے عزتی کروائیں۔ ن لیگ کے دور حکومت میں جب مرسی حکومت کو ہٹایا گیا تو ن لیگ کی" انقلابی" لیڈرشپ نے فوجی انقلاب کی مذمت تک گوارہ نہیں کی۔ بقول خواجہ آصف کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے ، کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں جو کہ فی الحال ہمارے حکمران( حکومت و اپوزیشن) طبقے میں مفقود ہے۔
 

تازہ ترین خبریں