01:41 pm
امریکہ، لالا جی نہیں بنے گا

امریکہ، لالا جی نہیں بنے گا

01:41 pm


لالا جی کو پولیس کی نوکری کرتے بیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا۔ عہدے کے لحاظ سے انسپکٹر تھے لیکن حالت ایک سپاہی جیسی پتلی ۔ ہمیشہ لائن حاضر ہی رہتے تھے۔ ایک دن وجہ پوچھی کہ آخر ایسی کون سی وجہ سے جس کی وجہ سے تھانے میں ایس ایچ او تعینات نہیں ہو پاتے۔ ایک لمبی سانس لے کر بولے شاہ جی! میں افسروں کے کسی کام کا نہیں تو انہوں نے مجھے کبھی تھانہ دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ میں نے پوچھا وہ کیسے تو کہنے لگے کہ میں بھی کبھی کسی تھانہ میں ایس ایچ او تھا ۔
ایک دن بڑے افسر نے ضلع بھر کے تمام ایس ایچ اوز کو طلب کر لیا۔ ان سب سے انکی کارکردگی رپورٹ مانگی گئی۔ سب نے اپنی اپنی رپورٹیں پیش کیں کہ کس طرح وہ جرائم کی بیخ کنی کے لیے سرکرداں ہیں۔ جب میری باری آئی تو میں نے بھی رپورٹ پیش کی کہ میرے علاقے میں جرائم سب سے کم ہیں۔ میری تعریف و توصیف کی گئی اور میری مثالیں دوسرے ایس ایچ اوز کو دی گئیں۔ میرا سینہ فخر سے پھول گیا۔ بس اس دن کے بعد مجھے کبھی تھانہ نصیب نہیں ہوا۔لالا جی کی یہ بات سن کر میری دلچسپی اور بڑھ گئی کہ اتنا ایماندار اور فرض شناس افسر جسکی تعریف کی جائے اور دوسروں کی مثالیں دی جائیں اسکو کیوں کسی تھانے میں تعینات نا کیا گیا۔میں نے بے صبری سے پوچھا کہ لالا جی پھر کیا ہوا؟ پھر وہی ہونا تھا جس کی مجھے سمجھ نہیں تھی، لالا جی نے جواب دیا۔ پھر کہنے لگے کہ اگلے ہی ہفتے میری ٹرانسفر کر دی گئی اور مجھے ضلعی آفس میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا۔ وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ حقیقت میں افسران بالا مجھ سے ناخوش تھے کیونکہ میرے علاقے میں جرائم کی کمی کی وجہ سے مال آنا بند ہو گیا۔ اسلیے کسی ایسے "فرض شناس" افسر کو وہاں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو جرائم کو ایک خاص حد سے کم نا ہونے دے۔ کیونکہ افسران کا خیال تھا کہ جرائم ہوں گے تو پولیس کی ضرورت باقی رہے گی اور اخراجات بھی احسن طریقے سے چلیں گے ورنہ محض تنخواہوں میں تو پہیہ رک جائے گا۔ اگر جرم ہی ختم ہو گئے تو لوگوں کو پولیس کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ کیسے ہو گا۔ ایران امریکہ کشیدگی ہو یا پاک بھارت ،دنیا میں کسی بھی جگہ جنگ ہو یا جنگی ماحول، اسکے پیچھے بنیادی طور پر کھربوں ڈالر کی امریکہ اسلحہ سازی کی صنعت ہے۔ یہ صنعت نا صرف دنیا بلکہ خود امریکہ میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دیتی۔ اس لیے کبھی ایک ملک کو اسلحہ بیچا جاتا ہے تو کبھی دوسرے ملک کو۔ کسی ایک ملک کو کسی ایک چیز اچھی دے دی جاتی ہے تو کسی دوسرے ملک کو دوسری۔ اس طرح دونوں ملک خوش ہو جاتے ہیں اور صرف دفاع کی تیاریوں میں ہی لگے رہتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ امریکہ خود بھی کہیں نا کہیں سینگ پھنسا کر رکھتا ہے تا کہ وہ چند سو سرمایہ کار جن کا سارا دارومدار اسلحہ بیچنے پر ہے کبھی نقصان میں نا جائیں۔ امریکی اسلحہ سازی کی صنعت امریکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت میں امریکہ بھی افسران بالا کی طرح ہر اس ملک کی سرزنش کرتا ہے جو معاملات افہام و تفہیم اور بات چیت سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ دنیا میں اگر امن قائم ہو گیا تو امریکہ کہاں اسلحہ چلائے گا اور کہاں بیچے گا۔ ایف 16 پاکستان کو دے کر بھارت کو ڈراتا ہے، اور نیوکلئیر ٹیکنالوجی اور دیگر اسلحہ بھارت کو دے کر پاکستان کو خوفزدہ کرتا ہے۔ خود امریکہ میں گن کلچر اتنا عام کر دیا گیا ہے کہ محض شناختی کارڈ دکھا کر خودکار ہتھیار خرید سکتے ہیں۔ امریکن رائفلز ایسوسی ایشن (American Rifles Association) نامی سرمایہ کاروں کی حمایتی تنظیم بھی بنائی جس کا مقصد امریکہ میں گن کلچر کو فروغ دینا ہے۔  صرف سال 2019 میں ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ میں چھوٹے بڑے واقعات میں تقریباً دو ہزار سے زائد لوگوں کو قتل کیا گیا۔ لوگ اس پر سراپا احتجاج ہیں لیکن صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی سیاستدان داعش، ایران، اور حماس کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ پچھلے بیس سالوں میں جتنے امریکی دہشتگرد حملوں میں ہلاک ہوئے اس سے ذیادہ ہر سال گن کلچر کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔ امریکہ کا دفاعی بجٹ قریباً سات سو ارب ڈالر ہے جو باقی پوری دنیا کا مجموعی دفاعی بجٹ تقریباً تیرہ سو ارب ڈالر ہے۔ امریکی عوام کی طرح ،دنیا بھر کی جنگ زدہ عوام بھی امریکہ کی معیشت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ اسی لیے اگر دنیا میں امن قائم ہو گیا تو امریکہ بھی، انسپکٹر لالا جی کی طرح کسی کے کام کا نہیں رہے گا بلکہ اپنے کام کا بھی نہیں۔ 
تحریر:سید علی حسن رضوی