05:32 pm
ماچس کوپہلی بارکس نے اورکیوں ایجادکیا،جانیں ایسی معلومات جن سے شایدآپ واقف نہ ہوں

ماچس کوپہلی بارکس نے اورکیوں ایجادکیا،جانیں ایسی معلومات جن سے شایدآپ واقف نہ ہوں

05:32 pm

دورِ قدیم میں پتھر کو رگڑ کر آگ جلائی جاتی تھی جس کے بعد کھانے پینے اور روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ کوئی بھی ایسی چیز ایجاد نہیں ہوئی تھی، جس کے ذریعے باآسانی آگ جلائی جاسکے۔ پھر آخر کار ایک برطانوی ادویات ساز سے اتفاقاََ ماچس ایجاد ہوگئی اور یہ واقعہ سن 1826ء کا ہے۔ادویات ساز جان واکر کچھ کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہے تھے۔ اس نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ انہوں نے غیر اِرادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو ایک دم آگ جل اٹھی۔
اس طرح بالکل اتفاقاً اورحیرت انگیز طور پر ماچس کی ایجاد ہو گئی۔ اس نے اس ماچس کا نام فرکشن لائٹس رکھا ۔ تِیلیاں 3 انچ لمبی تھیں۔ ماچس کی ڈبی کی ایک جانب ریگ مال لگا ہوا تھا، جس پر تیلیوں کو رگڑ کر جلایا جاتا تھا۔بعد ازاں سیموئل جونز نے ماچس کی نقل بنائی۔ اس نے اپنی ماچس کا نام لوسی فر رکھا۔ اس کی تیلیاں چھوٹی تھیںاور ڈبیا بھی چھوٹی تھی، جسے ساتھ رکھنا آسان تھا۔ آگ جلانے کے لئے سلفر استعمال کیا جاتا تھا۔فرانسیسی سائنسدان ژاں چینسل نے سن 1805ء میں پہلی ایسی ماچس ایجاد کی جس کی تیلیوں کے سِرے پر شکر اور پوٹاشیم کلوریٹ لگایا جانے لگا۔ اس سرے کو مرتکز سلفیورک تیزاب میں ڈبو کر جلایا جاتا تھا۔ ژاں چینسل کی ایجاد کردہ ماچس کی تیلیاں جلانا کافی خطرناک ہوا کرتا تھا۔آج کل ماچس سرخ فاسفورس سے تیار کی جاتی ہیں۔ سرخ فاسفورس زہریلی نہیں ہوتی۔ اسے جوہان ایڈورڈ لنڈسٹروم نے دریافت کیا تھا۔

تازہ ترین خبریں