09:14 pm
اس کی اماں نے بڑی مشکل سے اسے منایاتھاوہ ہاتھ جوڑ کربتارہی تھی کہ

اس کی اماں نے بڑی مشکل سے اسے منایاتھاوہ ہاتھ جوڑ کربتارہی تھی کہ

09:14 pm

عورت بچہ جنم دیتے وقت جس درد اور تکلیف سے گزرتی ہے، اس سے کہیں زیادہ کٹھن اس درد کو برداشت کرنا ہے، جب بیٹی کے جنم پہ باپ اداس ہوجاتا ہے۔ اور کئی دنوں تک گھر میں آئی رحمت کو نظر بھر کے دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اس وقت ماں کی روح پہ ایسے زخم لگتے جن کے درد کا اندازہ کرنا کسی اور کے لیے بہت مشکل ہے۔ میں بھی ایسی تکلیف سے گزری ہوں۔ جب تم پیدا ہوئی تو تمہارے باپ نے کئی دن تک تمہارا چہرہ نہیں دیکھا ۔ اس بات کو انتیس برس بیت چکے ہیں
لیکن تمہارے باپ سے میرا یہ شکوہ اب بھی قائم ہے۔ خدا نے انھیں اس کی رحمت سے منہ موڑنے کا صلہ ایسے دیا کہ ایک کے بعد ایک بیٹیوں کا جنم ہوا۔ انھیں بے شک اپنی غلطی کا احساس بہت پہلے ہو چکا ہے لیکن میں نے آج تک انھیں معاف نہیں کیا میں نے اپنی بڑی بیٹی فرحانہ کا سر گود میں رکھا اور برسوں پرانے درد پھر سے یاد کرنے لگی امّی۔۔۔۔ ! آج آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہیں؟ فرحانہ نے مجھ سے سوال کیا چندہ ۔۔ ! میرے دل میں تمہاری باقی بہنوں
کی نسبت تمہارے لیے زیادہ محبت ہے۔ اب تم انتیس کی ہورہی ہو۔ تمہاری عمر کا ہر بڑھتا لمحہ میری کمر جھکا رہا ہے۔ اب تو اپنی ضد چھوڑ دو۔ جس کھٹن وقت سے تم گزری ہو اس تکلیف کا مجھے اندازہ ہے۔لیکن یہ دنیا کی ریت ہے اور ہمیں یہ ریت نبھانی پڑے گی امّی ۔۔۔ ! خدارا میرے حال پہ رحم کریں ۔ آپ جانتی ہیں میں نے قسم کھائی ہے کہ میں پھر سے کسی کے سامنے اپنا تماشا نہیں بننے دوں گی فرحانہ غصے میں تلملاتی اٹھ بیٹھی بیٹا۔۔ ! اس بات کو د و سال بیت چکے ہیں۔ اب بھول جاؤ میں نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ پر وہ میرا ہاتھ جھٹک کے میرے بستر سے اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں سر پکڑ کے بیٹھ گئی فرحانہ احساس
کمتری کی ایسی شکار ہوئی کہ اس نے اپنے اردر گرد ایک خول بنا لیا ، جس میں سے وہ نکلنا نہیں چاہتی۔ شکل و صورت واجبی صحیح لیکن سیرت میں کسی سے کم نہیں۔ سگھڑ ہے، سجھدار ہے۔ لیکن دو سال سے شادی نہ کرنے کے ضد پکڑ کے بیٹھی تھی۔ اور اسکی یہ ضد اپنے لحاظ سے جائز تھی ۔ فرحانہ نے جب بی -اے کرلیا تو کئی لوگ رشتے کے لیے آتے جاتے رہے۔ لیکن اسکی ظاہری شکل وصور ت کو وجہ بنا کے ہر طرف سے انکار ہی ملا۔ بارہا ٹھکرائے جانے کے بعد فرحانہ مایوس ہونے لگی۔ دو سال قبل جو لوگ فرحانہ کو دیکھنے آئے تھے وہ فرحانہ کی بجائے چھوٹی بہن صوبیہ کو پسند کر گئے۔ اور میں نے بھی حالات کی نزاکت کو
سمجھتے ہوئے اچھا رشتہ ہاتھ سے نہ جانے دیا اور جھٹ پٹ صوبیہ کی شادی وہاں کردی۔ یہ چیز فرحانہ کی خود اعتمادی پہ ایک کاری ضرب تھی۔ اس کے بعد اس نے قسم کھائی کے اب سے نہ تو وہ کسی کے سامنے جائے گی اور نہ ہی کبھی شادی کرے گی۔ میں نے بھی لمبے عرصے تک چپ سادھ لی۔ پرمیں اب اور اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔ اب ہر گزرتا دن مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے۔ خدا خدا کرکے میری چھوٹی بہن خالدہ کو کچھ لوگ ملے جو اپنے بیٹے کے لیے رشتہ ڈھونڈ رہے تھے۔ خالدہ نے انھیں تو ہمارے گھر آنے کے لیے منا لیا تھا لیکن سب سے بڑی مشکل میرے سر تھی کہ میں فرحانہ کو کیسے مناؤں۔ وہ اس موضوع پہ کوئی
بات سننا ہی نہیں چاہتی۔ اگلی صبح میں نماز کے لیے اٹھی تو فرحانہ مجھ سے پہلے نماز پڑھ چکی تھی۔ میں نے نماز پڑھی اور وہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی۔ نماز پڑھنے کے بعد میں اسکے سامنے جا کے بیٹھ گئی۔ وہ تلاوت کرتے کرتے رکی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ میری نم آنکھوں میں بسی التجا اس پہ عیاں تھی۔ قرآن پاک کو بند کرکے اس نے میری کندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولی اگر آپ اس بات پہ تل ہی گئی ہیں کہ میرا تماشا بنا کے رہیں گی تو میں تیار ہوں۔ آپ نے جس کو بلانا ہے بلا لیں۔ پر میری بات یاد رکھیے گا جب میں صرف سترہ سال کی تھی تب مجھے پہلی بار لوگ دیکھنے آئے تھے ، آج میں انتیس سال کی ہوں۔ جب اس وقت مجھ
ٹھکرا دیا گیا تو آج آپ کونسی امید لگا کے بیٹھی ہیں۔ صرف آپکی یہ ضد پوری کرنے میں ضرور انکے سامنے آؤں گی ، لیکن جواب میں اچھی طرح سے جانتی ہوں میں نے بنا کوئی جواب دیے اسکا کا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔ میں نے ان لوگوں کو بلانے میں زیادہ دیر نہ لگائی بلکہ اگلے ہی دن خالدہ کو کہہ کے ان لوگوں کو دوپہر کے کھانے پہ مدعو کیا۔ دوپہر میں دروازے پہ دستک ہوئی اور میں نے دروازہ کھولا۔ میری بہن خالدہ سامنے کھڑی تھی، وہ اندر داخل ہوئی تو اسکے پیچھے دو خواتین اور دو مرد بھی اندر آئے۔ خالدہ انھیں لے کے کمرے میں چلی گئی اور میں چائے پانی کاانتظام کرنے کیچن کی طرف چل پڑی۔ فرحانہ کے ابّا جی کو بھی فون
کر کے بلوالیا تھا۔ سادہ پانی انکے سامنے رکھ کے میں حال احوال پوچھنے بیٹھی۔ دونوں مرد قریب ایک ہی عمر کے تھے تو میرے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ وہ لوگ کس کا رشتہ لے کے آئے ہیں۔ خالدہ نے دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا، میں بغور اس کا جائزہ لینے لگی۔ اپنے آپ میں گم سم، نظریں جھکائے سفید رنگ کی شرٹ اور نیلے رنگ کی پینٹ میں ملبوس ، اسکی عمر قریب تیس سے بتیس لگ رہی تھی۔ دیکھنے میں جتنا وہ شریف لگ رہا تھا اتنا ہی خوش شکل بھی تھا۔ میں نے دل ہی دل میں دعا کی کہ خدایا میری فرحانہ کا نصیب کھول دے۔ دوسرا آدمی اسکا بہنوئی تھا۔ جس نے دو ڈھائی سال کا ایک بچہ گود میں اٹھایا ہوا تھا۔
لڑکے کی ماں کی حالت سے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کافی بیمار ہے۔ خالدہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ بٹھا کے فرحانہ کے پاس چلی گئی۔ تھوڑی دیر میں فرحانہ شربت سے بھرے گلاس ٹرے میں رکھ کے کمرے میں داخل ہوئی، سب کی نظریں فرحانہ پہ مرکوز ہوئیں اور میری اور خالدہ کی نظریں ان لوگوں کے چہروں پہ امڈ آنے والے تاثرات کا جائزہ لینے لگیں۔ جن دو لوگوں کے لیے یہ محفل سجی تھی وہی اس صورت حال سے بے خبر تھے۔ نا تو فرحانہ نے نظر بھر کے اسکی طرف دیکھا اور نہ ہی اس نے سر اٹھا کے فرحانہ پہ نظر ڈالی۔ جب مجھے اس بات کا احساس ہوا میرا دل ٹوٹ سا گیا۔ انکا جواب صاف صاف مجھے نظر آرہا تھا۔ اپنے
جذبات میں نے کسی پہ ظاہر نہ ہونے دیے اور ایک اچھے میزبان کی طرح انکی خاطرداری کی ۔ مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی کہ میں خالدہ سے پوچھوں کے ان لوگوں کا جواب کیا ہے۔ وہ لوگ جانے لگے توجاتے جاتے خالدہ بس اتنا کہہ گئی کہ جو بھی ہوا وہ فون پہ بتا دے گی۔ دو دن گزر گئے، ان لوگوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس دوران نہ تو فرحانہ نے اس حوالے سے مجھ سے بات کی اور نہ میں نے اپنے تحفظات اسکے سامنے رکھے۔ تیسرے دن خالدہ کا فون آیا تو وہ فون پہ مبارک باد دینے لگی۔ پہلے پہل تو مجھے میرے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔ میں خود سے ہی سوال کرنے لگی کی ایسا کرشمہ آخر کیسے ہوا۔ لیکن خالدہ نے جلد ہی
میری حیرت کو پریشانی میں بدل دیا۔ ان لوگوں نے رشتے کے لیے اس لیے ہاں کی کہ وہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ تھا، جو بچہ وہ ساتھ لائے تھے دراصل وہ اسکی بہن کا نہیں اسکا اپنا بیٹا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اسکی بیوی کی وفات ہوئی تھی۔ یہ سن کے میری ساری خوشی خاک میں مل گئی۔ خالدہ مجھے سمجھاتی رہی کہ اچھا رشتہ ہے کرلو، اسکے بعد پھر یہ موقع آئے نہ آئے۔ میں نے اس سے سوچنے کا وقت مانگ لیا شادی شدہ ہونے تک میں مان بھی لیتی کہ کیا فرق پڑتا ہے اب تو اسکی بیوی اس دنیا میں نہیں ہے لیکن بچے والی بات مجھ سے ہضم نہیں ہورہی تھی۔ کیا میری بیٹی پوری زندگی کسی اور کے بچے کی پرورش کرے گی۔ کیسے میں اپنی بچی آیا بنا
کے کسی کے گھر بھیج دوں۔ نہ۔۔ یہ نہیں ہو پائے گا مجھ سے۔ دو دن مسلسل اس بارے میں سو چ بیچار کرکے جب میں کسی نتیجے پہ نہ پہنچی تو فرحانہ کے ابّا کو ساری صورت حال بتائی۔ انھوں نے پہلے تو چپ سادھ لی پھر ایکدم سے خالدہ والی باتیں کرنے لگے کہ پھر کوئی رشتہ نہ آیا تو پوری زندگی سر پکڑ کے رو گی۔ پر انکی کوئی بات میرے دل کو نہ لگی۔ جب انھیں یہ احساس ہوگیا کہ انکی ساری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں تو انھوں نے ایک آخری مشورہ دیا کہ میں یہ ساری صورت حال فرحانہ کو بتا کے فیصلہ اس پہ چھوڑ دوں۔ اس سب میں یہی ایک بات تھی جو مجھے بہتر لگی۔ پر اتنی ہمت کہاں سے لاؤں جو یہ سب اس
سمجھا سکوں۔ لیکن کرنا تو تھا۔ بس میں اسکے لیے صحیح وقت کا انتظار کرنے لگی۔ فرحانہ عشاء پڑھ کے فارغ ہوئی تو میں اسکے بستر پہ بیٹھی تھی۔ امّی ۔۔ ! آپ۔۔۔ خیریت؟، کوئی کام تھا؟ وہ مجھ سے پوچھنے لگی نہیں۔۔ وہ ۔۔ ایک بات کرنی تھی تم سے میں لفظ تلاش کرنے لگی جی ! بولیں۔۔۔! تمہاری خالہ کا فون آیا تھا۔ اس دن جو لوگ آئے تھے تمہیں دیکھنے انکا جواب آیا ہے میں نے بات شروع کی اچھا۔۔۔ ! جائے نماز سمیٹ کے الماری میں رکھتے ہوئے اس نے جواب دیا وہ لوگ رشتہ کے لیے تیار ہیں میں نے بڑے اطمینان کے ساتھ اسے بتایا اچھا۔۔۔ چلو آپکی دعائیں قبول ہوئیں اسکے چہرے پہ کسی قسم کے کوئی تاثرات نہیں تھے۔ اور یہ بات مجھے
پریشان کررہی تھی۔ اچھے لوگ ہیں بیٹا، تمہیں اگر کوئی اعتراض نہ ہوتوبات آگے چلائیں میں سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی آپکو کوئی اعتراض نہیں تو میں آپکی رضا میں راضی ہوں پہلی بار اس نے میری طرف دیکھ کے جواب دیا تھا لیکن۔۔۔ تمہاری خالہ نے مجھے ایک بات بتائی ہے، جسکی وجہ سے میں پریشان ہوں اب میں اصل مدعے پہ آگئی کیا بتایا خالہ نے؟ اب وہ ٹیبل سے کتاب اٹھا کے اپنے بستر پہ آ گئی تھی وہ لڑکا شادی شدہ ہے، لیکن اسکی بیوی اب اس دنیا میں نہیں ہے میں نے ڈرتے ڈرتے کہہ دیا تو۔۔؟ کتاب کے ورق پلٹتے اس نے خاطرخواہ رد عمل نہیں دیا اسکا دو سال کا ایک بیٹا بھی ہے میں نے اب آخری تیر بھی چھوڑ دیا
اچھا۔۔۔۔۔۔۔! یہ بات تو مجھے اسی دن پتا چل گئی تھی، جس دن وہ آئے تھے فرحانہ کا یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا تمہیں کیسے پتا چلا؟ اس دن تمہاری خالہ نے ایسی کوئی بات کی نہ ہی ان لوگوں نے بتایا میں نے اس سے پوچھا امّی۔۔۔ کچھ چیزیں محسوس کرنے سے پتا چلتی ہیں۔ میں نے جب ایک نظر اسکو دیکھا تو اسکا پورا دھیان اس بچے کی طرف تھا جو اس وقت کسی اور کی گود میں تھا۔ اور وہ بچہ بس اسی کی طرف دیکھ کے کھلکھلا رہا تھا۔ ان دونوں کی آنکھوں میں ایک جیسی چمک تھی۔ اور اسی چمک سے میری نظریں پھر سےاٹھ نہیں پائیں کتاب کے ورق پلٹتے اس نے بنا میری طرف دیکھے یہ سب کہہ دیا۔ اور پہلی بار بیٹی کے سامنے
ایک ماں چھوٹی لگنے لگی۔ اس بارے میں مزید کچھ بات کرنے کے لیے میرے پاس لفظ موجود نہیں تھے۔ میں اٹھ کے جانے لگی۔ تو وہ بولی میرا جواب نہیں لیں گی؟ میں رکی اور مڑکے اسکی طرف دیکھا اس آدمی نے بنا بولے یہ بات مجھے سمجھا دی کہ وہ یہ قربانی اپنے بیٹے کے لیے دے رہا ہے۔ اور اسی لمحے مجھے بھی اس بات کا احساس ہوا کہ جب وہ اپنے بیٹے کے لیے یہ قربانی دے سکتا ہے تو میں اپنی ماں کے لیے کیوں نہیں دے سکتی؟ میں نہیں چاہتی کہ آپ مزید میری شادی نہ ہونے کے غم میں اپنا چین و سکوں برباد کریں۔ اپنی ہر خوشی میری خوشی پہ قربان کریں۔ میں دل وجاں سے اس شادی کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اس بات کا با لکل
کوئی خوف نہیں کہ ایک شادی شدہ بندے سے شادی کرکے میں اسکے بچے کی پرورش کروں گی۔ پرورش کرنا تو عورت ذات کی خوبی ہے، جب عورت بیوی بنتی ہے تو اسکا کردار ایک 'امین' کا ہوتا ہے، اور امین تبھی سچا امین بن پاتا ہے جب وہ امانت کو اپنا سمجھ کے اسکی حفاظت کرے۔ اور جب میں اسکا سب کچھ اپنا لوں گی تو پھر وہ شوہر بھی میرا ہوگا اور اسکا بچہ بھی میرا بچہ کہلائے گا میرے پاس سارے لفظ ختم ہوگئے، میری بیٹی نے مجھے ایک پل میں عام عورت سے خوش نصیب ترین ماں بنا دیا ۔ ان سب تکلیفوں کے عوض جو میں نے فرحانہ کے جنم سے لے کے آج تک برداشت کی تھیں انکا ایسا مداوا میرے لیے ایک نعمت تھا۔
مجھے فخر ہے کہ میں بیٹی کی ماں ہوں۔ کچھ کاموں کا قدرت نے صحیح وقت مقرر کیا ہوتا ہے۔ اور وہ کام تبھی پورا ہو پاتے ہیں جب وہ وقت آتا ہے۔ شائد فرحانہ کی شادی کا یہی صحیح وقت تھا۔ اب وہ اتنی سمجھدار تھی کہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرسکتی تھی۔ میں نے پہلی ہی فرصت میں فرحانہ کی شادی طے کردی ۔ اور اس نے نہ صرف اپنے شوہر کا خیال رکھا بلکہ اسکی ہر ذمہ داری اپنے سر لی اور بخوبی نبھایا۔ جب ہمت، حوصلہ اور سمجھداری غالب آجائے تو ظاہر ی شکل وصورت چھپ جاتی ہے اور تب صرف سیرت عیاں ہوتی ہے۔ جسکا حسن دائمی ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

ٹیکس، ٹیرف بڑھانے کے لیے IMF کی پھر یاددہانی

ٹیکس، ٹیرف بڑھانے کے لیے IMF کی پھر یاددہانی

اب کوئی دھاندلی کر کے دکھائے۔۔!! حکومت نے ای ووٹنگ سسٹم کے حوالے سے اہم سنگ میل عبور کر لیا

اب کوئی دھاندلی کر کے دکھائے۔۔!! حکومت نے ای ووٹنگ سسٹم کے حوالے سے اہم سنگ میل عبور کر لیا

پاکستانی عوام بہت جلد سی پیک کے حوالے خوشخبری سنیں گے - چینی سفیر

پاکستانی عوام بہت جلد سی پیک کے حوالے خوشخبری سنیں گے - چینی سفیر

شوکت ترین کی مزید 19 شہروں میں مہنگائی کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت

شوکت ترین کی مزید 19 شہروں میں مہنگائی کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت

مذاکرات کامیاب۔۔۔مذہبی جماعت کے رہنماء کورہاکردیاگیا،آگے کیاہونیوالاہے؟قوم کے لیے بڑی خبرآگئی

مذاکرات کامیاب۔۔۔مذہبی جماعت کے رہنماء کورہاکردیاگیا،آگے کیاہونیوالاہے؟قوم کے لیے بڑی خبرآگئی

ملازمین کی توموجیں ہو گئیں ۔۔ تنخواہوں میں توقع سے زائد اضافہ  ۔۔ ایسی خبر جس نے ملازمین کا دل باغ باغ کر دیا۔۔

ملازمین کی توموجیں ہو گئیں ۔۔ تنخواہوں میں توقع سے زائد اضافہ ۔۔ ایسی خبر جس نے ملازمین کا دل باغ باغ کر دیا۔۔

پیپلزپارٹی ٹی ایل پی کے معاملے پر غیرجانبدار رہے گی،بلاول بھٹو زرداری

پیپلزپارٹی ٹی ایل پی کے معاملے پر غیرجانبدار رہے گی،بلاول بھٹو زرداری

وفاقی حکومت حساس ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کرے،سندھ ہائیکورٹ

وفاقی حکومت حساس ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کرے،سندھ ہائیکورٹ

آئندہ بجٹ میں19 لاکھ نوکریاں دینے کا ہدف مقرر

آئندہ بجٹ میں19 لاکھ نوکریاں دینے کا ہدف مقرر

وزیرخارجہ شاہ محمود کا دورہ یو اے ای کامیاب ۔۔ دوست ملک نے بڑی خوشخبری سنادی

وزیرخارجہ شاہ محمود کا دورہ یو اے ای کامیاب ۔۔ دوست ملک نے بڑی خوشخبری سنادی

اس سال صرف50 ہزار پاکستانی حج کر سکیں گے،وزیر مذہبی امور نور الحق قادری

اس سال صرف50 ہزار پاکستانی حج کر سکیں گے،وزیر مذہبی امور نور الحق قادری

سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ

سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ

جہانگیر ترین گروپ کا حکومتی سیاسی کمیٹی سے ملاقات سے انکار

جہانگیر ترین گروپ کا حکومتی سیاسی کمیٹی سے ملاقات سے انکار

 لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال

لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال