11:47 am
خانہِ کعبہ کے اُوپر سے پرواز کیوں ممکن نہیں؟ سائنسدانوں  کی تحقیق میں نیا اِنکشاف جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

خانہِ کعبہ کے اُوپر سے پرواز کیوں ممکن نہیں؟ سائنسدانوں کی تحقیق میں نیا اِنکشاف جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

11:47 am

زمین پر موجود مقدس مقام خانِہ کعبہ تمام اُمت مسلمہ کے لئے ایک ایسی جگہ ہے جہاں عالم اسلام کے تمام مسلمان جانے کی خواہش کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کعبتہُ اللہ کے اوپر سے پرواز کرنا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ کعبہ شریف زمین کے مرکز میں واقع ہے، زمین کی کشش ثقل زیادہ ہونے سے تمام اشیاء اس کے اطراف میں پھیل جاتی ہیں، یہاں شدید مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ پرندے بھی دائیں بائیں پرواز کرتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جدید سائنس
کے تحت کی جانے والی تمام پیمائشوں اور پیمانوں کے مطابق خانہ کعبہ بلا شک و شبہ زمین کا مرکز ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو زمین کے بالکل بیچ میں واقع ہے۔ زمین کے درمیان کا مقام ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر زمین کی تمام کشش ثقل کا مرکز بھی یہی مقام ہے اور یہی وہ خاصیت ہے جو اسے دوسرے مقامات سے الگ اور منفرد بناتی ہے۔ زمین کی کشش ثقل کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں شدید مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی چیز کا پرواز کرنا نا ممکن ہے۔
اگر آپ اپنے ہاتھ میں مقناطیس کا ٹکڑا لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے بالکل درمیان میں کوئی چیز نہیں چپک سکتی، مقناطیسی کشش کے اثر سے وہ شے ہوا میں جھولتی ہوئی مقناطیس کے دائیں یا بائیں طرف چپک جائے گی۔ خانہ کعبہ جس طرح آج ہمیں نظر آتا ہے یہ ویسا نہیں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور میں دوبارہ تعمیر ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ پیش آنے والی قدرتی آفات اور حادثات کے باعث اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آچکی ہے۔ آخر میں خانہ کعبہ کی تفصیلی آرائش کا مکمل کام آخری بار سن 1996 میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں بہت سارے پتھروں کو ہٹا دیا گیا تھا اور بنیاد کو
مضبوط کر کے نئی چھت ڈلوائی گئی تھی۔ یہ اب تک کی آخری بڑی تعمیر ہے اور اب خانہ کعبہ کی عمارت کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے دو دروازے اور ایک کھڑکی ہوا کرتی تھی۔ دوبارہ تعمیر کئے جانے سے قبل خانہ کعبہ کا ایک دروازہ اندر داخل ہونے کے لئے اور ایک باہر جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ ایک زمانہ تک خانہ کعبہ میں ایک کھڑکی ہوا کرتے تھی۔ خانہ کعبہ کی جو شکل آج موجود ہے اُس میں صرف دورازہ ہے کھڑکی نہیں۔ ابتداء سے ہی خانہ کعبہ کو ہمیشہ کالے رنگ کی کسواہ اور سونے کے دھاگوں میں دیکھنے کی ایسی عادت ہو چکی ہے کہ ہم اس کو کسی اور رنگ میں تصور بھی نہیں کر سکتے،
یہ روایت عباسد (جن کے گھر کا رنگ کالا تھا) کے دور سے چلی آ رہی ہے اور لیکن اس سے قبل خانہ کعبہ مختلف رنگ کے غلاف سے ڈھکا رہتا تھا ان رنگوں میں ہرا، لال اور سفید رنگ بھی شامل ہیں۔