04:08 pm
روزانہ میرے دروازےپرکوئی کچراپھینک کرچلاجاتاتھابڑی کوشش کے باوجودوہ پکڑمیں نہ

روزانہ میرے دروازےپرکوئی کچراپھینک کرچلاجاتاتھابڑی کوشش کے باوجودوہ پکڑمیں نہ

04:08 pm

دوماہ سے روزانہ کو ئی میرے دروازے پر کچراپھینک کرچلاجاتا۔بڑی کوشش کے باوجود وہ پکڑ میں نہیں آیامیری اہلیہ نے کہاکہ  یقیناً یہ محلے کاکوئی ایسابندہ ہے جوفجرکی نماز پابندی سےپڑھتا ہوگااورمسجدجاتےہوئے یہ کارنامہ سرانجام دیتاہوگااب مسئلہ تھامیرااپنامیں پکانہیں کچامسلمان تھاروزانہ دس بجے اٹھ کرفجرقضاپڑھاکرتاتھا۔میں اہلیہ سے فجرکواٹھانے کوکہاتومیری بات سن کراہلیہ بہت حیران ہوئی اورکہنے لگی یہ آج سورج مشرق کی بجائے مغرب سے کیسے نکل رہاہے۔
خیرانہوں نے مجھے اگلے روز فجرکے وقت اٹھادیامیں نے اٹھتے ہی کھڑکی سے نیچےجھانک کردیکھاتودروازے پرکچراموجودنہیں تھافٹافٹ وضوکیاکھڑکی کے پاس ہی مصلیٰ بچھایااوردورکعت سنت پڑھ کرپھرسے جھانک کردیکھاتوکچرادروازے پرپڑامیرامنہ چڑارہاتھاخیرپھردورکعت فرض پڑھ کردوبارہ سوگیااگلے دن سنت کے بجائے فرض پڑھتے وقت کچراپھینک دیاگیاچاردن اسی طرح گزرگئےلیکن کچراپھینکنے والے کوپکڑ نہیں پایاپانچویں دن اہلیہ کہنے لگی
ماشاء اللہ اب آپ فجرکی نماز پڑھنے لگے ہیںتومسجدمیں باجماعت نماز پڑھ لیاکیجیے۔بات دل کولگی اورپانچویں دن سنت گھرمیں پڑھ کرجماعت سے پندرہ منٹ پہلے دروازے پرکرسی لگاکربیٹھ گیا اورمحلےکے نمازی حضرات کوآتے ہوئے دیکھنےلگاکہ کس نمازی کے ہاتھ میں کچرے کابیگ ہے ۔لیکن افسوس سارے خالی ہاتھ آتے دکھائی دئیے۔نماز پڑھ کرآیاتودروازے کے سامنے بھی کچراموجودنہیں تھا۔ایک ہفتے مسلسل پا بندی سے باجماعت نماز پڑھنے کے بعدمیں نےاہلیہ سے کہابیگم اب کچراپھینکنے والاشایداب ڈرگیاہےجب ہی کچرانہیں پھینک رہااب آپ مجھے فجرکے وقت نہیں اٹھانااہلیہ کچھ نہیں بولی اگلے دن اہلیہ نے تومجھے نہیں
اٹھایاالبتہ میری آنکھ خودہی کھل گئی کھڑی سے جھانک کردیکھاتوکچرادروازے پرموجودتھاٹائم دیکھاتوفجرکاوقت توباقی تھالیکن جماعت نکل چکی تھی اب اگلے دن پھروہی معمول تھادوہفتے مسلسل فجرکی نماز باجماعت پڑھتارہااوردروازہ صاف ستھراملتارہا۔دوہفتے بعد اب میری جماعت سےفجرکی نماز پڑھنے کی عادت ہوچکی تھی۔دودن قبل رات کے کھانے میں اس کچراپھینکنے والے کاذکرآگیامیں اسے برابھلاکہنےلگاعلی بولاابوآپ اسے براتونہ کہیںبلکہ وہ توآپ کامحسن ہےجس کی وجہ سے آپ فجرکی نمازباجماعت پابندی سے پڑھنےلگے ہیں علی کی بات سن کرمیرے دماغ کوجھٹکاسالگااورسب کوغورسےدیکھنے لگامجھے یوں اپنی طرف دیکھ کرسارے ہنسنے
لگےعمرکہنے لگاابوآپ کی وہ محسن کوئی اورنہیں بلکہ ا می ہیںآ پ امی کاشکریہ اداکیجیےمیں نے اہلیہ کودیکھاتوکہنے لگی جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے توٹیڑھی انگلی سے نکالناپڑتاہے۔