03:03 pm
سلطاناکی موت کے بعد انگریز اس کے بیٹے کواپنے ساتھ برطانیہ  کیوں لے گئے،وہ حیران کن حقائق جن سے اب تک ہر کوئی لاعلم ہے

سلطاناکی موت کے بعد انگریز اس کے بیٹے کواپنے ساتھ برطانیہ کیوں لے گئے،وہ حیران کن حقائق جن سے اب تک ہر کوئی لاعلم ہے

03:03 pm


امیروں کا مال لوٹنا اور غریبوں میں تقسیم کرنے کا ذکر ہو تو 14ویں صدی کا ایک کردار ‘رابن ہڈ’ یاد آتا ہے جو اپنے ساتھیوں سمیت برطانوی کاؤنٹی ناٹنگھم شائر میں شیروڈ کے جنگلات میں رہتا تھا۔وہ ایک عام شہری تھا لیکن ناٹنگھم کے بدقماش شیرف نے اس کی زمین چھین لی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ لوٹ مار کرنے لگا تھا۔اس کے بارے میں کئی ناول لکھے گئے اور بہت سے
فلمیں بنیں مگر پھر بھی اس کے بارے میں یہ بحث موجود ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں وجود رکھتا بھی تھا یا نہیں۔تاہم ایسا ہی ایک کردار ہندوستان میں بھی گزرا ہے جو روایت کے مطابق امیروں کو لوٹتا تھااور غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ یہ کردار تھا سلطانا (یا سلطانہ) جسے 96 سال پہلے آج ہی کے دن 7 جولائی 1924 کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔سلطانا کے عقیدے کے متعلق کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔بیشتر لوگوں کے نزدیک وہ مسلمان تھا جبکہ چند مؤرخین نے اسے ہندو عقیدے کا پیرو کار بتایا ہے کیوں کہ وہ بھاتو قوم سے تعلق رکھتا تھا جو عقیدے کے لحاظ سے ہندو تھی۔سلطانا اور اس کے گروہ کے لوگ ضلع مراد آباد کے رہنے والے تھے اور سب کے سب جرائم پیشہ تھے۔ سلطانا اور اس کے گروہ کے افراد مختلف جرائم میں سزا کے طور پر یو پی کے علاقے نجیب آباد میں پتھر گڑھ کے قلعے میں قید کیے گئے تھے مگر آہستہ آہستہ یہ افراد قید سے فرار ہونے لگے اور انھوں نے بھاتو قوم ہی کے ایک شخص بالم کند کی قیادت میں چوری چکاری کی وارداتیں شروع کر دیں۔بالم کند ایک دن اپنے زعم میں مالوف خان نامی ایک بہادر پٹھان سے الجھ بیٹھااور زندگی سے گیا جس کے بعد اس گروہ کی قیادت سلطانا کے ہاتھ میں آگئی۔سلطانا ابتدا میں چھوٹی موٹی چوری چکاری کرتا تھا۔ اردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار اور اپنے زمانے کے مشہور پولیس آفیسر ظفر عمر اسے ایک مرتبہ گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس پر انھیں پانچ ہزار روپے کا انعام ملا۔ظفر عمر کی صاحبزادی حمیدہ اختر حسین رائے پوری نے اپنی کتاب ‘نایاب ہیں ہم’ میں لکھا ہے کہ ظفر عمر نے سلطانا کو ایک دوبدو مقابلے میں گرفتار کیا تھا۔اس وقت سلطانا پر سوائے چوری چکاری کے کوئی سنگین الزام نہ تھا اس لیے اسے محض چار سال کی قید بامشقت سزا سنائی گئی۔ظفر عمر نے اس کی گرفتار پر ملنے والی رقم اپنے سپاہیوں اور علاقے کے لوگوں میں تقسیم کر دی تھی۔ بعدازاں ظفر عمر نے اردو میں کئی جاسوسی ناول تحریر کیے جن میں پہلا ناول ‘نیلی چھتری’ تھا اور اس کی کہانی کا محور سلطانا ہی تھا۔ رہائی کے بعد سلطانا نے اپنے گروہ کو ازسرنو منظم کیا۔ اس نے نجیب آباد اور ساہن پور کے سرکردہ لوگوں سے رابطے استوار کیے اور اپنے قابل اعتماد مخبروں کا جال بچھا کر وارداتیں شروع کر دیں ۔اسے اپنے مخبروں کے ذریعے مالدار آسامیوں کی خبر ملتی۔سلطانا ہر واردات کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط کے ساتھ کرتا اور ہمیشہ کامیاب لوٹتا۔ اپنے زمانے کے مشہور شکاری جِم کاربٹ نے بھی اپنی کئی تحریروں میں سلطانا کا ذکر کیا ہے۔ ظفر عمر کے مطابق سلطانا بڑے نڈر طریقے سے واردات ڈالتا تھا اور ہمیشہ پہلے سے لوگوں کو مطلع کر دیتا تھا کہ مابدولت تشریف لانے والے ہیں۔واردات کے دوران وہ جسمانی نقصان پہنچانے سے حتیٰ المقدور گریز کرتا لیکن اگر کوئی شکار مزاحمت کرتا اور اسے یا اس کے ساتھیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو وہ حد سے گزرنے سے دریغ نہ کرتا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ غریب عوام اس کی درازی عمر کی دعائیں مانگتے اور وہ بھی جس علاقے سے مال لوٹتا وہیں کے ضرورت مندوں میں تقسیم کروا دیتا۔سلطانا کی وارداتوں اور داد کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا، مگر انگریزوں کی حکومت تھی اور وہ یہ صورتحال زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ پہلے تو انھوں نے ہندوستانی پولیس کے ذریعے سلطانا کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر سلطانا کے مخبروں اور غریب دیہاتیوں کی مدد کے باعث وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔بالآخر انگریزوں نے سلطانا کی گرفتاری کے لیے برطانیہ سے فریڈی ینگ نامی ایک تجربہ کار انگریز پولیس افسر کو انڈیا بلانے کا فیصلہ کیا۔ فریڈی ینگ نے ہندوستان پہنچ کر سلطان کی تمام وارداتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا اور ان واقعات کی تفصیل معلوم کی جب سلطانا اور اس کے گروہ کے افراد پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے صاف بچ نکلے تھے۔فریڈی ینگ کو یہ نتیجہ نکالنے میں زیادہ دیر نہ لگیکہ سلطانا کی کامیابی کا راز اس کے مخبروں کا جال ہے جو محکمہ پولیس تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ یہ بھی جان گیا کہ منوہر لال نامی ایک پول

تازہ ترین خبریں

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے  کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

 بلاول حمزہ شہباز سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

بلاول حمزہ شہباز سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

لیگی رہنمائوں پر حملہ :واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی

لیگی رہنمائوں پر حملہ :واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی

چھٹی کے دن خوفناک دھماکا،بچوں سمیت متعددافرادبارے انتہائی افسوسناک خبرآگئی

چھٹی کے دن خوفناک دھماکا،بچوں سمیت متعددافرادبارے انتہائی افسوسناک خبرآگئی