چھینک مارتے وقت منہ پر کپڑا کیوں رکھا جاتا ہے؟
  10  اکتوبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

آپ کی چھینک یا کھانسی کے بعد بھی جراثیم فضاءمیں 45 منٹ رہ سکتے ہیں اور دیگر افراد کو اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔پرنس چارلس ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چھینک یا کھانسی کے ذریعے خارج ہونے والے جراثیم بارہ فٹ دور تک جاسکتے ہیں اور 45 منٹ تک وہاں موجود رہ سکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھینک آنے یا کھانسنے پر اپنے منہ کو ڈھانپ لینا دیگر افراد کو نزلہ زکام کے جراثیموں سے بچا سکتا ہے۔یہ وہ احتیاط ہے جو سنت رسول ﷺ میں بھی ملتی ہے اور اس حوالے سے کئی

احادیث بھی موجود ہیں،یعنی طبی سائنس نے 14 سو سال بعد اس کا فائدہ تسلیم کرلیا ہے۔اس تحقیق کے دوران جائزہ لیا گیا تھا کہ چھینک یا کھانسی کے دوران خارج ہونے والے جراثیم کس طرح طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق بیماری سے اٹھنے والے افراد اس طرح کے جراثیم سے زیادہ جلد متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوچکا ہوتا ہے۔محقیقن نے بتایا کہ جیسے ہی چھینک کے دوران خارج ہونے والا مواد ہوا میں جاتا ہے، وہ تیزی سے خشک، سرد اور ہلکا ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ فضاءمیں موجود رہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے وال جراثیم انسانی نظام تنفس کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر امراض کا باعث بنتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
33%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved