حضرت یوسف علیہ السلام جب غلام کی حیثیت سے مصر پہنچے
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

جلیل القدر پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر میں قیام کے مقام کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور ہیں۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے جنوب مغربی مصر کی موجودہ الفیوم گورنری میں کوم اوشیم کے مقام پر قیام کیا۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ الاقصر کے علاقے جسے الطیبہ بھی کہا جاتا ہے میں قیام پذیر رہے۔ یہاں پر ہی اس وقت کے بادشاہ کا پایہ تخت تھا اور اخناتون بادشاہ کی قیام گاہ تھی۔ایک خیال یہ ہے کہ حضرت یوسف کو جب ایک غلام کی حیثیت سے مصر پہنچایا گیا تو انہوں نے اسوان میں ادفو کے مقام پر قیام کیا مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ یہ حضرت یوسف نے مصر کی الشرقیہ اور الاسماعیلیہ گورنریوں کے درمیان ارض جوشن جسے وادی اطمیلات بھی کہا جاتا ہے، میں قیام کیا۔ مصری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کے مقام قیام کے بارے میں ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی مصر میں آمد’ابابی اول‘ خاندان کے 16ویں عہد میں ہوئی۔ تورات میں اس باد شاہ کا نام فوتیفار[لقب عزیز مصر] ملتا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ مصر میں کھدائیوں کے دوران ایک قبر سے’فوتی فارع‘ نام کا ایک کتبہ ملا ہے۔ تورات اور قرآن کریم دونوں میں اس دور میں مصر میں قحط کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی قریبا 1600 قبل مسیح الہکسوس کے دور میں مصر میں داخل ہوہے۔

ارض جوشن ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے مراد ’’اللہ کا بند‘‘ یا عربی میں اسے عبداللہ کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں اس جانب سورۃ مریم کی آیت 58 میں اشارہ ہے کہ "أولئك الذين أنعم الله عليهم من النبیین من ذرية آدم وممن حملنا مع نوح ومن ذرية إبراهيم وإسرائيل"۔قرآن کریم میں اسرائیل کے نام سے جس جلیل القدر ہستی کی طرف سے اشارہ ہے اس سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں۔ اسرائیل یعنی یعقوب کی اولاد میں اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ حضرت یوسف نے مصر میں جوشن یا جوسان کے مقام پر قیام کیا۔ اس جگہ کو وادی الطمیلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک زرعی علاقہ ہے جو مشرق مین لازقازیق اور مغرب میں اسماعیلیہ تک پھیلا ہوا ہے۔اسی علاقے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوتی ہے۔ ان کا شجرہ نسب موسیٰ بن عمران بن یصھر بن قاھث بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام بتایا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت یوسف کے بھائیوں میں لاوی کی نسل سے تھے۔ ڈاکٹر ریحان واضح کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں مصر میں بادشادہ کے لیے ’لھکسوس‘ کا لقب اختیار کیا جاتا تھا جو اس وقت مصر کا بادشاہ تھا جب کہ فرعون مصر کے گورنر کے لیے استعمال ہونے والا لقب تھا۔قرآن کریم میں سورۃ القصص میں بھی فرعون کواس کے نام سے یاد کیا گیا ہے نا کہ اسے بادشادہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم سورۃ یوسف کی آیت 54 میں ’الملک‘ یعنی بادشاہ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ریحان نے بتایا کہ بنی اسرائیل کا مصر سے اخراج ’سکوت‘ کے مقام سے ہوا۔ تورات میں اس کا نام ’سوخیت‘ بیان کیا گیا ہے جس کا معنہ خیمے اور چھتریاں ہیں اور اس سے مراد مسافروں کی عارضی آرام کی جگہ لی جاتی ہے۔ آج اس جگہ کی نشاندہی فیثوم، الصالحیہ اور الحجر کے درمیان کی جاتی ہے۔ یہ شہر فرانسیسی ماہر ارضیات نافیل نے 1883ء میں دریافت کیا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved