میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں لیکن محلے والے مجھے فاحشہ کہہ کر مجھ سے نہیں ملتے کیونکہ
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

بھارت کی سپریم کورٹ نے تو تین طلاقوں کو غیر قانونی قرارد ے دیا ہے لیکن لوگ اس حکم کو مانتے نظر نہیں آتے۔ اس کی تازہ ترین مثال ایک نوجوان بھارتی لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق لڑکی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتے ہوئے بتایا ”۔چند دن قبل میرا شوہر رات کے ایک بجے گھر واپس آیا اور آتے ہی ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس نے شراب پی رکھی تھی اور مجھ سے ماچس مانگ رہا تھا کیونکہ وہ سگریٹ پینا چاہ رہا تھا۔ میں نیند کی حالت میں تھی سو اٹھنے کی بجائے اسے کہا کہ باورچی خانے سے جا کر ماچس لے لے، مگر اسے ماچس وہاں نہ ملی۔ اس بات پر وہ غصے سے ایسا بے قابو ہوا کہ مجھ پر تشدد کرنے لگا

اور پھر نیم مدہوشی کی حالت میں ہی مجھے طلاق دے ڈالی۔اس دوران شور سن کر ہمسائے بھی پہنچ چکے تھے اور انہوں نے بھی طلاق کے الفاظ سنے۔ اگرچہ میرے شوہر نے نشے کی حالت میں مجھے طلاق دی تھی۔لیکن میرے ہمسائے کہنے لگے کہ مجھے طلاق ہو گئی لحاظ اب میرا اپنے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ۔ انہوں نے اسی وقت مجھے وہاں سے رخصت ہونے کو کہہ دیا، حتیٰ کہ مجھ سے چوڑیاں اور انگوٹھی بھی اتروا لی گئی اور مجھے والدین کے گھر بھیج دیا گیا۔ اگلی صبح میرے شوہر کو اپنے کئے پر پچھتاوا ہوا اور اس نے مجھ سے معافی مانگی اور مجھے واپس لے گیا۔ اب میرا شوہر تو مجھے رکھنے پر تیار ہے لیکن ہمسائے اور آس پاس کے لوگ مجھے اس کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ وہ کہتے ہیں۔کہ میں طلاق کے بعد ایک اجنبی کے ساتھ رہ کر گناہ کا ارتکاب کر رہی ہوں۔ مجھے فاحشہ قرار دے کر میرا سماجی بائیکاٹ کر دیا گیا ہے اور کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا۔ بات چیت تو دور کی بات، وہ مجھے دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ میرے پاس سوائے اپنی قسمت پر آنسو بہانے کے کوئی چارہ نہیں۔ “


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
100%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved