مرزا غلام احمد قادیانی ا ور معروف ’’اسلامی سکالر ‘‘ جاوید غامدی میں کیاقدر مشترک ہے؟ اوریا مقبول جان کا تہلکہ خیز انکشاف
  12  اکتوبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)صرف دوصدیاں پہلے جب یورپ کا عسکری عروج شروع ہوا اوروہ بزورِ شمشیردنیا پرقابض ہوگیا تواس نے اپنے زیرِنگین مسلمان علاقوں میں‌علمی مباحث اورفکری بلوغت کے نام پرایسے لوگوں کی فکرعام کرنے کی کوشش کی جواپنی علمی قابلیت، تعلیمی استعداد بلکہ وضع قطع اوررہن سہن سے بھی ایک دین کے عالم نہ صرف نظرآئیں بلکہ ایک گروہ ان کی بات کے زیرِاثربھی ہو. ان تمام علماء سے جہاں یورپ نے مغربی تہذیب وتمدن سے مسلمانوں‌ میں مرعوبیت پیدا کرنے اوراس امت کواحساس کمتری کا شکارکرنے کا کام لیا، وہیں ان سب کے عقلی، علمی اوربعض جگہ روحانی انکشافات کے ذریعے اسلام میں تصورجہاد وقتال کی اول توتنسیخ کاکام لیا اوردوم یہ کہ اس سے اتنی نفرت پیدا کردی گئی کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان اسے خونریزی سے سوا کچھ اورنہ سمجھنے لگا. جس وقت مسلمانوں کوجہاد و قتال سے اجتناب کا درس دینے والے یہ “مصلحین” پیدا ہورہے تھے، یورپی ممالک علاقوں پرعلاقے فتح کرتے جا رہے تھے. اپنی تلوارکے ذریعہ لوگوں کے سرکاٹتے اورقوموں کومحکوم بناتے. یہاں تک کہ جب پوری دنیا کواپنے زیرِنگین کرلیا، توآپس میں لڑنا شروع ہوگئے.جنگ عظیم اول اوردوم مسلمانوں میں جہاد کے تصورکی نفی کے اولین موجد مرزا غلام احمد قادیانی کے جہاد کے فتویٰ کے بعد لڑی گئیں.جس وقت یہ ایک خودساختہ نبی اپنے خودساختہ الہام کی بنیاد پرجنگ اورجہاد کوممنوع قراردے رہا تھا اوراس کے اس الہام کوقادیانیت کا سرکاری شاعر،اپنے سرکاری اخبار “الفضل” میں‌ مرزا غلام احمد قادیانی کے 2 جون 1900ء بروز شنبہ دوپہردوبجے کے زبردست الہام وکشف کے نتیجے میں جہاد کے خاتمے کے اعلان کا قصیدہ پڑھ رہا تھا توایسے وقت میں یورپ جنگ عظیم اول کے لیے اپنی کمانیں کس رہا تھا.اس جنگ کا آخری نتیجہ مسلمان امت کی مرکزیت یعنی خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ اورامت کورنگ ونسل اورزبان کی بنیاد پرتقسیم کرنا تھا. اس عین جہاد کی فضیلت کے موسم میں یہ اشعارالفضل میں‌ شائع ہوئے اب چھوڑدو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اورقتال اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اورجہاد کا فتویٰ فضول ہے یہ فتویٰ‌ اس وقت سامنے آیا جب برِصغیرپاک وہند میں‌ مسلمان برطانوی سامراج کے خلاف جہاد کررہے تھے. 1857ء کی جنگِ آزادی سے لے کرسید احمد شہید کی تحریک سے ہوتا ہوا یہ جہاد مولانا جعفرتھانیسری جیسے شہداء کے خون سے سجا ہوا تھا. مرزا غلام احمد قادیانی کے اس فتویٰ کا فائدہ برطانوی سامراج کو تھا اسی لیے علامہ اقبال نے اس کے رد میں اپنی مشہورنظم “جہاد” تحریرکی فتویٰ ہے شیخ‌ کا یہ زمانہ قلم کا ہے دنیا میں اب رہی نہیں‌ تلوار کارگر باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے یورپ زدہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر حق سے اگرغرض ہے توزیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر وقت کے ساتھ مغرب اورمغربی تہذیب کے اجارہ داروں نے مختلف انداز سے مسلمانوں سے روحِ جہاد ختم کرنے کی کوشش کی. مرزا غلام احمد قادیانی کا کشف و الہام اورجھوٹی نبوت کام نہ آسکی تودلیل کا راستہ نکالا گیا اوراجتہاد کے نام پرایسے علماء پیدا کیے گئے جو مسلمانوں کومغربی تہذیب وتمدن سے مرعوب کریں اوراحساسِ کمتری کا شکارکرکے جہاد کے تصورسے دوربھگائیں. ایسے سیکولرنما مذہبی اورمذہبی نما سیکولرسکالراس وقت سے لے کرآج تک مغرب کی آنکھوں کا تارا ہیں. ان میں سے ایک جاوید احمد غامدی ہیں جوہراس فرد کے خوابوں کا دولہا ہیں جوجدید ترین مغرب تہذیب وتمدن کوفقہی جوازدے کرآخرت کی جواب دہی کے فکرسے آزاد ہونا چاہتا ہے. جاوید غامدی کی فکراورسوچ کی ضرورت ان حلقوں میں اتنی شدید ہے کہ ان کا بس نہیں‌ چلتا کہ ہراسلامی فورم، ہرمدرسہ اورمسجد میں‌ صرف اورصرف غامدی صاحب کی فکرکوہی پروان چڑھائیں. یہ فکرایسے خطوں میں زیادہ زہرقاتل ثابت ہوسکتی ہے جہاں مسلمان مظلوم ہیں اورآزادی کی جدوجہد کررہے ہیں. میرے سامنے اس وقت سرنگرسے نکلنے والے انگریزی روزنامے Greater Kashmir کا 7 اکتوبر2017ء کا ایڈیشن ہے جس میں محمود الرشید صاحب نے وادی کشمیرمیں غامدی صاحب کے فلسفے کی مقبولیت کے بارے میں مضمون تحریر کیا ہے جس کا عنوان ہے “shifting the paradigm”. اس میں بتایا گیا کہ وادی میں‌ لوگوں میں غامدی صاحب کے فلسفے پراب گفتگوشروع ہوگئی ہے اوراس طرح کے خونریزتصادم والے علاقے میں یہ بہت ضروری ہے. میں نے ایک دو جاننے والے اصحاب سے سرینگر بات کی توپتہ چلا کہ گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی پولیس اوربارڈرسیکیورٹی فورسز مختلف ہوٹلوں میں “قہوہ ٹاک” کے نام سے نوجوانوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کرتی ہیں جن میں صحافی، پروفیسرز اورسول سوسائٹی کے ممبران بھی تشریف لاتے ہیں. یہ “قہوہ ٹاک” سرینگر کے امیرعلاقے گپکاروڈ پرواقعہ کیفوں میں منعقد ہوتے ہیں اوران میں کشمیری مجاہدین کے نظریاتی توڑکے لئے جاوید احمد غامدی کے فلسفے سے دلائل دیے جاتے ہیں. اس وقت کشمیرکی کٹھ پتلی حکومت میں وزیر، نعیم اختر، غامدی کے فلسفے کوعام کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے تاکہ جہاد کے تصورات اورجذبہ شہادت کوکشمیریوں کے دلوں سے ختم کیا جا سکے. جاوید احمد غامدی صاحب کا فلسفہ جہاد اپنی جگہ لیکن کشمیرمیں بھارتی افواج اورانتظامیہ میں ان کے مقبول ہونے کی ایک مناسب وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چند برس پہلے نیویارک میں دہشت گردی اورامریکہ افغان جنگ کے پس منظر میں افضال ریحان نے ان سے انٹرویو لیا توانہوں نے کشمیر کے بارے میں بغیرکسی لگی لپٹی رکھے اپنا موقف بیان کیا. سب سے پہلے جمہوریت کے پرستارجاوید احمد غامدی یہ موقف ملاحظہ کریں. “آزادی اورغلامی کے جوالفاظ آج کل استعمال ہورہے ہیں یہ جمہوریت کے بعد بالکل بے معنی ہوچکے ہیں. جولوگ یہ الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ دراصل پچھلی صدی میں رہ رہے ہیں. دنیا میں‌ آزادی اورغلامی کے تصورات ہی بالکل بدل گئے ہیں. اب حکومت اکثریت کی ہوتی ہے. ہندوستان میں اگرہندوؤں کی اکثریت ہے توان کی حکومت ہوگی. تاہم کسی جگہ اگراکثریت پرکوئی اقلیت اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہے تواس کے خلاف سیاسی جدوجہد کرنی چاہیے. جنگ وجدل جیسے اقدامات کبھی پابندحدود نہیں ہوتے”. اس کے بعد جب افضال ریحان نے سوال کیا کہ “کشمیرمیں تومسلمانوں کی اکثریت ہے توغامدی صاحب نے کہا کہ “کشمیرکی صورتحال مختلف ہے. کشمیرکے بارے میں ہندوستان اورپاکستان کے درمیان تنازع ہے کہ یہ خطہ ہندوستان کا حصہ ہے یا پاکستان کا. وہاں جھگڑا اکثریت اوراقلیت کا نہیں‌ہے.” سوال کرنے والے نے جب کشمیری مجاہدین کے بارے میں براہ راست سوال کیا توغامدی صاحب نے تنک کرجواب دیا “کشمیری چونکہ جہاد کی بنیادی شرائط پوری نہیں کررہے، اس لئے ان کے حملوں کوجائز قرارنہیں دیا جا سکتا. وہ یہ جنگ نہ کسی منظم حکومت کے تحت لڑرہے ہیں، نہ ان کی جنگ اعلانیہ ہے اورنہ وہ مقاتلین اورغیرمقاتلین میں فرق کرہے ہیں”. غامدی صاحب نے اسی انٹرویومیں امریکہ کے افغانستان پرحملے کوجائزاورحق بجانب قراردیا ہے. غامدی صاحب نے مسلم امت کے سارے معیارات کواپنی منطق سے بدلنے کی کوشش کی ہے. یزید کی اکثریتی حکومت جائز اورسیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی تمام قربانی نعوذباللہ فساد. لیکن اللہ کا قرآن وایسے جہاد وقتال سے بھاگنے والوں اورمنطق سے جہاد کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت سے بھراہوا ہے. سورہ محمد کی ایک آیت پیش کررہا ہوں” پھرجب کئی جچی تلی سورہ نازل ہوجائے، اوراس میں قتال(لڑائی) کا ذکرہوتوجن کے دلوں میں روگ ہے، تم انہیں دیکھوگے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح نظریں اٹھائے ہوئے ہیںجیسے کسی پرموت کی غشی طاری ہو، بڑی خرابی ہے ایسے لوگوں کی” (محمد 20) میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا.


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved