آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود صلیبی ذہنیت آج تک نہیں بدلی
  11  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ٹھیک آٹھ سو سال پہلےایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوتا ہے اٹلی شمالی کوہستانوں سے بچوں کے جلوس گروہ در گروہ وادیوں میں پھیلتے گئے،،وہ اپنے معصوم ہاتھوں میں لکڑی کی صلیبیں اٹھائےاور اونچی آواز میں حمد کے گیت گاتے شہروں اور دیہاتوں سے گزرے۔جب بھی کوئی ان سے پوچھتا کہ تم کہاں جارہے ہو وہ کہتے خدا کے پاس دراصل وہ وینڈوم کی وادی کے غریب چرواہوں کی اولاد تھے جو راضی برضا اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ان کی قیادت سٹیفن نامی ایک بارہ سالہ بچہ کررہا ہوتا ہے جس کا دعوی ہے کہ یسوع و مسیح نے اسے خود ایک خط سونپا ہے جس میں یہ ہدایت ہے کہ وہ صلیبی جنگوں کا راستہ دوبارہ ہموار کرے، اور راستے میں انہیں کئی بچے اور مل گئے،وہ ساحل سمندر کی طرف رواں دواں تھے۔ کہ سرزمیں مقدس(یروشلم،جو کہ اس وقت مسلمانوں کے قبضے میں تھا)میں پہنچ کرآقا و مولا مسیح کی خدمت کریں،وہ اس مقدس شہر کو حاصل کرنے جارہے تھے جس کی فتح کے بعد ان کےمطابق دنیا میں امن او امان کا دورہ ہوجائے گا۔بچوں کا یہ جلوس عیسایت کیلئے ایک معجزہ بن گیا، لوگ جوق در جوق اسے دیکھنے جاتے اور اسے خدا کا ایک معجزہ جانتے، دیکھنے والوں کو یقین ہوگیا کہ خداوند یسوع مسیح ان کا شامل حال ہے اور ان معصوموں کے زریعے کوئی معجزہ رونما ہونے والا ہے اور جلد ہی سرزمین مقدس کافروں(مسلمانوں ) کے قبضے سے آزاد ہونے والی ہے بچوں کا یہ لشکر کلیسائے روم کی ایما ءپر بپا کیا گیا تھا جس کا عقیدہ تھا کہ کہ جب وہ سمندر کے کنارے پہنچیں گے تو سمندر معجزۃً ان کے لیے راستہ چھوڑ کر سمٹ جائے گا اور وہ سرزمین مقدس پہنچ کر سب مسلمانوں کو عیسائی کرلیں گئیں اپنے وقت کے مشہور ترین اور چرچ کی تاریخ کے طاقتور ترین پوپ انوسنٹ نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعث شرم ہے کہ بچے تو سرزمین مقدس کی آزادی کیلئے نکلیں اور ہم گھروں میں بیٹھے رہیں ان بچوں کا انجام بڑا دردناک ہوا،جب یہ ساحل سمندر پر پہنچے تو ان کی توقعات کے برعکس سمندر شق نہ ہوسکا بہت سوں کی ہمت وہیں دم توڑ گئی اور وہ واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوئے،جو بقیہ رہ گئے ان کے اندر عیسائی بردہ فروشوں کے گروہ مل گئے جو کہ اس معصوم لڑکوں کو ورغلانے لگے چند لوگوں نے انہیں جہازوں کی پیش کش کی جن پر وہ جب بیٹھ کر روانہ ہوئے تو بجائے وہ ان کو یروشلم لے کر جانے کے تیونس اور اسکندریہ میں غلام بنا کر بیچ آئے،ایک جہاز راستے میں ہی غرق ہوگیا اور اس جگہ پر پوپ انونسٹ نے بعد میں ایک یادگار تعمیر کردی جو بچے راستے کی ہزاروں صعوبتیں اٹھا کر واپس پہنچے ان کے ہاتھوں سے صلیبیں گرچکی تھیں اور وہ دکھ اور درد سے لاچار تھے،وہ لوگ جنہوں نے معجزے کی توقع میں ان کی مدد کی تھی انہیں واپس آتا دیکھ کر آوازے کسنے لگے، جو لڑکیاں انسانی درندوں سے اپنا سب کچھ لٹوا چکیں تھیں ان کو وہ نفرت و حقارت سے کہتےارے یہ شیطان کی کنیزیں خدائی کام کے لیے نہیں بدکاری کے لیے گئیں تھیں اسی سال بچوں کا ایک دوسرا لشکر جرمنی سے بھی برآمد ہوا جس کے انجام اور اٹلی کے بچوں کے انجام میں کوئی فرق نہیں ہوتا ماسوا ایک فرق کہ، جب اس لشکر کے بچے گھروں میں واپس نہیں پہنچ پاتے تو لوگ اس لشکر کے لیڈر کےباپ کو ان کے بچوں کو ورغلانے کے جرم میں سرعام پھانسی دے دیتےہیں!! اس لشکر کا انجام جو بھی ہو مگرپاپائے روم کو صلیبی جنگوں کے مردہ بدن میں جان ڈالنے کیلئے ایک نئی تحریک مل گئی۔نومبر1215 میں لاٹرن محل میں اعلی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دنیائے عیسایت کے گوشے گوشے سے بشپ اور پادری آئے،پاپائے روم انوسنٹ نے بڑا پرتاثیر اور سحر آفرین وعظ کیا جس میں صلیبی جنگ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس نے کہااب سفر کا وقت آن پہنچا ہے اس مقدس سفر کے لیے کمر بستہ ہوجایئے میری دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئیں اور میری روح آپ کی رفیق انوسنٹ اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی مرگیا اور یہ لشکر کبھی روانہ ہی نہ ہوسکا،

سن 2012 زمانہ ۔حال کلیسائے جدید (اقوام متحدہ) کے ہاتھ سوات کے خوشنما پہاڑوں اور سر سبز وادیوں سےملالہ نام کی ایک نو عمر لڑکی آتی ہے ۔ جو نہ جانے کس کے لگائے گئے زخموں سے چور چور ہے ،اس کو دیکھنے کے لیے صلیبوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع ہوجاتے ھیں اوخدا کی اس قدرت پر تعجب کرنے لگتے ھیں کہ وہ جنگ جو وہ کردار ،اخلاقیات،مذہب اور انسانیت کے ہر میدان میں ہار چکے ھیں اس کے قائم کرنے کے لیے ایک اخلاقی جواز مل گیا ہے !!کلیسائی مجلسیں دنیا کے طول و عرض میں منعقد کی جاتیں ھیں ۔جن میںخدا کی طرف سے اس تائید غیبی پر شکر ادا کیا جاتا ہے اور اس لڑکی کو جرآت و بہادری کی وہ علامت قرار دیا جاتا ہے جو کہ پردہ غیب سے باقاعدہ ایک سازش کے تحت برآمد ہوگئی ہے ۔پوپ بذات خود حرکت میں آتے ھیں اورخدا کی اس معصوم روح کے لیے دعا گو ہوتے ہیں۔سنگیت کار محبت کے اظہار کے لیے اپنے ننگے بدنوں پر اس کا نام گدوا کر تقدیس اور محبت کے گیتوں کا رس فضا میں گھولتے ہیںآٹھ سو سال گزر گئے مگر صلیبی ذہنیت آج تک نہیں بدلی ، معصوم بچوں کو ورغلا کر اور ان کو تائید غیبی کا یقین دلا کر ،انہیں امن ،انقلاب اور روشن خیالی کی علامت بنا کر انہیں استعمال کرنے کا جذبہ آج بھی کارفرما ہے !! بردہ فروش نیا روپ ضرور دھارے ھوئے ھیں مگر صاحبان عقل و دانش کے لیے انہیں پہچاننا اتنا مشکل نہیں ھے۔ بچوں کے ہاتھوں میں "یسوع مسیح کے مکتوب" کی جگہ معصوم ڈائریاں دے دی جاتی ھیں جنہیں وہ پوپ کے نمائندوں کے آگے پیش کر کے مدد کی اپیل کرتے ھیںاور پھر صلیبی بردہ فروشوں کے گروہ سرگرم عمل ہوتے ھیں اور اس لڑکی کو اپنے جہازوں کی پیش کش کرتے ھیں اور اسے زمین مقدس پر پہچانے کا وعدہ کرکے "نامعلوم جزیروں" میں لے جاتے ھیں- جہاں پر اس کی عزت و حرمت کی منہ مانگی قیمت وصول کی جائے گی اور سوات کے پہاڑوں پر !بودوباش رکھنے والے غیور پٹھانوں کی عزت ان بردہ فروشوں کے ہاتھوں تارتار ہوجائے گی اس صلیبی کہانی کی پہلی قسط پیش کی جاچکی ہے ۔ اگلی کب آئے یہ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر اس کے انجام کے بارے میں کوئی شک نہیں، صلیبی غنڈوں کا شکار ایک آبرو باختہ، روح اور وجود پر زخموں سے چور چور ایک لڑکی ، جس پر اپنے بھی تھو تھو کریں اور اس کے باپ کو لوگوں کو دھوکا دینے کے جرم میں پھانسی دی جارہی ہو!!ہاں مگر کلیسا اس کی خدمات کے اعتراف میں ایک یادگار تعمیر کرنا نہ بھولے گا ۔ پہاڑ کی کسی چوٹی پر قائم کیا گیا کوئی مجسمہ یا سمندر کے ساحل پر تعمیر کردہ مقبرہ نہ سہی یوم ملالہ ہی سہی!!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved