پاکستان میں موجود سموگ سے ہیرے بنائے جا سکتے ہیں، مگر کیسے؟ آپ بھی جانئے
  11  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

بیجنگ ( آن لائن) نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ سائنسدان ڈان روسیگارڈ نے چین میں سموگ سے نمٹنے کیلئے 7 میٹر بلند ٹاورز تخلیق کیے ہیں جو فضا میں موجود آلودگی کو اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں اور اس آلودگی سے ہیرے کے زیورات بناتے ہیں۔ ڈان روسیگارڈ کا کہنا ہے کہ ان ہیرے کے زیورات سے حاصل ہونے والی آمدنی اس پراجیکٹ کو دنیا بھر میں پھیلانے کیلئے استعمال کی جائے گی۔ خیال رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے لاہور کی فضا میں بھی سموگ پھیلنے لگی ہے ۔اگر کوئی پاکستانی سائنسدان اس قسم کے آئیڈیا پر کام کرے یا حکومت ڈان روسیگارڈ کے ساتھ مل کر کام کرے تو نہ صرف فضا میں پھیلی آلودگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اس آلودگی سے پیدا ہونے والے ہیروں کے ذریعے زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی اچھا خاصا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں فضائی آلودگی سے بچنے کیلئے دنیا کا سب سے بڑا فلٹر نصب کیا گیا ہے ، یہ انوکھا فلٹر ٹاور ماحول میں پھیلی 75فیصد گردو غبار صاف کر سکتا ہے

اور فلٹر کیے گئے کاربن کے ذرات کو ہیروں میں تبدیل کردیتا ہے۔سموگ فری ٹاور نامی فلٹر 30ہزار کیوبک میٹر ہوا کو دھویںاور بیکٹیریا سے پاک کرکے صاف و شفاف ہوا فراہم کرتا ہے۔ نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈان روسیگارڈنے 7 میٹر اونچا یہ انوکھا فلٹر ٹاور تیارکیا ہے۔منفرد نوعیت کا یہ فلٹر چین کے مختلف شہروں میں بھی نصب کیا جائے گا۔ورلڈ اکنامک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے ڈان روسیگارڈنے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ہفتے کے روز بیجنگ میں اپنے ہوٹل کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو وہ تمام مناظر دیکھ سکتے تھے لیکن بدھ کے روز جب انہوں نے اپنے ہوٹل کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو فضا میں پھیلی سموگ کی وجہ سے کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہیں تھے۔ ’ یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے سوچا کہ ہم نے ماحول کو جیسا بنادیا ہے ویسے ماحول میں کوئی بھی نہیں رہنا چاہتا ، اس ماحول کو کارآمد طریقے سے بچوں اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے صاف ستھرا بنانا ہوگا‘۔ ڈان روسیگارڈ نے بتایا کہ انہوں نے سموگ فری ٹاور کے آئیڈیا پر کام شروع کردیا اور کچھ ہی عرصے میں اس کی تخلیق مکمل کرلی ۔ یہ ٹاور ابتدائی طور پر بیجنگ کے پارکس اور کھیلوں کے میدانوں میں رکھا گیا ہے، جن علاقوں میں یہ ٹاور کام کر رہے ہیں وہاں کی فضا اطراف کے ماحول سے 70 سے 75 فیصد تک زیادہ صاف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں یہ ٹاورز سموگ کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں جس کے بعد دوسرے مرحلے میں یہ سموگ سے حاصل کیے گئے کاربن کے ذرات کو 30 منٹ تک انتہائی پریشر میں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ہیروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ’ بطور ڈیزائنر میں نے یہ سمجھا کہ بیجنگ کی سموگ کو استعمال میں لانا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا بہت ہی دلچسپ ہے، مستقبل قریب میں اسی طرح کے پراجیکٹس کے ذریعے دنیا سے کچرے کا مسئلہ حل ہو جائے گا‘۔واضح رہے کہ قدرتی طور پر ہیرے انتہائی بلند درجہ حرارت اور انتہائی زیادہ دباؤ کے نتیجے میں زمین کی سطح سے 140 تا 190 کلومیٹر نیچے کاربن رکھنے والی معدنیات سے بنتے ہیں۔ قدرتی طریقے سے ہیرا بننے کا عرصہ ایک ارب سے تین اعشاریہ تین ارب سال تک ہوتا ہے۔ آتش فشاں کے پھٹنے کے وقت لاوے کی حرکت سے ہیرے سطح زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔ ہیروں کو مصنوعی طور پر انتہائی بلند درجہ حرارت اور انتہائی زیادہ دباؤ کے تحت بھی بنایا جا سکتا ہے جو اصل عمل کی نقالی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ہیروں کی تخلیق کیلئے دیگر طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈان روسیگارڈ نے بھی اپنے پراجیکٹ میں ہیروں کی مصنوعی تخلیق کے آئیڈیا کو استعمال کیا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی کو فائدہ مند شے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved