اے اللہ! اس آدمی نے تیرے ایک دوست کی شان میں گستاخی کی تواپنی قدرت کا مشاہدہ کروادے
  12  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

عصر سے کچھ پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مدینہ منورہ کے بازاروں میں گھومتے ہوئے احجارالزیت (مقام) پر پہنچے، آپؓ نے یہاں دیکھا کہ کچھ لوگ ایک سوار شخص کے پاس جمع ہیں جو بہت بری اور ناگوار آواز کے ساتھ چیخ رہا ہے اور حضرت علیؓ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔ حضرت سعدؓ نے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟ایک شخص نے کہا کہ یہ آدمی جو اپنی اونٹنی پر سوار ہے، حضرت علیؓ کی شان میں تنقیص کر رہا ہے۔ حضرت سعدؓ طیش میں آ گئے، سارے مجمع کو پیچھے دھکیلتے ہوئے۔آگے بڑھے اور اس سوار سے کہا: اے فلاں! تو حضرت علیؓ کی شان میں تنقیص کیوں کر رہا ہے؟ کیا حضرت علیؓ پہلے مسلمان ہونے والے شخص نہیں ہیں؟

کیا حضرت علیؓ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے رسول کریمؐ کے ساتھ نماز پڑھی؟ کیا حضرت علیؓ سب سے زیادہ زاہد فی الدنیا (دنیا سے بے رغبت) نہیں ہیں؟ کیا حضرت علیؓ سب سے بڑے عالم نہیں ہیں؟ کیا وہ رسول اللہؐ کے داماد نہیں ہیں، حضورؐ نے اپنی بیٹی ان سے نہیں بیاہی تھی؟ کیا حضرت علیؓ غزوات میں رسول اللہؐ کے علم بردار نہیں رہے؟ کیا حضرت علیؓ غزوات میں رسول اللہؐ کے علم بردار نہیں رہے؟ اس کے بعد حضرت سعدؓ قبلہ رخ ہو کر اس آدمی کے خلاف یوں بد دعا کرنے لگے:۔اے اللہ! اس آدمی نے تیرے ایک دوست کی شان میں گستاخی کی ہے، لوگوں کا یہ مجمع اس وقت تک واپس نہ لوٹے جب تک کہ تو ان لوگوں کو اپنی قدرت کا مشاہدہ نہ کرا دے۔۔۔ خدا کی قسم! ابھی لوگ واپس نہیں لوٹے تھے کہ جس اونٹنی پر وہ آدمی سوار تھا اس نے زور دار جھٹکا دیا اور اس کو نیچے پھینک دیا جس سے اس کا سرتن سے جدا ہو کر دور جا گرا اور دماغ پھٹ گیا اور وہیں مر گیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved