ایٹم بم بنانے میں اپنی 15فیصد صلاحیتیں استعمال کرسکا،ڈاکٹر عبدالقدیر خان
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

محسن پاکستان اورخالق ایٹمی بم ڈاکٹر عبدالقدید خان نے انکشاف کیاہے کہ پاکستان نے 1983-84ء ہی ایٹم بم کا دھماکہ کرلینا تھا لیکن اس وقت افغانستان میں جنگ چل رہی تھی اور جنرل ضیاء الحق نے اسے ملتوی کردیا ۔ ڈاکٹرعبدالقدیر نے کہاکہ جب ہندوستان نے 1973ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے ہالینڈسے بلایا اور مجھے کہاکہ ہمیں ہر صورت میں ایٹمی بم بنانا ہے جس پر میں نے کہاکہ کوئی بات نہیں ہم ایٹمی بم بنادیں گے اورہم نے جگہ منتخب کرکے ایٹمی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا لیکن بعض حالات کی وجہ سے یہ منڈیر نہ چڑھ سکااورمیں بھی واپس چلاگیا لیکن جب جنرل ضیاء الحق حکومت میں تھے ایک بار پھر مجھے بلایا گیا اورایٹمی بم بنانے کا کہااورمیں نے پاکستان کی خاطر اپنی کشتیاں جلا کر اپنے بچوں کے ہمراہ آیا تو دیکھا جو میں کام شروع کیا تھا وہ ا سی طرح کا پڑا ہواہے اورکچھ اس جگہ پر گپیں لگا کر وقت کا ضیاع کررہے تھے جس پر مجھے بہت دکھ ہوا ۔انہوں نے کہاکہ جب ضیاء الحق نے مجھے کام سونپا تو میں چند سالوں میں اسے پایا تکمیل تک پہنچادیا اور نگرانی اپنے پاس رکھی لیکن کچھ بیور وکریٹ بھی موجود تھے مجھے معلوم تھا کہ یہ بیوروکریٹ کچھ کریں گے نہیں جسکا مجھے خدشہ تھا ۔وہی ہوا۔

ڈاکٹر قدیر خان نے کہاکہ یہ کام ہوتارہا لیکن انتہائی سستی تھی جس کا مجھے بہت دکھ ہوتا لیکن میں نے کام جاری رکھا اورمیں نے مکمل کرکے ضیاء الحق کی میز پررپورٹ رکھ دی اورکہاکہ آپ جب کہیں گے ایٹمی دھماکہ کردیں گے جس پر جنرل ضیاء الحق بہت حیران ہوئے اور افغان وار کی وجہ سے ہمارا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا ۔لیکن جب ہندوستان نے1998ء میں دوبارہ ایٹمی دھماکہ کیا تو ہم نے بھی اعلان کردیا کہ ہم بھی اپنے ایٹمی دھماکہ کریں گے پوری دنیا میں ہلچل پیدا ہوگی۔اورامریکہ یورپ سمیت دنیا بیشتر ممالک ہمیں ایٹمی دھماکہ نہ کرنے پر زور ہی نہیں بلکہ دھمکیاں بھی ملنے لگی اور ڈالر کا لالچ بھی دیا گیا لیکن ہمیں پاکستانی عوام کا بہت پریشر تھا ہم اسی شش وپنج میں مبتلا تھے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے لیکن سب نے اتفاق کیا پاکستان کو بچانا تو دھماکہ کرنا ہی پڑے گااگر ہم دھماکہ نہ کرتے ہوئے ہندوستان ہمارے شہروں لاہور ،گوجرانوالہ ،گلگت سکردو تک قابض ہوجاتالیکن ہم نے اللہ تعالی کے فضل وکرم سے 28مئی 1998ء میں دھماکہ کردیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہم ایٹمی قوت بننے کے باوجود اس سے استفادہ نہیں کرپائے اگر اس وقت میری تجاویز کو مان لیا ہوتا تو آج ہم لوڈشیڈنگ کے ناسور میں مبتلا نہ ہوتاحکومت نے میری صلاحیتوں کوضائع کردیا حالانکہ میں ایٹم بم بنانے میں اپنی 15فیصد صلاحیتیں استعمال کرسکا ہو ں ۔اگر ملک میں آٹومابائل فیکٹریاں قائم کی جاتی تو آج ہم امریکہ ۔جاپان اوردوسرے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوتے لیکن کرپٹ سیاست دانوں اوربیوروکریٹ ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا ۔اگر بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی زرمبادلہ نہ بھیجیں تو ملک کا دیوالیہ نکل جائے اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی معیشت کو سنبھال رکھا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں نے آج تک حکومت سے کوئی مراعات حاصل نہیں کی اورنہ ہی ایک گز کا پلاٹ نہیں لیا ۔انہوں نے کہاکہ میں تیس سال قبل کویت میں آیا تھا اس وقت بہت گرمی تھی لیکن کویت نے ہمیں جہاں دولت دی وہی انہوں نے گرمی کا بھی تحفہ دیا ہے آج پاکستان میں 52سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہوچکاہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
92%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
8%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved