جس کی لاٹھی اس کی بھینس ،ضیا الحق کے دورمیں یہ مقولہ سچ ثابت ہوگیا
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )جس کی لاٹھی اس کی بھینس یہ مقولہ پاکستان کے سابق آرمی چیف اورصدرجنرل ضیا الحق پربالکل فٹ آتاہے۔ایک شخص جوکہ کرایہ دارتھااس نے جنرل صاحب کے مکان پرقبضہ کرلیا۔عدالت بھی جنرل ضیاالحق کوانصاف فراہم نہ کرسکی ضیا الحق ترقی کر تے کرتے جنرل بن گئے اورفوج کی کمان سنبھال لی توکرایہ دارخودہی ان کے سامنے پیش ہوگیا۔ معافی مانگ کر گھر کی چابیاں سپرد کردیں۔ پاکستان کے 10 سال سےزائدعرصہ تک پاکستان کے صدررہنے والے جنرل ضیا الحق کے والدجالندھرمیں امام مسجدتھے ، 1947ءمیں ضیاءالحق اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے ، جس کے بعد حکومت پاکستان نے

ان کے خاندان کو پشاور میں ایک گھر الاٹ کیا ، خاطر خواہ آمدن نہ ہونے کی وجہ سے ضیاءکے والد نے گھر کا ایک حصہ کرائے پر دے دیا، مگرکرائے دار نے 1950میں اس گھر پر قبضہ جمالیااور کرایہ وغیرہ دینے سے مکر گیا، ضیاءالحق کے والد علاقہ معززین کے پاس گئے اور ثالثی کاوشوں کے ذریعے مکان کا قبضہ چھڑانے کی کوشش بھی کی لیکن کوئی کاوش کامیاب نہ ہوسکی ، بالآخر جنرل ضیاءالحق کے والد نے انصاف کیلئے اپنے کرایہ دار کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا، عدالت میں مقدمہ چلنا شروع ہوا ، سالوں کے سال بیتتے چلے گئے اوراسی دوران ضیاءالحق آرمی میں بھرتی ہوگئے ، بریگیڈیئرسے میجر جنرل ، لیفٹینٹ جنرل اور آرمی چیف جنرل ضیاءالحق ہوگئے لیکن ان کے مکان کے مقدمے کا فیصلہ نہ ہوسکا، جب وہ صدر بنے تو ایک دن وہی شخص جس نے قبضہ کررکھا تھا، جنرل ضیاءالحق کے پاس ان کے دفتر آیا اور چابی حوالے کرتے ہوئے معافی مانگ کر التجا کی کہ مقدمہ واپس لیا جائے اور عدالت میں جا کر ضیاءکے حق میں بیان دیدیا، یوں یہ مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا“۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved