چلاس،دیامر میں شٹرڈاون ہڑتال ناکام ،چلاس ،داریل تانگیر اور گونر فام میں تاجروں نے ٹیکس کے خلاف احتجاج کی کال کو مسترد کر دیا
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

چلاس(بیورورپورٹ) دیامر میں شٹرڈاون ہڑتال ناکام ،چلاس ،داریل تانگیر اور گونر فام میں تاجروں نے ٹیکس کے خلاف احتجاج کی کال کو مسترد کر دیا،مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی رہی ،اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی معمول کے مطابق چلتا رہا۔چلاس ڈاکخانہ روڈ ،مین بازار،ریسٹ ہاوس ایریا ،نیاٹ مارکیٹ ،پرانا بازار ،شاہین گاوں اور کے کے ایچ کے اطراف میں تمام دکانیں اور مارکٹیں مکمل کھلی رہی اوردن بھر کاروبارزندگی بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں رہا ،

جبکہ چلاس سے گلگت ،داریل تانگیر ،تھک،نیاٹ ،اور گوہر آباد کو ٹرانسپورٹ سروس بھی بلا تاخر جاری و ساری رہی ۔چلاس میں میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تاجر برادری محمد اکرم،نوید اقبال،وحید،جمعہ خان،سعید ،محمد عالم،محفوظ اللہ جمال خان،و دیگر نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس کا ایشو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کی وجہ سے آج تمام تاجران نے کسی بھی جماعت کے احتجاج میں شرکت نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں چلاس میں تاجروں کو استعمال کرکے حکومت کے خلاف احتجاج پر اُکسا رہی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ چلاس میں چند عناصر ریاست کی رٹ کو چلنج کررہے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے تاجروں کا کاندھا استعمال کررہے ہیں، ہم کبھی بھی ایسے عناصر کے نرغے میں آئیں گے نہ ایسی تحریکوں کا حصہ بنیں گے ۔تاجروں نے چلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی تحریک کو ملک دشمن عناصر کی کارروائی قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ دیامر کے سیاسی جماعتوں کے کارندے تاجروں پر دکانیں بند کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں ،جبکہ ضلعی انتظامیہ خاموش ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم دیامر میں اپنا کاروبار چلاکر اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہم پر دباو ڈال رہے ہیں جو کہ ظلم ہے اور ہمارے کاروبار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی احتجاج میں تاجر شرکت نہیں کریں گے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved