’’جھوٹی ماں ‘‘ مس ایڈسن کی کند ذہنی کی وجہ سے اسے سکول سے نکال دینے کا خط اس کے گھر بھیجا گیا تو تھامس کی ماں نے اپنے بیٹے سے کیا تاریخی بات ک
  4  دسمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک دن تھامس سکول سے گھر لوٹا تو اس کے ہاتھ میں ٹیچر کا لیٹر تھا۔ اس نے بولا کہ ماما یہ میری مس نے دیا ہے اور بولا ہے کہ صرف اپنی ماں کو دکھانا ہے۔ اس کی ماں نے خط کھولا اور پڑھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے خط تھامس کو پڑھ کر سنایا: آپ کا بیٹا تھامس بہت زیادہ ذہین ہے اور یہ سکول اس کے لیے بہت چھوٹا ہے۔ یہاں کے ٹیچرز اس کی تربیت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں ہیں۔ پلیز آپ اپنے بیٹے کو خود ہی گھر پر پڑھائیں۔ تھامس ایڈیسن اپنی صدی کے سب سے بڑے اور نامور سائنسدانوں میں سے ایک تھا اور اس کی ایجادات میں ایک جو ہم دن رات استعمال کرتے ہیں وہ ہے لائٹ بلب۔ اپنی ماں کی وفات کے کچھ کے کچھ سالوں کے بعد تھامس پوری دنیا میں مقبول ہو گیا لیکن اس کو ماں بہت یاد آتی تھی۔ ایک دن گھر میں بیٹھا تھا کہ ماں کا خیا ل آیا تو اس نے الماری کھولی اور وہ خط نکالا، پڑھا۔۔۔اس کی نرسری کی مس نے لکا تھا:محترمہ آپ کا بیٹا پاگل ہے، اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے، ہم اس کو اس سکول میں نہیں پڑھا سکتے۔ یہ خط آپ کو مطلع کرنے کے لیے ہے کہ اس کو سکول سے خارج کر دیا گیا ہے۔ تھامس نے خط پڑھا اور رو پڑا۔ اس نے اپنی ڈائری کھولی اور اس میں تحریر کیا: تھامس ایلوا ایڈسن ایک پاگل بچہ تھا جس کی ماں نے اسے صدی کا سب سے بڑا جینئس بنا دیا۔ تھامس ایڈسن کی مس نے بولا کہ وہ پاگل تھا، سکول والوں نے اسے سکول سے نکال دیا۔اس نے جو میڈل جیتے ان میں سے کچھ ہیں: فرینکلن میڈل، ایلبرٹ میڈل، ٹیکنکل گریمی ایوارڈ، کانگریشنل گولڈ میڈل، گریمی ٹرسٹیز ایوارڈ، رمفرد پرائیز اور دیگر بہت سے انعمات اور تمغے۔

وہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کا ممبر بنا اور حقیقت میں اپنی صدی کا سب سے بڑا سائنس دان تھا۔اس کی ڈائری نے لوگوں پر یہ حقیقت عیاں کی کہ عام دنیا کس طرح اس کی ذہانت سے بے خبر تھی۔ عام لوگ ایک خاص حد تک سوچ سکتے ہین، اس سے آگے کی بات ان کی موٹی عقل میں نہیں جا سکتی اور ہر جینیس کو دنیا نے ہمیشہ پاگل ٹھہرایا ہے کیونکہ وہ مختلف ہوتا ہے اور باقیوں کا راستہ نہیں اپناتا۔ وہ بظاہر باقیوں سے بلکل الگ اور نالائق ہوتا ہے لیکن کسی ہیرے کی پہچان صرف جوہری کو ہوتی ہے۔ تھامس کی ماں کی حوصلہ افزائی نے اس کے اتنے ذہین دماغ کو برباد ہونے سے بچا لیا۔ لوگوں کی رائے نظر کا دھوکہ ہے اس لیے ان سے تعریف بٹورنے کی کوشش وقت کا ضیاع ہے۔ جو کسی قابل ہوتا ہے، یسے دنیا اور لوگ نہیں وقت ثابت کرتا ہے۔ معمولی کیڑے بھلا کس طرح بتا سکتے ہیں کہ اگر ایک کیڑا مختلف ہے تو وہ پاگل ہے یا جینئس؟ آج کوئی بھی ماضی کا تھامس ایڈسن کا پنا کھول کر بتا سکتا ہے کہ وہ بہت ذہین تھا اور اس کی مس پاگل۔ لیکن ان دنوں میں جا کر کوئی بھی تھامس کا خط پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ لڑکا کبھی بھی کسی بھی قابل ہو سکتا ہے۔ اس کہانی کو پڑھنے والے کروڑوں سکول کے پڑھے لکھے لوگ نام دیکھتے ہی سمجھ گئے تھے کہ او اچھا یہ تو تھامس ایڈسن کی کہانی ہے، آدھے لوگوں نے تو یہ کہانی کھولی ہی اس لیے ہے کہ تھامس ایڈسن کا نام پڑھا ہے۔ وہ مر چکا ہے اور ہر چھٹی جماعت کا بچہ اپنی ایلیمنٹری سائنس بک میں اس کی تھیوری یاد کر کے ہی امتحان پاس کر سکتا ہے۔ وہ جو سکول سے نکالا گیا آج پوری دنیا کے سکولوں کے نصاب کا حصہ ہے۔ کیوں جی؟۔۔۔کیا وہ پاگل تھا؟۔۔۔ایسے دو چار پاگل اور پیدا ہو گئے تو یہ دنیا تو ترقی کی ان راہوں پر گامزن ہو جائے گی کہ کسی کی سوچ بھی نہ پہنچ سکے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved