بادشاہ ،ہاتھی اورسوئی
  5  دسمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک بادشاہ کے یہاں بیٹا نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے وزیر سے کہا‘ بھئی کبھی اپنے بیٹے کولے آنا‘ اگلے دن وزیر اپنے بیٹے کو لے کر آیا‘ بادشاہ نے اسے دیکھا اور پیار کرنے لگا‘ بادشاہ نے کہا اچھا بچے کو آج کے بعد رونے مت دینا‘ اس نے کہا‘ بادشاہ سلامت! اس کی ہر بات کیسے پوری کی جائے‘ بادشاہ نے کہا اس میں کونسی بات ہے؟ میں سب کو کہہ دیتا ہوں کہ بچے کو جس جس چیز کی ضرورت ہو اسے پورا کر دیا جائے اور اسے رونے نہ دیا جائے۔ وزیر نے کہا ٹھیک ہے جی! آپ اس بچے سے پوچھیں کہ کیا چاہتا ہے؟ چنانچہ اس نےایک آدمی کو حکم دیا کہ ہاتھی لا کر بچے کو دکھاؤ وہ ہاتھی لے کر آیا‘

بچہ تھوڑی دیر کھیلتا رہا لیکن بعد میں پھر رونا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے پوچھا اب کیوں رو رہے ہو؟ اس نے سوئی کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا تھوڑی دیر کے بعد اس بچے نے پھر رونا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے کہا ارے اب تو کیوں رو رہا ہے؟ وہ کہنے لگا‘ جی اس ہاتھی کو سوئی کے سوراخ میں سے گزاریں۔ جس طرح بچے کی ہر خواہش پوری نہیں کی جا سکتی اسی طرح نفس کی بھی ہر خواہش پوری نہیں کی جا سکتی لہذا سوال پیدا ہوتا ہے اس کا کوئی علاج ہونا چاہئے اس کا علاج یہ ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے اور اصلاح کا بہترین و مجرب طریقہ صحبت شیخ ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
13%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved