ایک دن ملانصیردعامانگ رہاتھایااللہ اگرمجھے ایک ہزاراشرفیاں دے دے ۔۔۔۔توملاکیادیکھتاہے کہ اس کے صحن میں نوسوننانوے اشرفیاں گرتی ہیں
  5  دسمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ملا نصیر الدین کے نام سے ہر کوئی واقف ہے اور اسکے قصے اس وقت بھی عوام میں بڑے مقبول ہیں کہا جاتا ہے ملا نصیر الدین بہت عالم و فاضل شخص تھا لیکن اصلاح کیلئے بیووقوف بنارہتا تھا۔ ملا کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا ، اس یہودی کے گھر پر مال ودولت کی فروانی تھی لیکن اسکے باوجود یہ انتہائی کنجوس تھا ۔ ملا نے اسکو کئی مرتبہ سمجھایا اپنی دولت غریبوں اور ناداروں پر خرچ کیا کرو لیکن یہ کسی غریب یا محتاج کی مدد نہیں کرتا۔ اور اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہیں سنی۔ تو ملا نصیر الدین نے اس یہودی کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ ایک دن ملا نصیر الدین نے صبح صبح تیز آواز میں دعا مانگنی شروع کردی۔ یا اللہ اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیاں مجھے دے دے تو ان کو غریبوں میں تقسیم کردوں گا لیکن اگر ان اشرفیوں میں ایک بھی کم ہوئی تو میں اس کو ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ یہودی بھی ملا کی دعا سن رہا تھا۔ اس نے سوچا ملا بڑا ایماندار بنتا ہے، یہ موقعہ اسکی ایمانداری آزمانے کا بہترین ہے۔ یہودی نے ایک تھیلی میں نوسو ننانے اشرفیاں بھریں اور ملا نصیر الدین کے صحن میں پھینک دیں۔ تو ملا نصیر الدین نے فورا وہ تھیلی اٹھالی اور اشرفیاں گننے کے بعد کہنے لگا یا اللہ تیرا شکر ہے اگر اس میں ایک اشرفی کم ہے تو کوئی بات نہیں یہ ایک اشرفی کسی اور دن مجھ کو دے دینا۔

یہودی ملا کے ارادے کو تبدیل ہوتے دیکھ کر بہت پریشان ہوا۔ اور سوچا کہ یہ ملا تو بہت چالاک ہے اس نے دھوکے سے میری اشرفیاں ہتھیا لی ہیں۔ وہ ملا کے پاس فوری بھاگا بھاگا آیا اور بولا تم تو کہتے تھے ایک ہزار میں سے ایک بھی اشرفی کم ہوگی تو قبول نہیں کرو گے۔ لیکن تم نے نوسو ننانوے اشرفیاں میری ہتھیا لی ہیں۔ تو ملا نے اس کو کہا تم کہاں سے بیچ میں آگئے یہ تو مجھ کو میرے خدا نے دی ہیں اور یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے تم اپنا کام کرو۔ یہودی سیدھا قاضی کے پاس گیا اور اس نے ملا پر فوری مقدمہ دائر کردیا، قاضی نے کہا ملا کو بلاو ہم بھی فیصلہ کرتے ہیں۔ یہودی نے ملا نصیر الدین کو بتایا قاضی تمہیں بلارہے ہیں، تو ملا نصیر الدین نے کہا ایک شرط پر میں جانے کیلئے تیار ہوں میرا لباس پھٹا پرانا ہے اور اگر تم مجھے اچھا لباس لاکر دے دو تو میں چلتا ہوں یہودی نے ملا کی شرط منظور کرلی۔ پھر ملا نے کہا میں یہ کپڑے پہن کر پیدل قاضی کے پاس جاوں گا تو برا لگے گا اس لئے اگر تم مجھے اپنا گھوڑا بھی سواری کیلئے دو گے تو جاوں گا۔ یہودی نے ملا کی یہ شرط بھی مان گیا۔ جب ملا نصیر الدین قاضی کے دربار میں پہنچا تو قاضی نے دیکھا کہ ملا نہایت شان و شوکت سے آیا ہے جبکہ یہودی کی حالت ابتر ہے اور وہ پیدل ہونے کے ساتھ اسکے کپڑے بھی پرانے ہیں۔ پھر یہودی نے سارا ماجرا دوبارہ قاضی کا سنایا تو قاضی نے ملا نصیر الدین سے پوچھا تمہارا کیا جواب ہے۔ ملا نے کہا یہ یہودی میرا پڑوسی ہے اور ابھی کچھ دیر میں کہے گا یہ کپڑے جو میں نے پہنے ہوئے ہیں یہ بھی اسکے ہیں تو یہودی نے کہا یہ کپڑے اسکے ہی ہیں۔ پھر ملا نے کہا اب یہ کہے گا کہ گھوڑا بھی اسہی کا ہے تو یہودی غصے سے چینخا کہ یہ گھوڑا بھی اسہی کا ہےاور ملا نے اس گھوڑے کو سواری کیلئے مانگا تھا۔ قاضی نے یہ باتیں سنیں تو یہودی کو ڈانٹ پھٹکار کر مقدمہ خارج کردیا۔ یہودی رو پیٹ کر گھر پہنچا اور ملا کی منت و سماجت کی تو ملا نے اس شرط پر اسکی اشرفیاں واپس کردی کہ وہ ان میں سے آدھی غریبوں میں بانٹ دےگا اور آئندہ بھی نادار لوگوں کی مدد کرتا رہیگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved