قیام پاکستان سے قبل ریڈیو سٹیشنز میں کیا شرمناک کام ہوا کرتا تھا ؟ ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کے آنکھوں دیکھے تہلکہ خی
  5  دسمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) قیام پاکستان سے پہلے جہاں جہاں ریڈیو اسٹیشن قائم تھے،انگریزوں اور ہندوؤں کا سکہ چلتا تھا،حتٰی کہ مسلم اکثریتی کلکتہ میں بھی یہ عالم تھا۔ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے متحدہ ہندوستان کے دوران کئی اسٹیشنز پر ریڈیو کی ملازمت کی اور وہاں کے حالات کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی ”سرگزشت“ میں ریڈیو کلکتہ میں ہونے والی خرافات کا ذکربڑی آہ زاری سے کیاتھا۔ یہ تماش بینی کا مرکز تھا جہاں بدکاری عام تھی اور ایسے پروگرام پیش کئے جاتے تھے کہ کلکتہ کے مسلمانوں کو اپنی زبان اور عقائید بھول گئے تھے۔انگریز افسروں اورفنکاروں کے ریڈیو پروگرام شراب اور شباب کے بغیر پورے نہیں ہوتے تھے، انگریزوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بدنظمی کے خلاف تھے لیکن کلکتہ ریڈیو اسٹیشن میں ہر طرح کی مادر پدر آزادی اور مالی بد عنوانی کی اجازت تھے۔زیڈ اے بخاری لکھتے ہیں ”ان دنوں کلکتہ کا ریڈیو گاسٹن پلیس کے انتہائی گندے اور تاریک مکان میں داد عشرت کا مرکز بنا ہوا تھا۔اسٹیشن ڈائریکٹر ایک انگریز تھا۔وہ الگ ہوا تو مجھے اسکی سیٹ ملی ۔ یہ انگریز رہتا ہندوستان میں تھا، ہندوستان سے قطعی نا آشنا اور ہندوستانیوں سے بدرجہ اتم متنفر تھا۔ ریڈیو سٹیشن کی عمارت کی دو منزلیں تھیں۔ اس کی اوپر کی منزل انگریزی پروگراموں کیلئے مخصوص تھی۔ یہاں تک کہ انگریزی پروگراموں کے دوران میں سوائے انجینئر کے کسی کالے آدمی کو اوپر جانے کی اجازت نہ تھی۔ انگریز اناؤنسر پروڈیوسر انگریز ایکٹر ، انگریز گویئے، انگریز سازندے، کالا آدمی انجینئر صرف کنٹرول روم میں بیٹھا تھا۔ اس کو باہر نکل کر گوروں کے ساتھ خلط ملط ہونے کی اجازت نہ تھی۔انگریز کوئی کام بغیر شراب کے نہیں کر سکتاتھا۔ چنانچہ پروگرام کے دوران میں شراب کی بوتلیں کھلتی تھیں اور صاحب لوگ اور میم صاحب سیر ہو کر پیتے تھے۔ کالا انجینئر صرف کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھتا رہتا تھا یعنی ” آنکھیں میری باقی ان کا “کنٹرول روم کے ساتھ ایک وسیع سٹوڈیو تھا جہاں یہ انگریز دھما چوکڑی مچایا کرتے تھے۔ اس سٹوڈیو میں ایک دری بچھی تھی۔ مائیکرو فون کا تاردری کے نیچے بچھایا گیا تھا اور دری کے ایک سوراخ میں سے اس کا سرا باہر نکلتا تھا۔ میں نے دری کو دیکھا سو پوچھا کہ یہ دری جب سے آئی ہے باہر نکال کرکبھی صاف بھی ہوئی ہے یا نہیں؟ جواب ملا نہیں ، وجہ صاف نہ کرنے کی یہ کہ مائیکرو فون سے تار کو الگ کرنا اور اسے دری کے نیچے سے نکالنا پھر دری کو اٹھانا ذرا لمبی بات ہے۔

اس لئے صرف اوپر اوپر سے تو دری صاف ہو جاتی ہے اسے اٹھا کر جھٹکنے کی کبھی نوبت ہی نہیں آئی۔ میں نے کہا ”ایسی بھی کیا سستی ،مائیکرو فون کے تار کھو لو، باہر نکال دری اٹھاؤ اور باہر لے جا کر جھٹکو“ اب جو دری اٹھائی گئی تو شرم کے مارے ہم سب کی آنکھیں جھک گئیں۔ دری کے نیچے سے ضبط تولید کے مختلف فرسودہ سامان نکلے، یہ تھی کلکتے کے انگریز کی انگریزیت ، یقین مانئے کہ انگلستان میں اس قدر بے ہودگی اور بے حیائی کہیں دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ بے راہ روی صرف ہندوستانی انگریزوں کا حصہ تھی۔ تعجب مجھے اس بات پر ہوا کہ دفتر میں کام کرنے والے دیسی لوگ انگریزوں سے دبتے تھے۔ دبتے کیا تھے انگریز کے نام سے کانپتے تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر میں تاڑ گیا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کلکتے ریڈیو کے ڈائریکٹر آف پروگرامز ایک صاحب موجمدار نامی تھے۔ انگریز سٹیشن ڈائریکٹر نے تمام دیسی پروگرام اس موجمدار کے سپرد کر رکھے تھے۔ یہ موجمدار سیاہ سفید کا مالک تھا، جس کو چاہے پروگرام دے۔ پروگرام کی فیس بھی یہی شخص مقرر کرتا تھا۔ انگریز اسٹیشن ڈائریکٹر نے کہہ رکھا تھا کہ سال بھر میں اتنی رقم تمہیں دیسی پروگرام کیلئے ملے گی، اب تم جانو اور تمہارا دیسی پروگرام۔ اس شخص موجمدار نے اپنے اقتدار کے بل پر رشوت کا بازار گرم کر رکھا تھا اور عجیب عجیب ڈھنگ رشوت وصول کرنے کے بل پر اختراع کیا کرتا تھا۔ یہ شخص ہفتہ میں ایک ڈرامہ کیا کر تا تھا۔ تین گھنٹے کا۔ اس ڈرامے میں کردار کوئی پچاس ہوا کرتے تھے۔ ایک شخص آواز لگا رہا ہے ، سبزی لے لو سبزی۔ یہ کردار وہ شخص ادا کرتا تھا جس کے یہاں سے موجمدار کے گھر سبزی آیا کرتی تھی۔ ایک شخص آواز لگایا کرتا تھامچھلی لے لو مچھلی ، اس کی دکان سے موجمدار کے گھر مچھلی آیا کرتی تھی۔ ایک شخص آکر کہتا تھا، چلئے حضور کھانا حاضرہے، یہ موجمدار کے گھرکا ملازم تھا۔ غرض یہ کہ موجمدار وہ اندھا تھا جو اپنوں میں ریوڑیاں بانٹا کرتا تھا۔ یہ شخص تنخواہ قلیل پاتا تھا مگر ”ھذا من فضل ربی “ دو مکان کلکتے جیسے شہر میں بنوارکھے تھے۔ اب یہ شخص انگریز سے نہ دبتا تو اور کون دبتا۔ عملہ میں کوئی مسلمان نہ تھا ، سب ہندو تھے ، پروگرام کے فنکار بھی سب ہندو تھے۔ ریڈیو سے آداب عرض وغیرہ نہیں بلکہ نمسکار کہا جاتا تھا، یہ تھی اس صوبے کی حالت جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ اس نمسکار پر میرا جی بہت کڑھا۔ دل نے کہا اگر نمسکار درست ہے تو السلام علیکم کو کیوں نادرست قرار دیا گیا۔ اب میں سرکاری ملازم، پٹیل وزارت نشریات کا وزیر، میں کرتا تو کیا کرتا۔ ترکیب میں نے یہ سوچی کہ مسلمان اخباروں سے مطالبہ کرایا جائے کہ نمسکار کے ساتھ اناؤنسر السلام علیکم بھی کہا کرے۔ یہ مطالبہ جب اخباروں میں چھپ جائے تو سرکار دہلی کو اس مطالبہ کی تائید میں خط لکھا جائے، پھر جو ہو سو ہو۔ میں ایک مسلمان اخبار نویس سے ملا، تمام معاملہ اس کو سمجھایا اور درخواست کی کہ اس نمسکار اور السلام علیکم کے مسئلے پر ایک آدھ مضمون لکھ دے۔ میری تجویز سن کر اس شخص نے جو کچھ کہا مجھے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
83%
ٹھیک ہے
17%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved