ہندوستان پرایک قبرحکومت کرتی ہے۔۔وہ قبر کس کی ہے ؟ ایسی معلومات جو آپ کو حیرت کے سمندر میں ڈبو دیں گی
  7  دسمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو اس دنیا سے رخصت ہوئے قریباً آٹھ سوسال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن آپ کا آستانہ اور درگاہِ معلا آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ جہاں دنیا بھر کے امیر و غریب اور سربراہانِ مملکت حاضری دے کر روحانی سکون اور فیض حاصل کرتے ہیں۔ ذیل میں آپ کی بارگاہ میں سلاطین، وزرا اور مشہور شخصیات نے جو خراجِ عقیدت پیش کیا ہےان میں سے چند ایک نقل کیے جاتے ہیں۔ ٭ ۱۵۴۴ء میں جب شیر شاہ سوری نے مارواڑی راجا بلدیو کو شکست دی تو وہ اجمیر آیا اور حضرت خواجہ کے آستانے کی زیارت کی جب وہ تارا گڑھ پہنچا جہاں پانی کی قلت تھی تو اس نے چشمۂ بی بی حافظہ جمال سے تارا گڑھ کے اونچے پہاڑ پر پانی پہنچانے کا انتظام کروایا اور چشمہ کا نام’’سیر چشمہ نام’’سیر چشمہ ‘‘ رکھا۔ ٭ مغل بادشاہ اکبر نے تقریباً ۱۲؍ مرتبہ اجمیر کی زیارت کی اور کئی بار اس نے فتح پور سیکری سے پیدل اجمیر کا سفر کیا اس نے ایک ان دار مسجد اور نئی عمارتوں کے علاوہ ۱۵۶۷ء میں بڑی دیگ کی تعمیر بھی کروائی جس میں سو من چاول پکتے ہیں۔ ٭ نورالدین جہاں گیر تخت نشین ہونے کے آٹھویں سال ۱۰۲۲ھ میں اجمیر آیا جب شہر اجمیر کے آثار نظر آنے لگے تو وہ پیدل درگاہ شریف تک پہنچا ۱۰۲۵ھ میں اس نے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ کی لاگت سے ایک طلائی محجر بنایا جو اب موجود نہیں ہے چھوٹی دیگ بھی بنوائی جس میں اسی من چاول پکتا ہے۔٭ شاہِ جہاں نے اپنے ۲۱ سالہ دورِ حکومت میں ۵؍ بار حاضری دی اور روضۂ مبارک سے لگ کر سنگ مرمر کی عالیشان مسجد تعمیر کروائی۔ مسجد کی تعمیر پر اس زمانے میں دو لاکھ چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے۔٭ شاہِ جہاں کی لاڈلی بیٹی جہاں آرا بیگم کو حضر ت خواجہ سے عشق کی حد تک لگاؤ تھاوہ رمضان ۱۰۵۳ھ میں اپنے باپ کے ساتھ اجمیر آئی جہاں آرا نے ایک دالان تعمیر کروایا جو ’’بیگمی دالان ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

اس نے سلسلۂ چشتیہ کے مشہور بزرگوں کے تذکرے پر مبنی ایک کتاب ’’مونس الارواح‘‘ کے نام سے لکھی جس سے جہاں آرا بیگم کے علمی ذوق اور تصوف و معرفت کے علاوہ حضرت خواجہ سے گہری عقیدت و محبت کا پتا چلتا ہے۔٭ شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر بھی متعدد مرتبہ اجمیر حاضر ہوئے ان کا معمول تھا کہ وہ اپنی قیام گاہ سے پیدل درگاہ تک آتے تھے۔ اورنگ زیب نے سلطان محمود کی بنوائی ہوئی مسجد کی توسیع کی۔ ٭ ۱۶؍ اکتوبر کو والیِ حیدرآباد دکن میر عثمان علی خاں اجمیر آئے اور ایک گیٹ تعمیر کرایا جسے ’نظام گیٹ ‘کہا جاتا ہے۔ اس کی بلندی ۷۰ فٹ اور چوڑائی ۱۶؍ فٹ ہے۔٭ مہاراج گوبند سنگھ نے بھی یہاں حاضری دی اور اپنی کامیابی کی دعا مانگی اور با مراد ہوئے۔٭ لارڈ کرزن سابق وائسرائے ہند نے انگریزی دورِ حکومت میں اجمیر آیا اور اپنے تاثرات کا یوں اظہار کیا کہ : ’’میں نے دیکھا کہ ہندوستان میں ایک قبر حکومت کر رہی ہے۔‘‘ ٭ گاندھی جی نے دربارِ خواجہ میں حاضری کے وقت کہا کہ:’’ یہاں آ کر میری روح کو بڑا چین ملا ہے افسوس خواجہ صاحب کی زندگی کو آدرش نہیں بنایا گیا انھوں نے روح کی روشنی کو باقی رکھنے کے لیے جو پیغام دیا اسے کوئی نہیں سنتا۔ انھوں نے سچائی کے ہتھیاروں سے لوگوں کا دل جیت لیا ان کی زندگی عدم تشدد کا صاف مظہر تھی۔‘‘ ٭ ڈاکٹر راجندر پرشاد سابق صدر جمہوریۂ ہند نے کہا :’’ خواجہ کی زندگی روشنی کا مینار ہ تھی جس نے دور دور تک اجالا پھیلا دیا یہ روشنی دلوں میں اس طرح اتر گئی اور پوری دنیا کو جگمگا دیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔‘‘ ٭ پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا :’’ ایسے ہی مقدس مقامات سے ہندو مسلم اتحاد کا عملی درس لیا جاسکتا ہے۔ ٭ اچاریہ ونوبا بھاوےنے کہا:’’ یہ سب سے بڑی محرومی ہو گی کہ ہم اتنی بڑی روحانی شخصیت کی قابلِ تقلید تعلیمات سے فیض یاب نہ ہوسکیں جو اس وقت بھی انسانی ذہن میں خوش گوار انقلاب لاسکتی ہے۔‘‘ ٭ راجیو گاندھی نے ۲؍ مئی ۱۹۹۱ء کو اجمیر میں حاضری کے وقت کہا کہ :’’اجمیر میں درگاہِ غریب نواز پر آ کر میں نے قلبی سکون محسوس کیا ہے۔ان بادشاہوں اور سربراہانِ مملکت کے علاوہ ڈاکٹر ذاکر حسین، اندرا گاندھی، چندر شیکھر، گیانی ذیل سنگھ، واجپائی، وی پی سنگھ، جنرل ارشاد، بے نظیر بھٹو، ٹینکو عبدالرحمان، جنرل پرویز مشرف اور بہت ساری مشہور و معروف شخصیات نے اجمیر میں حاضری دے کر قلبی سکون کی لذت حاصل کی۔ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت خواجہ کی تعلیمات کو اپنائیں یہی ان کی بارگاہ میں سچا خراجِ عقیدت ہو گا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
93%
ٹھیک ہے
2%
کوئی رائے نہیں
2%
پسند ںہیں آئی
3%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved