اسحاق ڈار کی دبئی میں موجود تمام پراپرٹیز اور ٹاورز پر لفظ HDS کیوں لکھا ہوا ہے؟ جب ایک مشہور سیاستدان نے اسحاق ڈار سے HDS کے بارے میں پوچھا تو کی
  2  جنوری‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

مشہور صحافی مظہر برلاس نےچند سال پہلے پاکستان کے ایک سابق وفاقی وزیر اور ایک حالیہ بیمار وزیر دوبئی جانے کےلئے طیارے میں اتفاقاً ہم سفر بن گئے۔ خوب گپ شپ رہی۔ اس دوران بیمار وزیر یعنی اسحاق ڈار، سابق وفاقی وزیر اور منجھے ہوئے سیاستدان مخدوم فیصل صالح حیات سے کہنے لگے کہ ’’میرا دبئی میں شاندار کاروبار ہے۔ آپ ہمارے گھر لازمی تشریف لائیں، کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔‘‘جھنگ کے سیدزادے نے دعوت قبول کرلی۔ اس کھانے کی میز پر اسحاق ڈار، ان کے صاحبزادے اور بہو (میاں نواز شریف کی بیٹی) بھی موجود تھے۔ اسحاق ڈار کے شاندار اور مہنگے گھر میں مخدوم فیصل صالح حیات پوچھنے لگے کہ ’’یہ جو آپ کے ہر ٹاور پر لکھا ہوا ہے “HDS” ایچ ڈی ایس، یہ کیا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘ اس پر پاکستان کو قرضوں تلے ڈبونے والے اسحاق ڈار بولے ’’اس کا مطلب ہے حضور داتا صاحب‘‘ مخدوم فیصل صالح حیات نے دو لمحوں کے لئے سوچا کہ یہ اسحاق ڈار کا گھر ہے۔ مجھے یہ بات کہنی چاہئے یا نہیں۔ پھر اندر سے آواز آئی نہیں جو سچ ہے منہ پر کہہ دینا چاہئے۔ دو لمحوں کے بعد فیصل صالح حیات نے کہا ’’ڈار صاحب! اتنے ٹاورز، اتنا کچھ حلال سے نہیں بنتاآپ نے کیسے بنا لیا۔‘‘ یہ واقعہ لکھنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے خاندانوں کے ہاں حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں۔ اب دوسرا واقعہ سن لیجئے۔

اسلام آباد میں اہل قلم کانفرنس کے مندوبین کو ڈاکٹر انعام الحق جاویدنے عشائیہ دے رکھا تھا۔ مجھے کھانے سے اٹھا کر میرے محترم عطا الحق قاسمی ایک کونے پر لے گئے اور کہنے لگے کہ ’’میں گورنر پنجاب بن رہا ہوں۔‘‘ میں نے عرض کیا ’’نہیں۔ آپ کو پہلے بھی انہوں نے کہا تھا مگر پھر چوہدری سرور کو گورنر بنا دیا۔ آپ کے بہت سے اہل قلم ساتھیوں نے لکھا بھی تھا۔ ‘‘ میری اس عرضداشت پر قاسمی صاحب بولے ’’نہیں۔ اس مرتبہ مجھے نواز شریف نے خود کہا ہے۔‘‘میں نے پھر سے عرض کیا کہ ’’نہیں قاسمی صاحب! ہمارے حکمران طبقے کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔ وہ آپ کو گورنر نہیں بنا رہے بلکہ جنوبی پنجاب سے ایک ایسی شخصیت کو گورنر بنا رہے ہیں جس کی اپنی زیادہ حیثیت نہ ہو۔‘‘ یہ واقعہ اس بات کی ترجمانی کررہا ہے کہ ہمارے حکمران سادہ اور معصوم قلم کاروں کے ساتھ کس طرح جھوٹ بولتے ہیں۔ اب آجایئے مسلمانوں کے انفرادی کردار کی طرف جسے درست کئے بغیر مسلمان پستی سے نہیں نکل سکتے۔ اگر مسلمانوں نے 2018میں ترقی کا سفر شروع کرنا ہے تو پھر انہیں انفرادی طور پر اپنے کردار کی بلندی پر توجہ دینا ہوگی۔ انہیں جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، ناانصافی، چکربازی جیسے کام چھوڑنا ہوں گے۔مسلمانوں کواپنے اوپر توجہ دینا ہوگی۔ پتا نہیں مسلمان ملکوں میں راتوں کو جاگنے کارواج کہاں سے آگیا ہے حالانکہ مغربی ملکو ںسمیت چین میں لوگ جلدی سوتے اور جلدی بیدار ہوتے ہیں۔ اصل میں یہ کام مسلمانوں کا تھا مگر مسلمان یہ طرز ِ زندگی بھول چکے ہیں حالانکہ مسلمانوں کے نبی حضرت محمدﷺ کے واضح احکامات میں جلدی سونے اور جلدی اٹھنے میں حکمت ہے۔ مگر اب مسلمان ملکوں میں لوگ دیرسےاٹھتے ہیں جس کا ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں مسلمانوں کو اپنا کردار بدلنا ہوگا۔ انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئےکہ ان کا مذہب اعلیٰ کردار ہی کے باعث پھیلا تھا۔ مسلمانوں کو اتحاد کا سبق یاد رکھنا چاہئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved