کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی چھوڑنے والی ارم عظیم فاروقی نے ایسی تصویر شیئر کردی کہ عمران خان شرم سے پانی پانی ہوجائیں گے
  10  فروری‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

کراچی (نیوز ڈیسک) نقیب اللہ محسود کو مبینہ طور پر جعلی مقابلے میں مارنے والے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر ایک وقت وہ بھی آیا تھا جب تحریک انصاف کی جانب سے ان کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا لیکن اب ایک وقت یہ بھی آگیا ہے کہ جعلی پولیس مقابلوں میں مہارت رکھنے والے راؤ انوار تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی بجائے روپوش ہوچکے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی سابق رہنما ارم عظیم فاروقی نے ٹوئٹر پر نقیب اللہ محسود قتل کیس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں پی ٹی آئی فاٹا کے کارکن راؤ انوار کے حق میں مظاہرہ کر تے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ایک بینر اٹھا رکھا ہے جس پر انہوں نے ایم کیو ایم پر پابندی کا مطالبہ درج کر رکھا ہے جبکہ راؤ انوار کو قومی ہیرو قرار دے رکھا ہے۔ارم عظیم فاروقی نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ” راؤ انوار کا ساتھ نہ دیتے تو آج نقیب محسود زندہ ہوتا“۔ خیال رہے کہ

ارم عظیم فاروقی تحریک انصاف کا حصہ بننے سے پہلے ایم کیو ایم میں تھیں تاہم انہوں نے 22 اگست کی بانی متحدہ کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ ارم عظیم فاروقی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ” راؤ انوارکا روپوش ہونا خبر نہیں بلکہ خبر یہ ہے کہ راؤ انوار کو اتنا ٹائم دیا گیا کہ وہ روپوش ہوجائے، اگر پہلے ہی اسے گرفتار کرلیتے تو نقیب محسود قتل نہ ہوتا اور نہ ہی کوئی بے گناہ دہشتگرد قرار پاتا“۔ ارم عظیم فاروقی نے مزید کہا کہ راؤ انوار تحقیقاتی ٹیم سے نہیں چھپ رہا بلکہ محسود قبیلے کے ان دوستوں اور خاندان کے لوگوں سے چھپ رہا ہے جو اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ واضح رہے کہ راؤ انوار نے 16 ستمبر 2016 کو سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کیا تھا جس پر انہیں معطل کردیا گیا تھا، ارم عظیم فاروقی کی طرف سے شیئر کی جانے والی تصویر ممکنہ طور پر اسی وقت کی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
83%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
17%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved