آپ بڑھتی عمر کے اثرات روکناچاہتے ہیں تو۔۔۔ اس مزیدار چیز کو کھاناشروع کردیں
  13  فروری‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

مچھلی، سی فوڈ، پنیر، سرخ گوشت، انڈوں اور چکن سمیت کم کاربوہائیڈریٹس والی سبزیاں جیسے پالک پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال بڑھاپے کی جانب سفر سست یا سدا بہار جوانی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے. یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا.گلیڈاسٹون انسٹیٹوٹ فار وائرولوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کتون زا غذا یا زیادہ چکنائی اور کم مقدار میں گوشت نشاستہ دار غذا عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی تنزلی کا باعث بننے والے عناصر جیسے امراض قلب، الزائمر اور کینسر وغیرہ کی روک تھام کرتی ہے. تحقیق کے مطابق جب جسم کاربوہائیڈریٹس کی کمی محسوس کرتا ہے تو وہ ایسا کیمیکل خارج کرتا ہے جو خلیات کو 'اندرونی تناؤ' سے تحفظ دیتا ہے، یہ تناؤ خلیات میں جنیاتی نقصان کا باعث بن کر بڑھاپے کا باعث بنتا ہے. تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج کا اطلاق متعدد دماغی عوارض جیسے الزائمر، پارکنسن، آٹزم اور دماغی انجری کا باعث بنتا ہے اور یہ امراض دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتے ہیں جبکہ علاج کے آپشن بہت کم ہیں. تحقیق کے مطابق کیتون زا غذا پر جسم کاربوہائیڈریٹس کی بجائے توانائی کے لیے چربی کو گھلاتا ہے.

اس تحقیق کے دوران جب چوہوں پر اس غذا کے تجربات کیے گئے تو ان کے جسموں میں ایک یمیکل کی سطح بڑھی جس نے جنیاتی نقصان پہنچانےوالے انزائمے کے اثرات کو بلاک کردیا. محققین کا کہنا تھا کہ برسوں کی تحقیق کے دوران ہم نے دریافت کیا کہ کیلوریز کا کم استعمال بڑھاپے کی رفتار سست اور طویل العمری کا امکان بڑھادیتا ہے. انہوں نے بتایا کہ بی او ایچ بی نامی کیمیکل ورزش یا فاقے کے دوران جسم کا توانائی کے حصول کے لیے بنیادی ذریعہ ہوتا ہے جو نقصان دہ انزائمے کی روک تھام کرتا ہے اور خلیات کو بڑھاپے سے بچاتا ہے. اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوئے.


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved