جب انسان مرتا ہے تو اس کی آ نکھیں کیوں کھلی رہتی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی کیا وجہ بتائی؟ جان کر آپ بھی لرز جائیں گے
  14  فروری‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں۔سائنس اسکا جو بھی جواب دے لیکن ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑا حکمت افروز جواب کیا ہوسکتا ہے جو آقائے دوجہان ﷺ نے دیا تھا اور اس راز لافانی سے آگاہ فرمادیا تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں کو نظر نہیں آتا۔مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق حضرت ابوسلمہؓ کا جب آخری وقت آیا تورسول اللہ ﷺان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پردے کے دوسری طرف عورتیں رورہی تھیں۔ آپﷺ نے فرمایا’’ میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے

تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں‘‘ جب حضرت ابوسلمہؓ کا دم نکل گیا تو آپﷺ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔آپﷺ نے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگیں، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسلمہؓ کے لیے یوں دعا فرمائی’’ اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتوں (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کر دے ‘‘ حضرت ابوسلمہؓ سابقون الاولین صحابہ کرام میں سے تھے ،روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابو سلمہؓ کی نماز جنازہ کے دوران پہلی بار نو تکبریں کہی تھیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved