دونوں ڈوب رہےہیں
  14  فروری‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

شریعت مطھرہ نے ماں اور بیوی دونوں کو علیحدہ حیثیت اورمرتبہ دیا ہے اور دونوں کے علیحدہ حقوق مقرر کئے ہیں اس طور پر کہ دونوں کے مرتبہ اور مقام کو سمجھ کر اگر کوئی شخص ان کے حقوق کی بجا آوری کرے تو کبھی ٹکراؤ کی کوئی کیفیت پیدا ہونے کی نوبت ہی نہیں آئے، چہ جائیکہ ایسی نوبت آئے کہ دونوں ڈوب رہےہوں اور بندہ اس تذبذب میں مبتلاء ہوجائے کہ اس موقع پر کس کو بچائے اور کس کو ڈوبنے دے۔ بس اتنا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ رب العزت نے ماں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ماں کی اطاعت وفرمانبرداری کو بھی لازم قرار دیا ہے ۔

جبکہ بیوی کے صرف حقوق کی ادائیگی لازم ہے نہ کہ اس کی اطاعت شعاری وفرمانبرداری، بلکہ بیوی کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اپنے شوھر کی مطیع وفرمانبردار بن کے رہے۔ اس بنیاد کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب ترجیح دینے کی بات آئے تو ماں کا رشتہ قابل ترجیح ہے ، احترام دونوں ہی کو اپنے مرتبہ کے لحاظ سے حاصل ہے اور ذمہ داریاں بھی دونو ں سے متعلق الگ الگ طے ہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved