’’سری لنکن جوتشیوں سے ملنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹونے اپنے ہاتھوں کے پرنٹ لندن کے ایک پامسٹ کو بھیجے تو اس نے کہا کہ ۔۔۔‘‘پیپلزپارٹی کے بان
  10  مارچ‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو علم نجوم روحانیت اور دست شناسی پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے ۔انہوں نے اپوزیشن کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ایک سال پہلے ہی مڈٹرم الیکشن کرانے کی تاریخ کا اعلان کردیا تو خود انکے قریبی ساتھی بھی حیران رہ گئے تھے۔ایک تحقیق کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ان کے دوست عمر قریشی ، پیلو مودی ،پی اے الانہ، اورحنیف رامے ذوالفقار علی بھٹو کے اس جنون سے واقف تھے ،انہوں نے مڈٹرم الیکشن کا اعلان کرنے کے لئے غیر معمولی جرات سے کام لیا تھا ۔تحقیق کے مطابق اس وقت انہوں نے سری لنکا کے جوتشیوں سے اس تاریخ بارے مشورہ بھی کیا تھا اور اسکے لئے انہوں نے پیپلزپارٹی کے ایک رہ نما پی اے الانہ کو یہ مشن دیکر سری لنکا بھیجا تھا ۔پی اے الانہ قائد اعظم کے معتمد جی اے الانہ کے صاحبزادے تھے جن کے بارے مشہور تھا کہ وہ اچھے دست شناس بھی تھے اور بھٹو کو اس بارے مشورے بھی دیا کرتے تھے،انہوں نے بھٹو کا ہاتھ بھی دیکھا تھا جس کی وجہ سے وہ بھٹو کے قریب ہوگئے تھے۔ پی اے الانہ سری لنکا سے واپس آئے تو انہوں نے بھٹو کو بتایا کہ سری لنکن جوتشیوں نے 7 مارچ1977 کی تاریخ کو شبھ گھڑی قراردیا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹونے 7 مارچ1977 کے روز الیکشن کی تاریخ کا اعلان تو کردیا تھا لیکن ان کے اندر ایک بے چینی بھی پائی جاتی تھی۔انہوں نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور ذاتی دوست حنیف رامے سے کہا کہ وہ ان کے ہاتھوں کے پرنٹ لیکر لندن میں موجود عالمی شہرت یافتہ پامسٹ ایم اے ملک سے رابطہ کریں اور ان کے پرنٹ دکھا کر ان کی رائے لیں ۔ان دنوں ایم اے ملک لندن میں بہت زیادہ مصروف تھے ۔انہوں نے بھٹو کے ہاتھ کا مطالعہ کیا لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔

جب ان سے ا س بارے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کرلی کہ وہ فی الحال بھٹو کے ہاتھ بارے کچھ نہیں بتانا چاہتے۔ تاہم ایک سال بعد جب بھٹو قصوری قتل کیس میں کوٹ لکھپت جیل میں بند تھے تو ایم اے ملک نے مولانا کوثر نیازی کو اپنے گھر بلایا اور انہیں بھٹو کے ہاتھوں کے پرنٹ دکھا کر کہا’’کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ ان کے دماغ کی لکیر سے ایک لکیر جھک کر زندگی کی لکیرپر جزیرہ بنا کر مل جاتی ہے تو اسکا مطلب کیا ہوسکتا ہے ‘‘ اس پر مولا نا کوثر نیازی نے خاموشی اختیار کی تو ایم اے ملک نے اسکی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’ اس آدمی کا سر اسکو پھندے میں ڈال دے گا‘‘ مولانا کوثر نیازی نے ہی یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو جب سری لیکن کے دورے پر گئے تو انہوں نے سری لنکا کی وزیر اعظم مسز بندرانائکے سے کہہ کر سری لنکا کے ماہر جوتشیوں سے ملنے کی تمنا کا اظہار کیا اور ان سے 7 مارچ1977 کی تاریخ بارے پوچھا تھا کہ اگر وہ اس تاریخ کو الیکشن کرانے جارہے ہیں تویہ کیسا رہے گا ،جس پر تمام جوتشی خاموش رہے تو ایک بوڑھے جوتشی نے کہا ’’ اب جبکہ آپ نے ا س تاریخ کا اعلان کردیا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں‘‘۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
57%
ٹھیک ہے
14%
کوئی رائے نہیں
14%
پسند ںہیں آئی
14%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved