بچھو کی پیدائش
  13  جون‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

حضرت سعدی فرماتے ہیں “میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ بچھوؤں کی پیدائش عام جانوروں کی طرح نہیں ہوتی، اپنی ماں کے پیٹ میں جب یہ کچھ بڑا ہو جاتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے. اور یوں سوراخ کر کے باہر آ جاتا ہے.”سعدی فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات ایک دانا کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ بات درست ہی ہو گی . بچھو کی فطرت اور عادت پر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس نے اپنی زندگی اپنی زندگی کے پہلے دن سے برائی ہی کی ہوگی. . . “حضرت سعدی نے اس حکایت میں بچھو کی پیدائش اور فطرت کا حوالہ دے کر بدفطرت لوگوں سے علحیدہ رہنے کی تلقین فرمائی ہے . . . جو شخص اپنوں سے وفا نہیں کرتا وہ غیر کا کیسے ہو سکتا ہے۔ مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہوتا ہے- یہ وہ مقام ہے جہاں تمام مسلمان اکھٹے ہو

کر عبادت کرتے ہیں- دنیا بھر کی مساجد اسلامی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں- سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے اور اس مسجد کی خوبصورتی دیکھ کر انسان کی سانسیں تھم سی جاتی ہیں- مسجد نبوی ایک قدیم مسجد ہے جس کی اب تک متعدد بار توسیع اور تزئین و آرائش کی جاچکی ہے- ہم یہاں مسجد نبوی سے متعلق ایسے حیران کن حقائق بیان کریں گے جن سے آپ اب تک ناواقف تھے-بجلی کی سہولت سلطنتِ عثمانیہ نے جب عرب جزائر میں بجلی متعارف کروائی تو سب سے پہلے مسجد نبوی میں یہ سہولت فراہم کی گئی- بعض روایات کے مطابق اس سے چند سال قبل ہی سلطان کے استنبول میں واقع محل میں بجلی کی سہولت مہیا کی گئی تھی-موجودہ مسجد قدیم شہر سے بھی بڑی موجودہ مسجدِ نبوی کا رقبہ قدیم مسجدِ نبوی کے مقابلے میں 100 گنا بڑا ہے اور یہ مسلسل توسیع کا نتیجہ ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسجد پورے قدیم شہر مدینہ پر پھیلی ہوئی ہے- اس بات کا اندازہ ایسے بھی لگایا جاسکتا ہے مقبول ترین قبرستان جنت البقیع پہلے مدینہ شہر کے اطراف میں واقع تھا لیکن اب اس کی سرحد مسجد نبوی سے ملحق ہے-خالی قبر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرہ مبارک میں موجود نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم٬ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی قبور کے ساتھ ہی ایک خالی جگہ بھی موجود ہے- اس کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دفن کیا جائے گا-آگ ماضی میں قدیم مسجدِ نبوی کا زیادہ تر حصہ آگ کا شکار بن چکا ہے- یہ آگ بہت وسیع پیمانے پر پھیلی تھی اور کافی تباہی ہوئی تھی- یہاں تک مسجدِ نبوی کی چھت اور دیواریں بھی اس کی لپیٹ میں آگئی تھیں-کوئی گنبد نہیں تھا نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے 650 سال بعد تک روضہ مبارک کے اوپر کوئی گنبد موجود نہیں تھا- پہلی بار 1279 میں مملوک سلطان نے یہاں گنبد تعمیر کروایا جو لکڑی سے تیار کردہ تھا- اب یہاں دو گنبد ہیں جن میں سے ایک اندر کی جانب ہے-مختلف رنگ اس طویل عرصے کے دوران گنبد کو متعدد بار مختلف رنگوں سے آراستہ کیا گیا ہے- ایک بار اسے سفید رنگ میں بھی ڈھالا گیا جبکہ یہ گنبد طویل عرصے سے تک جامنی رنگ سے بھی آراستہ رہا ہے-تین محراب زیادہ تر مساجد میں 1 محراب بنایا جاتا ہے لیکن مسجدِ نبوی میں 3 محراب بنائے گئے ہیں- حالیہ امامت کے لیے استعمال ہونے والے محراب کے علاوہ دیگر محراب قدیم ہیں- ان میں سے ایک محراب کو سلیمانیہ محراب کہا جاتا ہے جسے سلطان سلیمان کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
92%
ٹھیک ہے
6%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
1%



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved